تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

پی ٹی آئی اور قومی وطن پارٹی کا اتحاد بس یہی تک۔۔۔

zafar ali shah logoخیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے 13نومبر کوحکومت میں شامل اہم اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی کے دو وزراء بخت بیدار خان جن کے پاس محنت و افرادی قوت کا قلمدان تھااور ابرار حسین جوکہ وزیرجنگلات تھے کی وزرارتیں ان سے واپس لی ہیں دونوں وزراء پر غیرقانونی بھرتیوں،اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں جبکہ ان کے محکموں کی کارکردگی بھی انتہائی ناقص قراردی گئی ہے ۔ویسے تو بی اے کی جعلی ڈگری کے معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قراردئے جانے پر ایک اور صوبائی وزیر یوسف ایوب جن کے پاس مواصلات کا قلمدان تھا کی بھی کابینہ سے چھٹی کرادی گئی ہے تاہم ان کا تعلق تحریک انصاف سے ہے جبکہ قومی وطن پارٹی کے وزراء کے خلاف اقدام اٹھانے اور الزامات عائد کرنے کے پیش نظر نہ صرف پارٹی کے صوبائی صدر سکندرخان شیرپاؤ نے بطور احتجاج سینئر صوبائی وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا بلکہ قومی وطن پارٹی نے تحریک انصاف کے ساتھ اتحادختم اور راستے جداکرنے کا بھی فیصلہ کیا۔اگر دیکھا جائے تو دونوں جماعتوں کا اتحاد ختم ہونے کی بازگشت کافی عرصے سے سنائی دی جارہی تھی اور رواں ماہ کے شروع میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے ڈرون حملوں کے خلاف بطور احتجاج نیٹو سپلائی لائن بند کرنے کے اعلان کے بعد قومی وطن پارٹی کے سربراہ افتاب احمد خان شیرپاؤ کی جانب سے یہ بیان سامنے آنے پر کہ ان کی جماعت کو اس فیصلے کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیاگیاہے دونوں جماعتوں کے مابین پیدا ہونے والے فاصلے کی نشاندہی اور مستقبل قریب میں غیرمعمولی صورتحال جنم لینے کی نوید سنارہاتھا۔بہرحال وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والی اطلاعات اور معلومات کے مطابق فارغ کئے جانے والے قومی وطن پارٹی کے وزراء بدعنوانی اور غیر قانونی بھرتیوں جیسے اقدامات میں ملوث پائے گئے ہیں ادھر بتایاجاتاہے کہ پارٹی کے چیئرمین عمران خان نے وزراء کی کارکردگی پر چیک اینڈ بیلنس کے لئے ایک خصوصی سیل وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں قائم کیا ہواہے جو ہر مہینے وزراء کی کارکردگی اور ان کے ملنے جلنے سمیت دیگر حساس معلومات بھی عمران خان کو فراہم کرتاہے ۔اور اس خصوصی سیل کی رپورٹ کی روشنی میں عمران خان نے ان وزراء کی برطرفی کی سفارش کی تھی ۔قومی وطن پارٹی کے برطرف وزیر بخت بیدار خان نے اپنے خلاف تحریک انصاف کے تمام الزامات کو یکسرمسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو سامنے لائیں جبکہ ابرارحسین نے تو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا بھی اعلان کردیاہے ۔ادھر قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمدخان شیرپاؤبیرون ملک دورے پر ہیں تاہم ان کی عدم موجودگی میں پارٹی کے صوبائی صدرسکندرخان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے وزراء کا گند قومی وطن پارٹی پر ڈالنے کی کوشش کی ہے انہوں نے 14 نومبر کو الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان خودغیرقانونی بھرتیوں میں ملوث ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے میڈیا کو ان کا ایک سفارشی خط بھی دکھایا اور کہا کہ وہ عنقریب مزید ثبوت بھی سامنے لائیں گے ۔اس سے قبل سکندرخان شیرپاؤ نے یہ بیان بھی دیاتھا کہ پختون دشمن اتحاد کے ساتھ مزید نہیں چل سکتے مگر ان کایہ بیان اس حوالے سے اہمیت نہیں رکھتا کہ یہ ان کے وزراء کے خلاف تحریک انصاف کی کارروائی کے بعد سامنے آیا اگر پہلے آیاہوتا تو ان کاسیاسی قد کاٹھ بڑھ جاتا ۔دوسری جانب تحریک انصاف نے بھی قومی وطن پارٹی کی جانب سے تحریک انصاف کی قیادت پر لگائے جانے والے الزامات کو یکسر مسترد کیا ہے پارٹی کی ترجمان شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ قومی وطن پارٹی اپنے وزراء کی کرپشن چھپانے کے لئے ذاتیات پر اتر آئی ہے۔ خیبرپختونخوا ہ حکومت میں شامل دو اہم اتحادی جماعتوں تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کااتحادختم ہونے پرعوام کو افسوس اس حوالے سے ہورہاہے کہ صوبے میں تشکیل اقتدارکے بعدکہا جارہاتھا اورامید کی جارہی تھی کہ یہ اتحادنظام کی تبدیلی کے لئے انتہائی اہم ثابت ہوگااورمخلوط حکومت جو کہ جماعت اسلامی،قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف جیسی جماعتوں پر مشتمل ہے ایک مثالی حکومت قرار پائے گی اور تینوں اتحادی جماعتیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے اس دفعہ ایسی کوئی بھی غلطی نہیں کرے گی جس سے نہ صرف اتحاد برقرار رکھنے میں کوئی دشواری ہو بلکہ ترقی و خوشحالی کاسفربھی متاثرہومگر ایسا ہوا نہیں اور صوبے کی مخلوط حکومت میں شامل قومی وطن پارٹی کے لئے اقتداردو دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات ثابت ہوالیکن ایسا کیوں ہواایسے میں سراٹھاتایہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کا حکومتی اتحاد غیرفطری تھاجومحض چند ماہ کی رفاقت پر محیط ثابت ہوااور اب قومی وطن پارٹی کے وزراء فارغ اور تحریک انصاف حکومت چلانے کے لئے محض جماعت اسلامی کے رحم وکرم پر رہ گئی ہے ۔انتخابی اور حکومتی اتحاد تو 2002 میں متحدہ مجلس عمل میں شامل جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کا بھی غیر فطری تھا جس کا بعد میں شیرازہ ہی بکھرگیا البتہ ان کو پھر بھی یہ کریڈٹ جاتاہے کہ دونوں جماعتوں ناراضگی ، اختلافات اور ایک دوسرے سے گلے شکووں کے باوجودحکومتی مدت کے پانچ سال کا سفر ایک ہی پلیٹ فارم تلے طے کیا تھااُن کے اختلافات اختیارات کے حوالے سے ضرور تھے م
گر کرپشن کی بنیاد پر نہیں تھے جبکہ تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کے مابین اختیاارت کی جنگ کے برعکس معاملہ کرپشن کا سامنے آگیا ہے اور دونوں جماعتوں کے رہنماء ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات عائد کرتے سنائی دے رہے ہیں۔صوبائی حکومت سازی کے وقت مولانا فضل الرحمان کی کوشش تھی کہ نون لیگ ، قومی وطن پارٹی اورآزاد اراکین کو ساتھ ملاکر حکومت تشکیل دیں مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی اور قومی وطن پارٹی نے تحریک انصاف کے ساتھ حکومت تشکیل دینے پر اکتفا کیا۔اگرچہ حکومت سازی کے بعد بھی جے یوآئی نے حکومت پر کئی تابڑتوڑحملے کئے مگر کامیاب نہیں ہوسکی۔لیکن اب کیا ہوگا کیا تحریک انصاف جسے سادہ اکثریت سے زیادہ اراکین کی حمایت حاصل ہے قومی وطن پارٹی کے بغیر حکومت چلاتی رہے گی اور کسی اور جماعت کے ساتھ اتحاد کا سوچے گی نہ ہی کوئی پرواہ کرے گی یا پھرقومی وطن پارٹی کی جگہ کسی اور جماعت کے ساتھ اتحاد کے لئے رجوع کرے گی اور اگر ایسا کرتی بھی ہے تو کیا اس کی نظر جے یو آئی پر ہوگی یا کسی اور جماعت پراگرچہ حکومت سازی سے لے کر اب تک تحریک انصاف اور جے یو آئی کے مابین شدید اختلافات رہے ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے لگتا تو نہیں کہ دونوں جماعتیں اتحاد کے لئے راضی ہوسکتی ہیں البتہ سیاست میں کوئی بات حرفِ آخر نہیں ہوتی اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔۔ایسے میں کیا مولانا فضل الرحمان ایک بار پھر حالات کی نزاکت کے مطابق حکومت سازی کے لئے متحرک ہوں گے اور اگر وہ حکومت میں آنے کی خواہش رکھتے بھی ہیں تو کیا پی ٹی آئی کے ساتھ چلناپسند کریں گے یا ان کی ترجیح کوئی اور صف بندی ہوگی جبکہ نون لیگ کے ترجمان اور وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹرپرویزرشید نے توواضح الفاظ میں کہا ہے کہ ان کی جماعت خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے خلاف کسی مہم جوئی کا حصہ ہر گز نہیں بنے گی۔۔اب ہوگا کیا صورتحال چند دنوں میں واضح ہوجائے گی۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!