پاکستانتازہ ترین

پنجاب اسمبلی نے پولیو رضا کاروں پر حملوں کے خلا ف مزمتی قراداد منظور

punjab assemblyلاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی نے پولیو رضا کاروں پر حملوں کی مذمت کی ہے اور متاثرہ علاقوں میں یہ مہم بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے یہ مطالبہ ایک متفقہ قرارداد میں کیا گیا ہے ۔ جمعہ کے روز اجلاس کے دوران حکومتی رکن اعجاز احمد خان نے آؤٹ آف ٹرن قرارداد پیش کی جس کی پورے ایوان نے تائید وحمایت کی ، قرار داد میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ ایوان کراچی، پشاور اور چار سدہ میں پولیو ورکرز کی ہلاکت کی پرزور مذمت کرتا ہے، یہ ایوان پولیو ورکرز کے اہل خانہ اور لواحقین سے اظہار تعزیت کرتا ہے، اس ایوان کی رائے ہے کہ دہشت گرد ہمارے ملک کی آئندہ نسل کو اپاہج کر کے وطن عزیز کو صحت کے مسائل سے دو چار کرنا چاہتے ہیں جو کسی طرح اہل پاکستان کے لئے قابل قبول نہیں ہے، یہ ایوان وفاقی حکومت اور یونیسف سے مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان کے متاثرہ علاقوں میں انسداد پولیو مہم دوبارہ بحال کی جائے۔وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن رکن سیمل کامران کے سوال کے جواب میں وزیر آبپاشی ملک احمد علی اولکھ نے ایوان کو بتایا کہ پنجاب میں نئے 18آبی ذخائر کی فزیبلٹی رپورٹس تیار ہیں تین پر کام کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کے کام میں صورت پیدا کی جائے گی تاکہ تعمیر مقررہ وقت میں ممکن ہو سکے، انہوں نے جاری مالی سال کے دوران شروع کئے جانے والے چھوٹے ڈیموں کی تفصیل بیان کی سوڑا ڈیم 537.47 ملین روپے کی لاگت سے ، ارڑ مغلاں ڈیم 651ملین اور چاہان ڈیم پر 847.212 ملین روپے کی لاگت آئے گی اور اس کے لئے ابتدائی فنڈز جاری کردی گئی ہیں اب تک ان پر 15فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ تینوں ڈیم 30 جون 2014 تک مکمل کرلئے جائیں گے، اپوزیشن رکن خدیجہ عمر کے سوال پر وزیرآبپاشی نے بتایا کہ اپر جہلم نہر پر بنائے جانے والے منی ڈیم میں پانی نہ بھرنے کے معاملے پر وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا، انکوائری کمیٹی قائم کی جس کی روشنی میں ذمہ دار افسروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ کاشتکاروں کو پانی کی عدم دستیابی کے سوال پر بحث کے دوران حکومتی رکن نے کہا کہ کالاباغ ڈیم نہ بنایا جانا بہت بڑی سازش ہے ، اراکین اس وقت تو پانی کی بوند بوند کی بات کررہے ہیں اگر کالاباغ ڈیم نہ بنا تو بوند بوند بھی نہیں ملے گی کیونکہ بھارت نے دریائے جہلم اور چناب پر جس طریقے سے ڈیم بنانے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے ہمیں پھر پانی نہیں ملے گا، اپوزیشن رکن منور غوث کے ضمنی سوال پر وزیر آبپاشی نے بتایا کہ ہر سال بھل صفائی کے لئے شیڈول بنتا ہے اس سال بھی اس پر کام کا آغاز ہونے والا ہے، کوشش کی جائے گی کہ بھل صفائی کے کام کو مقررہ وقت میں تعمیر کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیرآبپاشی نے بتایا کہ محکمہ جنگلات نے گجرات میں نہروں پر 37 ہزار پودے لگائے ہیں ، اپوزیشن اراکین نے مختلف محکموں کی طرف سے اسمبلی کو بروقت جواب ایوان میں فراہم نہ کرنے پر احتجاج کیا جس کا قائم مقام سپیکر رانا مشہود احمد نے سخت نوٹس لیا اور کہا کہ یہ اسمبلی سے مذاق ہے اور اس کے وقار کو ختم کرنے کی کوشش کے مترادف ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  آفتابِ ولایت گنج شکر

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker