تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

پی ٹی آئی ۔۔۔اُمید پر دُنیا قائم ہے

zafar ali shah logoخیبرپختونخوامیں قائم تحریک انصاف کی مخلوط حکومت کی اب تک کی کارکردگی کیارہی،چھ ماہ سے زائد عرصے میں حکومت نے کیاقابل ذکر اقدامات اٹھائے ،کیاتحریک انصاف ان وعدوں پر عمل پیرانظرآئی ہے جو اس نے عام انتخابات سے قبل عوام سے کئے تھے اور جنہیں بنیاد بناکر عوام نے اسے انتخابی کامیابی سے ہمکنارکیاتھا،کیابدعنوانی کی روک تھام اور بلااِمتیازاحتساب کاعمل شروع ہوتانظرآیاہے،کیانظام میں تبدیلی کی دعویدارتحریک انصاف اداروں کوتبدیلی کے ٹریک پر لانے میں کامیاب رہی ہے،کیا صوبائی حکومت قیام امن میں کامیاب ہوتی نظرآئی ہے،کیاترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص فنڈز کی رقم خرچ ہوناشروع ہوگئی ہے ،کیاعوام اس حکومت کی اب تک کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟صوبائی حکومت کی اب تک کی کارکردگی کے حوالے سے اٹھتے اورعوامی ،سیاسی اورسماجی حلقوں میں زیرتبصرہ ان سوالات کے جوابات دئیے بغیرنہ صرف صوبائی حکومت کی کارکردگی متاثرہوگی بلکہ تحریک انصاف بھی مشکلات سے دوچارہوگی اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کرنے میں۔۔کیونکہ اس میں تو کوئی دورائے نہیں کہ تحریک انصاف کامستقبل کیاہوگا بلاشبہ انحصارکرے گاخیبرپختونخواکی موجودہ حکومت کی کارکردگی پر۔۔آج تحریک انصاف ڈرون حملوں کے خلاف نیٹوسپلائی بند کرکے دھرنے دے رہی ہے گوکہ ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرنا اور بطوراحتجاج نیٹوسپلائی کی بندش کے اقدامات سے کسی کوکوئی اختلاف نہیں کیونکہ یہ ہمارے ملک کی سالمیت کے خلاف کھلی جارحیت بھی ہے اور ڈرون حملوں میں معصوم شہری لقمہء اجل بھی بنتے ہیں لیکن ایساکرناصوبائی حکومت کے دائرہ اختیارمیں ہے یا وفاقی حکومت کے دائرہ اختیارمیںیہ سوال بہرحال موجودہے۔ قابل ذکربات یہ بھی ہے کہ صوبائی حکومت کی تشکیل کے بعد وزیراعلیٰ پرویزخٹک کا کہنایہ تھا کہ وہ نیٹوسپلائی لائن بند نہیں کریں گے کیونکہ یہ خارجہ پالیسی کا حصہ ہے اور یہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ وزیراعلیٰ کا کہنایہ بھی تھا کہ کرپشن کے روک تھام کے لئے ایسا غیرجانبدار اور بااختیارکمیشن بنارہے ہیں جو نہ صرف وزراء اور سرکاری اہلکاروں کا احتساب کرے گا بلکہ وزیراعلیٰ بھی اس کمیشن کوجوابدہ ہوں گے مگرآج تک ان کا تشکیل کردہ احتساب کمیشن تووجود نہ پاسکااور تضادات کاشکار بھی ہے وزیراعلیٰ کا دعویٰ ہے کہ کمیشن تشکیل پاچکاہے جبکہ وزیراطلاعات شاہ فرمان کہتے ہیں کہ کمیشن ابھی بنانہیں اس پرکام جاری ہے۔تاہم کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے کمیشن کی تشکیل سے پہلے ہی کرپشن کے الزامات کے تحت دو حکومتی وزراء بخت بیدارخان اور ابرار حسین کو برطرف کرکے احتساب کا آغازکرلیاہے البتہ یہ اور بات ہے کہ قومی وطن پارٹی کے برطرف وزراء اور ان کی جماعت کے اس پرزورمطالبہ کے باوجودکہ ان کے خلاف اگر کرپشن کے ثبوت ہیں تو سامنے لائے جائیں تحریک انصاف اور صوبائی حکومت اب تک برطرف وزراء کے خلاف کرپشن کے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے لانے سے یکسر قاصررہے ہیں ۔اگرچہ کرپشن کے معاملے میں وزراء کی برطرفی سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو لیکن الزام لگانا مگرثبوت پیش نہ کرنا بھی انصاف کے تقاضوں کوپورانہیں کرتی۔اس ضمن میں قومی وطن پارٹی کے صوبائی صدر سکندر خان شیرپاؤ کا کہنایہ ہے کہ ان کی جماعت خیبر پختونخواحکومت کا حصہ بنی تھی مگر کئی ایشوز پر شروع دن سے ان کے آپس کے اختلافات تھے جوان کے وزراء کی برطرفی اور قومی وطن پارٹی کاتحریک انصاف کیساتھ حکومتی اتحادختم کرنے کے باعث بنے۔دوسری جانب اگر ذکرہو قیام امن کا تو لگتایہ ہے کہ سب کچھ جوں کا توں ہے اور کوئی بھی واضح تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ بم دھماکے ہورہے ہیں جوکہ پہلے بھی ہورہے تھے۔سٹریٹ کرائمز کا بھی وہی حال ہے جو پہلے تھاروائتی تھانہ کلچر میں کوئی نمایاں تبدیلی آئی ہے نہ پٹوار کا نظام بدلاہے۔حکومتی کارکردگی کاتو یہ حال ہے کہ چاراورپانچ ماہ میں اپنے ممبران اسمبلی کے قاتلوں کا سراغ بھی نہیں لگاسکی عوام کی جان ومال کاتحف تو بہت دور کی بات ہے۔مہنگائی پر قابو پانے کے لئے کوئی قابل ذکر اقدامات اٹھائے گئے نہ ہی بیروزگاری کو کنٹرول کرنے کے لئے،یکساں نظام تعلیم اور مفت تعلیم کے نعرے تو لگائے گئے اور دعوے توکئے گئے مگرتعلیم مفت بھی ہواوریکساں بھی یہ آج بھی دیوانے کا خواب ہے۔سفارش کاخاتمہ ممکن ہوانہ ہی اقرباء پروری اور پسندوناپسند کی پالیسی میں کوئی بدلاؤنظرآیاہے۔میرٹ کے دعوے تو ہوتے رہے اور یہ سلسلہ بدستورجاری بھی ہے مگر سیاسی بنیادوں پر تعیناتیوں ،تقرریوں اور تبادلوں کے عمل پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ترقیاتی کاموں کاآغازاب تک نہیں ہوسکا اور چھ ماہ کا حکومتی عرصہ گزرنے کے بعد بھی ترقیاتی فنڈز کاایک روپیہ تک خرچ نہیں ہواجس کا اعتراف صوبائی وزیراطلاعات شاہ فرمان نے بھی کیاہے جب کہ ایسی صورتحال کے پیش نظرقومی وطن پارٹی سمیت دیگر پی ٹی آئی مخالف جماعتیںیہ کہنے میں حق بجانب بھی ہیں کہ جب تک ترقیاتی منصوبوں کا آغاز نہیں ہوگا اور ترقیاتی فنڈز کاخرچ ہوناشروع نہیں ہوگا تب تک معیار،شفافیت اور تحریک انصاف کے منتخب ممبران کی ایمانداری اور بدعنوانی کا پتہ کیسے چلے گا جب کہ اس بات کو بھی رد کیسے کیاجاسکتاہے کہ ترقیاتی عمل کا آغازنہ ہونے سے علاقائی پسماندگی بڑھے گی۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ہم

یہ بھی پڑھیں  تبدیلی بھی کام نہ دکھا سکی،خیبرپختونخوا میں آج پہلا روزہ ہوگیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker