تازہ ترینغلام مرتضیٰ باجوہکالم

پنجاب میں 18ہزارسکولوں میں سہولیات کا فقدان

پاکستان میں تعلیم کی نگرانی وفاقی حکومت کی وزارت تعلیم اور صوبائی حکومتیں کرتی ہیں۔ وفاقی حکومت زیادہ تر تحقیق اور ترقی نصاب، تصدیق اور سرمایہ کاری میں مدد کرتی ہے۔ آئین پاکستان کی شق 25۔A کے مطابق ریاست 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی معیاری تعلیم فراہم کی پابند ہے۔پاکستانی بچوں میں سے صرف 80 فیصد ابتدائی تعلیم مکمل کرتے ہیں۔ معیار تعلیم کا نظام بنیادی طور پر برطانوی نظام سے اخذ کیا گیا ہے۔آٹھ مضامین جو عام طور پڑھائے جاتے ہیں وہ اردو، انگریزی، ریاضی، فن، سائنس، معاشرتی علوم،اسلامیات اور کمپیوٹر ہیں۔پاکستان میں ثانوی تعلیم نویں جماعت سے شروع ہوتی ہے اور چار سال جاری رہتی ہے۔ ان چار سالوں میں ہر سال کے اختتام پر طلباء کو ایک قومی امتحانی انتظام کے تحت ایک امتحان پاس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کا انتظام علاقائی بورڈ انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کرتا ہے۔ نویں اور دسویں سال کی تکمیل پر طلباء کو سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے جبکہ گیارہوں اور بارہوں سال کی تکمیل پر ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔
یونیسکو کے مطابق2009 میں 6.3 فیصد پاکستانی 2007ء میں (مرد 8.9 فیصد اور خواتیں 3.5 فیصد) جامعات سے فارغ التحصیل تھے۔ پاکستان ان اعداد و شمار کو 2015ء میں 10 فیصد کرنے اور 2020ء تک 15 فیصد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ماسٹر ڈگری پروگراموں میں زیادہ تر دو سال کی تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد ماسٹرز ان فلاسفی (ایم فل) کیا جا سکتا ہے۔ ایم فل کی تکمیل پر ڈاکٹر آف فلاسفی (پی ایچ ڈی) کی ڈگری کا حصول کیا جا سکتا ہے۔کوالٹی سٹینڈرڈ ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2010 کے مطابق دنیا کی چوٹی کی 200 طرزیات جامعات میں دو پاکستانی جامعات بھی شامل ہیں۔گیارہ دیگر پاکستانی جامعات کے سمیت جامعہ ہندسیات و طرزیات، لاہور، خلائی ٹیکنالوجی کا انسٹی ٹیوٹ، جامعہ قائداعظم، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، جامعہ کراچی کا شمار یونیورسٹیوں کی عالمی رینکنگ کے مطابق بہتریں 1000 عالمی جامعات میں کیا جاتا ہے۔
یوں تو گزشتہ پانچ برسوں میں خادم اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں ہماری حکومت نے فروغ تعلیم کے لئے انقلابی اقدامات کئے ہیں۔ ایک طرف تو دانش سکولوں کے قیام کا منصوبہ حکومت پنجاب کے اعلیٰ اور معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے وعدے کی طرف ایک اہم قدم ہے تو دوسری طرف ہم نے تمام سرکاری سکولوں میں بہترین تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لئے بھی اہم اقدامات کئے ہیں۔ بد قسمتی سے سیاسی مخالفیں نے دانش سکول جیسے انقلابی منصوبے کو بھی سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی اور اس کی افادیت پر سوال اٹھایا۔ شاید معاشرے کے غریب طبقات کے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی سہولتیں مہیا کرنا ہمارے ناقدین کو گوارہ نہیں۔ مجھ فخر ہے کہ حکومت پنجاب اس منصوبے کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ منصوبہ معاشی اور سماجی ناہموار یوں کے شکاربے وسیلہ مگر ذہین اور قابل طلبہ کو نئے مستقبل کی نویددے رہے ہے۔
آپ کو یادہو گاکہ جون 2013ء میں وزیرتعلیم پنجاب کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا عہد ہے کہ پنجاب کا کوئی ذہین اور باصلاحیت طالب علم محض مالی مشکلات کی وجہ سے اعلیٰ اور معیاری تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ ہماری حکومت نے پانچ سال پہلے طلباء کی تعلیمی معاونت اور ترغیب کے لئے مستقل بنیادوں پر پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا ہے۔ یہ فنڈ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف فروغ تعلیم کے لئے میرٹ کی بنیاد پر صرف کیا جاتا ہے۔ اس فنڈ میں اب تک حکومت پنجاب نے 9ارب روپے کی خطیر رقم مہیا کی ہے جو پورے صوبے مجیں 50ہزار سے زائد طلباء کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں مدد گار ثابت ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپریل 2011ء سے خادم پنجاب کی خصوصی ہدایت پر ایک مربوط پروگرام ’’چیف منسٹر ایجوکیشن سیکٹر ریفارم روڈ میپ‘‘ کے نام سے شروع کیا۔ اس پروگرام میں طلبہ اور اساتذہ کی حاضری کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔ میں یہاں یاد دہانی کے لئے اس پروگرام کے چیدہ چیدہ خدوخال اور ان کے لئے اگلے مالی سال کے میزانیہ میں اخراجات کی تفصیل سے اس ایوان کو آگاہ کرنا چاہوں گا۔
1۔ سکول کونسلز کے لئے ایک ارب روپے کی گرانٹ
2 ۔طالبات کو وظائف کی مد میں ایک ارب 50کروڑ روپے کی گرانٹ رکھی جانے کی تجویز ہے میں اس ایوان کو بتانا چاہتا ہوں کہ تجرباتی طور پر آئندہ مالی سال سے حکومت پنجاب 3پسماندہ ترین اضلاع میں جہاں سکولوں میں طالبات کا داخلہ لینے کا رحجان سب سے کم ہے وہاں سے تعلق رکھنے والی طالبات کے وظائف کی رقم کو کم از کم دگنا کرنے کا پروگرام رکھتی ہے۔
3 ۔درسی کتب کی مفت فراہمی کے لئے 3ارب 30کروڑ روپے کی گرانٹ
4 ۔حکومت پنجاب نے یہ احساس کرتے ہوئے کہ سکولوں کا زیادہ تر بجٹ صرف تنخواہوں میں صرف ہو جاتا ہے ایک مرحلہ وار پروگرام کے تحت بجٹ میں اضافہ کا پروگرام بنایا ہے۔ اس سلسلہ میں صوبہ بھر سے 9اضلاع کے سکولوں میں 3ارب 50کروڑ روپے کا اضافی بجٹ دیا گیا ہے۔ سکولوں کے انتظامی اخراجات میں ڈ اس اضافے کا مقصد سکولوں میں ترسیل تعلیم کے لئے تمام ضروری سہولیات میسر کرنا ہے۔ یہ اضافی رقوم سکول کونسلز کے ذریعے خرچ کی جائیں گی۔
5 ۔صوبے بھر کے تمام گرلز سکولوں میں ہر قسم کی محرومی جس میں بیت الخلا، چاردیواری، پانی اور بجلی کی فراہمی اور فرنیچر کی کمی وغیرہ شامل ہیں کو اگلے مالی سال میں پورا کیا جائے گا اور اس مقصد کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 3ارب 50کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر متفقہ طور پر طے کردہ Millennium Development Goals کے مطابق سکول جانے کی عمر کے ہر بچے کو تعلیم تک رسائی مہیا کرنا ہر ریاست کا فرض ہے۔ حکومت پنجاب کی تعلیمی پالیسی اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ترتیب دی گئی ہے۔ ہمارا اولین مقصد 100 فیصد انرولمنٹ اور 100 فیصد retention ہے۔ یورنیورسل پرائمری ایجوکیشن اور یونیورسل سیکنڈری ایجوکیشن کی مہم کے نتیجہ میں حکومت میں پنجاب یہ کوشش کر رہی ہے کہ سکول جانے کی عمر کے ہر بچے کو سکول میں داخلے کیلئے آمادہ کیا جائے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں اس وقت 57 لاکھ سے زائد طلبہ اور 48 لاکھ سے زائد طالبات ہمارے تعلیمی نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسی طرح حکومت پنجاب کی تعلیمی پالیسیوں کے نتیجہ میں سکولوں میں شرح حاضری تقریباً 92 فیصد ہو چکی ہے۔ ہماری کوششوں کا بنیادی مقصد ان طالبعلموں کو تعلیمی نظام کے اندر retain رکھنا ہے اور انشاء اللہ ہم اس retention ریٹ کو100 فیصد تک لیکر جائیں گے۔ حکومت پنجاب کا تعلیم کے فروغ کیلئے ایک اور اہم قدم پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا قیام تھا۔ جس میں پرائیویٹ سیکٹر کو تعلیم کے میدان میں حکومت کے شانہ بشانہ معیاری خدمات سرانجام دینے میں معاونت کی جاتی ہے۔ پی ای ایف کی بدولت صوبے کے ہزاروں پرائیویٹ سکولوں میں 13 لاکھ سے زائد بچے سرکاری خرچ پر نجی سیکٹر کے سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ رواں مالی سال میں پی ای ایف کیلئے 6 ارب 50 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی تھی۔ آئندہ مالی سال میں اس مقصد کیلئے 7 ارب 50 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جارہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت پنجاب آئندہ مالی سال میں ایسے ہائی سکولز جو کہ اپ گریڈ ہو چکے ہیں میں ایک ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ہزار کمپیوٹر لیب کا قیام عمل میں لائے گی۔ مزید ایک ہزار ہائی دیہی یونین کونسلیں جہاں پر طالبات کیلئے ہائی سکول موجود نہیں ہیں وہاں پر موجود ہ ایلیمنٹری سکولوں کو بھی اپ گریڈ کیا جائیگا تاکہ ہماری بچیاں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ہمارا عزم ہے کہ صوبے کا کوئی ہونہار طالبعلم محض وسائل کی کمی کی وجہ سے معیاری تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس عزم کی تکمیل کیلئے نجی شعبہ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا حکومت پنجاب نے پچھلے برس اعلان کیا تھا کہ 5 ہزار سے زائد فیس وصول کرنے والے تمام سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی ادارے اپنی 10 فیصد نشستوں پر غریب بچوں کو میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دینے اور ان کے تمام تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کے پابند ہوں گے۔ یہ اعلان صوبائی سطح پر قانون سازی کا متقاضی ہے۔ لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اعلان کو عملی شکل دینے کیلئے پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کی جائے گی۔ آپ مجھ سے اتفاق کرینگے کہ حکومت پنجاب کے اس اہم فیصلے سے ہزاروں غریب طالبعلم فائدہ اٹھائیں گے۔ میں امید کرتا ہوں کہ معاشرے کے یہ Elite تعلیمی ادارے اپنی سماجی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے حکومت پنجاب کے اس فیصلے پر خوش دلی سے عملدرآمد کریں گے۔ حکومت پنجاب نے نہ صرف بنیادی تعلیم کیلئے اہم اقدامات اٹھائے ہیں بلکہ ہائر ایجوکیشن کی ترقی اور فروغ کیلئے بھی اہم اقدامات کر رہی ہے۔ آئندہ مالی سال میں ہائر ایجوکیشن کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 6 ارب 67 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ میں یہاں شعبہ ہائر ایجوکیشن میں جاری منصوبہ جات کی تفصیل سے معزز ایوان کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔
* آئندہ مالی سال میں ایک ارب 47 کروڑ روپے سے 83 کالجز میں جاری منصوبوں کی تکمیل کیفلئے کالجز کی missing facilities کو پورا کرنے اور اضافی سہولیات مہیا کرنے کیلئے آئندہ مالی سال میں ایک ارب 12 کروڑ روپے مختص کئے جارہے ہیں۔
* آئندہ مالی سال میں لیہ میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے بہادر سب کیمپس تعمیر کا ایک منصوبہ تجویز کیا گیا ہے۔
* آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بہاولپور’ سیالکوٹ’ ملتان اور فیصل آباد میں شروع کی گئی خواتین یونیورسٹیوں کی تکمیل کیلئے مطلوبہ رقوم مختص کی گئی ہیں۔
*کامرس کالجز کے 13 پراجیکٹس 17 کروڑ 55 لاکھ کی لاگت سے آئندہ مالی سال میں مختص کرنے کی تجویز ہے۔
*رکھ ڈیرہ چاہل میں knowlege City کے قیام کا فیصلہ ہو چکاہے۔اس مقام پر نئی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی۔
*مریدکے میں حکومت پنجاب ایک Knowlege Park کے قیام کا ارادہ رکھتی ہے۔
*حکومت پنجاب سیالکوٹ میں بین الاقوامی سطح کی ایک ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
*آئندہ مالی سال میں کالا شاہ کاکو میں لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کے سب کیمپس کے لئے زمین کی الاٹمنٹ کے لئے 31 کروڑ 12 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
*حکومت پنجاب آئندہ مالی سال میں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کا ارادہ رکھتی ہے۔
*یہ معزز ایوان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ کتب خانوں اور لائبریریوں کا وجود کسی بھی معاشرے کی علمی ترقی کے لئے لازم و ملزوم ہے۔خادم پنجاب کی خصوصی ہدایت پر آئندہ مالی سال میں تحصیل کی سطح پر ڈیجیٹل لائبریریاں قائم کرنے کا ایک جامع منصوبہ شروع کیا جارہا ہے۔میں یہاں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس مقصد کے لئے نئی عمارات تعمیر کرنے کی بجائے پہلے سے موجود سرکاری عمارتوں کو استعمال میں لایا جائے گا۔
*ہماری حکومت نے طلبہ و طالبات کو لوڈشیڈنگ کی زد سے محفوظ رکھنے کے لئے چیف منسٹر اجالا پروگرام کے تحت 2 لاکھ سے زائد سولر ہوم سسٹم میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کئے ہیں۔یہ انقلاب آفرین منصوبہ ہے اور اس کی افادیت کے پیش نظر اسے آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھا جائے گا۔اس مقصد کے لئے ایک ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔
صوبائی محکمہ برائے اسکول کی تعلیم کے 2012 میں پرائمری اسکولوں کے شمار کے مطابق پنجاب کے اسکولوں میں 21 لاکھ 46 ہزار 3 سو 35 لڑکے اور 17 لاکھ 57 ہزار 9 سو 79 لڑکیاں زیر تعلیم ہیں۔تاہم پنجاب کے ایسے بچوں کی تعداد کے بارے میں اعداد و شمار مختلف ہیں جو اسکول جانے کی بجائے گھر پر رہتے ہیں یا محنت مزدوری کر کے اپنے خاندانوں کی مالی امداد کرتے ہیں۔ نیلسن کے گھرانوں کے سروے (دسمبر 2012) کا تخمینہ ہے کہ 24 لاکھ بچے اسکول کی تعلیم سے محروم ہیں تاہم پروگرام نگرانی و عمل درآمد یونٹ نے ان کی تعداد 32 لاکھ بتائی ہے۔
محکمہ تعلیم کے واضح احکامات کے باوجود نجی سکولوں نے گرمیوں کی چھٹیوں سے قبل ہی طالب علموں سے تین ماہ کی ایڈوانس فیسیں یکمشت مانگ لی جاتی ہیں جس کے باعث غریب اور ملازمت پیشہ افراد شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اگرحکومت گرمی کی چھٹیوں میں تین ماہ کی اکٹھی فیس وصول کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز پرموشن ریگولیشن رولز آرڈیننس 1984 کے تحت کاروائی عمل میں لاتو ان کی رجسٹریشن منسوخ کر دے ۔ تاہم نجی سکولوں کی جانب سے کسی بھی رولز اینڈ ریگولیشن پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا اور ہر سال تین ماہ کی یکمشت فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ نجی سکول فیسیں تو وصول کر لیتے ہیں مگر سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کو گرمیوں کی چھٹیوں میں تنخواہ وقت پر ادا نہیں کرتے بلکہ کچھ ادارے تو گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے سٹاف کو سرے سے تنخواہ ہی نہیں دیتے۔دوسری جانب نجی تعلیمی اداروں کیخلاف شکایت ہوبھی توان کیخلاف کاروائی نہیں ہوتی کیوں کہ محکمہ تعلیم کے پاس نجی سکولوں کے حوالے سے کوئی تفصیلات یا ڈیٹا موجود نہیں۔
محکمہ تعلیم حکومت پنجاب کی ایک ہی چاردیواری میں کام کرنے والے پرائمری سرکاری سکولوں کوضم کرنے کی پالیسی کے تحت پنجاب میں پانچ ہزارسے زائد پرائمری سکول ختم کو کیا گیاجس کہا گیا تھاکہ جس ضلع کاای ڈی اوسب سے پہلے ریشنلائزیشن عمل مکمل کرے گا اسے 1لاکھ روپے انعام دیاجائے گا۔ 2700سے زائد سکول دیہی علاقوں میں تھے جنہیں دوسرے پرائمری سکول میں ضم کردیاگیا۔سکولوں کوضم کرنے سے پنجاب میں 15ہزاراساتذہ کوسرپلس قراردے دیاگیا تھا۔ نئی پالیسی کے تحت 60طلبہ سے کم تعدادوالے سکولوں کودوسرے قریبی سکول میں ضم کیاگیا ہرپرائمری سکول میں 2ٹیچرزہوں گے مڈل اورہائی سکول میں چالیس بچوں پرایک استادہوگا۔ سرپلس کئے گئے اساتذہ کو جبری ریٹائرڈکردیاجائے کیاگیاجبکہ مڈل اورہائی سکولوں میں زائد اساتذہ کوکسی ایسے سکول میں منتقل کردیاکیاگیاجہاں اساتذہ کی کمی ہے بعدمیں جہاں ٹیچرزیادہ تھے وہاں سے پوسٹ بھی ختم کردی جائے گی اس نئی سکیم کے تحت جہاں ہزاروں پرائمری سکولوں کی تعدادکم ہوگی وہاں اساتذہ کوجبری ریٹائرڈکرنے سے ٹیچرزکمیونٹی کوبھی مشکلات کاسامناکرناپڑا۔
پنجاب میں کل چھ تعلیمی بورڈز ہیں۔اور تمام کے تمام اہم عہدے داروں سے محروم ہیں۔ پنجاب بھر کے تقریبا چھ لاکھ طلبا ء کا مستقبل داو پر لگ چکا ہے۔وزیر تعلیم پنجاب کے عہدے پر خادم اعلیٰ پنجاب نے ایک ایسے شخص کو تعینات کر رکھا ہے جو بہت بڑے مصروف انسان ہیں۔ وزیر تعلیم پنجاب کے لیے انتہائی مشکل امر ہے کہ وہ صوبے کے تعلیمی معاملات کے لیے وقت نکال سکیں۔صوبے کے چھ تعلیمی بورڈز میں چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات جیسی اہم پوسٹیں خالی ہونا وزیر تعلیم پنجاب اور وزیر اعلی پنجاب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کے اخباری بیانات پڑھ کر تو یوں لگتا ہے۔کہ جیسے پنجاب میں تعلیمی انقلاب برپا ہو گیا ہے۔ دعوے اس قدر بلند کہ انسان چکر ا کر رہ جاتا ہے۔لیکن جب ان دعووں کی حقیقت معلوم کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کھودہ پہاڑ اور نکلا چوہا۔مسلم لیگ نواز نے انتخابات میں عوام کو متاثر کرنے والے دعوے کیے لیکن آج مسلم لیگ نواز کو اقتدار میں آئے ہوئے کئی مہینے ہو چلے ہیں۔لیکن مسائل وہیں کے وہیں ہیں۔ خادم اعلی پنجاب جو اللہ کی رحمت سے ڈپٹی وزیر اعظم بھی ہیں۔اس قدر مصروف کار ہیں کہ انہیں صوبے کے معاملات کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ سب محکموں کی نسبت محکمہ تعلیم کی حالت ابتر ہے۔سالانہ امتحانات سر پر ہیں۔ لیکن اس وقت صوبہ پنجاب کے چھ تعلیمی بورڈز عرصہ دراز سے چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات سے محروم چلے آرہے ہیں۔پنجاب کے جن تعلیمی بورڈز میں چیئرمین کے عہدے تعیناتی کے منتظر ہیں،ان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن ان معاملات کی جانب توجہ کیسے دے جب کہ اسکے چیئرمین کی تقرری ہونا باقی ہے۔ جن تعلیمی بورڈز میں چیئرمین اورکنٹرولر امتحانات کے عہدے خالی ہیں اور وزیر تعلیم پنجاب اور وزیر اعلی پنجاب کے منہ چڑا رہے ہیں۔ان میں فیصل آباد ،راولپنڈی، ساہیوال، بہاولپور،اور سرگودہا بورڈز شامل ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے تمام تر کوششوں کے باوجوہ پنجاب میں 18ہزار سکولوں میں سہولیات کا فقدان ہے اور تعلیم بجٹ کہاں ہے؟

یہ بھی پڑھیں  بہاول نگر:پنجاب یوتھ فیسٹیول 2014گاؤں سطح کے مقابلے چوتھے روز بھی جاری

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker