شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / پنجاب کے ایک لاوارث شہر کے بے حس عوام

پنجاب کے ایک لاوارث شہر کے بے حس عوام

میرا ایک ایسے شہر سے تعلق ہے جو کئی صدیوں سے لاوارث چلا آرہا ہے۔ اس پر مستزاد جہاں کے عوام بھی مستقل طور پر بے حس ہیں۔ چوریاں ہوں، ڈاکے پڑیں، لوڈشیڈنگ کا عذاب سر پر مسلط رہے،گیس آئے نہ آئے، انٹرنیٹ کام کرے یا نہ کرے، شہر پر گندگی کا غلبہ ہو یا پھرواٹر فلٹریشن کا نظام ناکارہ ہو، گندے پانی کے نکاس کا نظام کام کرے یا نہ کرے،کوئی ذمہ دار سیاسی یا انتظامی شخصیت ایسی نہیں جس کو اس شہر کے باسیوں کا خیال ہواور نہ ہی یہ عوام اپنے حقوق کے لیے لڑنے مرنے کو تیار ہیں۔ میں صدیوں سے دیکھتا چلا آرہا ہوں یہ شہر اسی طرح سے چل رہا ہے بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آرہی۔ بلدیہ کی انتظامیہ ہو یا اسسٹنٹ کمشنر کا آفس سب کے سب آنکھیں موند کر بیٹھے ہوئے ہیں معاشرے کی آنکھ اور کان بند ہونے سے انتظامیہ اور پولیس کی موجیں ہیں اس شہر میں کئی ایک چوریاں اور ڈکیتیاں ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں کوئی کسی کی کاوش نظر نہیں آتی، میرے محلے میں غریبوں کی کریانے کی دکانیں لٹے کئی سال گزر چکے ہیں ابھی تک کوئی تحقیق و تفتیش کا سلسلہ آگے نہیں بڑھا اخبارات میں پڑھتا رہتا ہوں کہ فلاں علاقے یا تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنروں نے اپنے علاقے میں ہونے والے عوامی مسائل و مشکلات پر از خود نوٹس لیا ہے شہر کی گلیوں اور بازاروں کو کھنگالا ہے۔ ناجائز تجاوزات کے خاتمے کی سبیل پیدا کی ہے، ہوٹلوں اور ٹی سٹالوں کے شب و روز چیک کئے ہیں، مشروب اور چٹنیاں بنانے والوں کی خبر لی ہے، شہر کی سڑکوں کا جائزہ لیا ہے شہر میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا بنظر غائر جائزہ لیا ہے، سکولوں یا ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کی ہو، گلیوں کو بند کرنے والے قبضہ گروپوں سے پوچھ گچھ کی ہو۔ افسوس صد افسوس ہمارے شہر میں ہر آنے والے اسسٹنٹ کمشنر نے اپنا وقت جیسے تیسے ہو گزارا اور چلتا بنا۔ فخر سے نہیں کہہ سکتا کہ فلاں اے سی نے انقلابی اقدامات اٹھائے یا کئے ہیں موجودہ اسسٹنٹ کمشنر نے بھی ابھی تک کوئی ایسا انقلابی کام نہیں کیا جس کا میں یہاں ذکر کر سکوں۔ بعض انتظامی حلقے اس کی تعریف میں خبریں لگوانے کی فکر میں رہتے ہیں ایسے حلقوں کے کچھ نہ کچھ اپنے ذاتی مفادات ہوتے ہیں جو ایسا کر کے اپنے شہر کا نقصان کر کے خوش باش نظر آتے ہیں۔ میں ایسے صحافیوں سے نالاں ہوں جو ایسا فعل کر کے شہر کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ میری فیملی میں بھی ایسے افراد ہیں جو پبلک انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں وہ اپنے فرائض میں کسی قسم کی مزاحمت برداشت نہیں کرتے، انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہیں ایک آدھ صحافی ہے جو دیانتداری سے اپنے فرائض اداکرتا ہے اور وہ ہے میاں زبیر گل۔ میں اس کو سلیوٹ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ میرے شہر کے بددیانت سرکاری اور غیر سرکاری اہلکاروں اور افسروں کی خبر لیتے رہیں گے
اس شہر کی سڑکوں کی تعمیر میں ایسے ایسے گھپلے ہوئے ہیں بیان نہیں کر سکتا۔ریلوے روڈ کو”لینٹرڈ سڑک“ کے نام سے نوازا گیا جو شہر کی سب سے مہنگی سڑک ہے۔مگر افسوس یہ سڑک اپنے اندر ڈالے گئے لوہے کے سریے باہر نکال رہی ہے اور سب سے گھٹیا معیار کی سڑک کی تعمیر میں کس کس ظالم نے کمیشن کھائے شہر کی انتظامیہ کو معلوم ہونا چاہیے مگر مجھے علم ہے کہ کوئی نہیں بولے گا اور کرپشن کے دروازے کا کنڈا کھولے گا۔
میرے شہر کا کوئی سیاسی وارث ہوتا تو ایسا حال کبھی نہ ہوتاجو ہوا ہے۔میرے شہر کے بے حس عوام نے پھر اسی پارٹی کو ووٹ دے کر کامیاب کرایا ہے جس پارٹی کے کرتا دھرتا سیاسی لوگوں نے اس شہر کو جنت کی بجائے ایسی دوزخ بنایا جہاں ہم تا قیامت جلتے اور سڑتے رہیں گے۔ مستقبل بھی مخدوش نظر آرہا ہے کیونکہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے لوگ بھی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں جن کو فنڈز نہیں ملیں گے۔ یہ پانچ سال بھی بے حس عوام کے آرام سے گزریں گے اگر دکھ ہو گا تو بڑے سیاسی ورکروں کو۔
ہر شہر میں گورنمنٹ کامرس انسٹی ٹیوٹ قائم ہے جو اس شہر میں نہیں ہے اور نہ ہی قائم ہوتا نظر آتا ہے۔ پبلک لائبریری تھی جو بلدیہ اور انجمن رفاہ عامہ رجسٹرڈ کے تعاون سے چل رہی تھی جسے بلدیہ کی کرپٹ انتظامیہ کھا پی گئی۔ میں نے کئی بار تحریر کیا ہے کہ ہے کوئی جو میرے شہر کے مسائل و مشکلات کا مداوا کرے۔ نہیں ہے کوئی۔ مگر میں لکھنے سے باز نہیں آؤں گا چاہے مجھے کتنا ہی مسائل سے دوچار ہونا پڑے۔صنعتی کالونی کے قیام سے میرے شہر کی بے روزگاری کم ہو سکتی تھی مگرکوئی بھی اس طرف توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بلھے شاہ یونیورسٹی کے قیام کے لیے ہم چند دوستوں نے ہمت کی تھی مگر وہ سیاسی اپروچ نہ ہونے کے باعث دم توڑ گئی عدالتوں کے قیام کے لیے بھی ہم دوستوں نے شور مچایا جس کے نتیجے میں سیشن جج موقع دیکھ کر گیا پھر نہ آیا۔ اسی طرح ہم نے کئی مسائل کے حل کے لیے کوششیں کیں جو سیاسی سفارش نہ ہونے کی وجہ سے حل نہ ہو پائیں۔ اٹھو میرے شہر کے نوجوانو! اپنے حق کے لیے اپنے بہتر مستقبل کے لیے۔ورنہ یہ شہر آخر کارہڑپہ کے کھنڈرات کی شکل و صورت اختیار کر لے گا۔ اللہ تعالیٰ بھی ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔میرا کوٹ را دھا کشن قصور

یہ بھی پڑھیں  ملتان: میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ کا انعقاد