علاقائی

پنجاب اسمبلی اجلاس،پوائنٹ آف آرڈر کی اجازت نہ ملنے پرساجدہ میراوررفعت سلطانہ ڈارکااحتجاجاواک آؤٹ

لاہور﴿ سٹاف رپورٹر﴾پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی رکن رانا ارشد کی جانب سے بجلی ‘ گیس او رپٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف اظہار خیال پر جواب کے لئے پوائنٹ آف آرڈر کی اجازت نہ ملنے پر ساجدہ میر اور رفعت سلطانہ ڈار احتجاجاواک آئوٹ کر گئیں ۔ گزشتہ روز رانا ارشد نے وقفہ سوالات سے قبل پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑے ہو کر بولنا شروع کر دیا اور پٹرولیم مصنوعات‘ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے عوام پر ایٹم بم گرایا ہے یہ قابل مذمت ہے اور ایوان کو اسکی مذمت کرنی چاہیے ۔ قیمتوں میں حالیہ اضافہ عوام سے زیادتی ہے جس پر سپیکر نے انہیں کہا کہ آپ بیٹھ جائیں ۔ آپ کی یہ گفتگو مناسب نہیں ایوان کی کارروائی کو شیڈول کے مطابق چلنے دیں ۔ جس پر انہوں نے کہا کہ یہ عوام کا مسئلہ ہے اس پر بات ہونی چاہیے ۔پیپلزپارٹی کی رکن ساجدہ میر کھڑی ہو گئیں اور کہا کہ ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ پنجاب میں کونسی دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں ہمیں اسکا جواب دیا جائے ۔ پنجاب میں چوروں ڈاکوئوں کا راج ہے ایک ایس ایچ او بھی حکومت کے کنٹرول میں نہیں‘ روز قتل اور ڈاکے پڑ رہے ہیں ۔ اس موقع پر علی اصغر منڈا نے کہا کہ یہ عوام کا مسئلہ ہے اس پرایوان میں بات ہونی چاہیے ‘ اس پر بحث کے لئے ایک دن مخصوص کیا جائے ۔ یہ عوام سے زیادتی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے اراکین کی طرف سے چور مچائے شور والا ڈرامہ نہیں چلنے دیں گے ۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کی رفعت سلطانہ ڈار بھی کھڑی ہو گئیں اور کہا کہ ہمیں ان باتوں کا جواب دینے کے لئے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت دی جائے لیکن سپیکر نے کہا کہ ایجنڈے کے مطابق کارروائی چلائی جائے گی ۔ جس پر ساجدہ میر اور رفعت سلطانہ ڈار نے کہا کہ ہم احتجاجاواک آئوٹ کرتی ہیں جس پر سپیکر نے کہا کہ یہ آپ کی مرضی ہے ہم نے کارروائی کو چلانا ہے جس پر دونوں ایوان سے واک آئوٹ کر گئیں بعد ازاں دونوں اراکین کو منا کر ایوان میں واپس لایا گیا۔اس موقع پر رانا محمد ارشد دوبارہ کھڑے ہو گئے اور بات کرنا چاہی تو سپیکر نے انہیں سختی سے بٹھا دیا اور کہا کہ آپ ہمیشہ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ آپ کا طرز عمل درست نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  لاہور:پی پی 168کامستقبل پی ٹی آئی کی کامیابی سے وابستہ ہے: اسدعلی کھوکھر

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker