تازہ ترینکالم

سرکاری اداروں میں قوانین کا۔۔۔بوکاٹا

anwar abasقانون اور ادارے کس لیے بنائے جاتے ہیں۔۔۔عوام کی جان و مال عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے نئے نئے قانونوضع کیے جاتے ہیں۔۔۔عوام کے حقوق کو کی حفاظت کے لیے پارلیمان دن رات کام کرتی ہے ۔۔۔سیاسی جماعتوں کا قیام ۔۔۔انتخابات کا انعقاد ۔۔۔اور حکومتوں کی تشکیل ۔۔۔سب عوام کی فلاح بہبود اور انکی ترقی و خوشحالی کے لیے یہ تمام پاپڑ بیلے جاتے ہیں۔۔۔ اور عوام کو فوری اور سستا انصاف مہیا کرنے کے قانون بن جاتے ہیں۔قانون سازی کوئی مشکل بھی نہیں ۔۔۔جس قسم کا قانون ھکومت چاہئے راتوں رات بنا لیا جاتا ہے ۔ہر روز پارلیمنٹ میں قانون سازی ہی ہوتی ہے ۔لیکن قانون بنا لینا ہی حکومت کا کام نہیں ہوتا بلکہ بنائے گے قوانین پر عمل درآمد کرنا اور کراانا سب سے اہم ذمہ داری ہوتی ہے ۔
لیکن ہمارے ہاں حکومت ،پارلیمان قوانین بناکر سمجھتی ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری ادا کردی ہے ۔اسی لیے حکمران چین کی نیند سو جاتے ہیں۔تبھی تو قانون پر عملدرآمد نہیں ہو پاتا ۔۔۔اگر کہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آ کر انگڑائی لیتے ہیں تو بااثر طبقات اپنے رعب دبدبے کی لوری سنا کر یا روپے پیسے کی چمک دکھاکر میٹھی نیند سلا دیتے ہیں۔۔۔اس سلسلے میں متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کو ہی لے لیجئے ۔۔۔اب قانون تو پہلے بھی موجود تھا۔لیکن میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ سے اپنی حکومت کی بحالی پرشادی بیاہ میں ون ڈش اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی لگادی ۔۔۔شادی بیاہ میں کھلم کھلا نہ سہی چوری چھپے ہی سہی ون ڈش کے قانون کی خلاف ورزی ہوتی رہی اور اب تک ہو رہی ہے ۔پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کرنے اور بچوں کو سگریٹ فروخت نہ کرنے کی قانون کی ابھی تک دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔سگریٹ فروش سرعام کمن بچوں کو سگریٹ فروخت کر رہے ہیں۔
قومی ادارے مجاز سربراہاں اور دیگر مجاز افسران کی عدم توجہی اور لاپرواہی کے نتجے میں عضو معطل ہوکر رہ گے ہیں۔بلکہ معاشرہ میں ایک مذاق بن جاتے ہیں۔ آمر ضیاء لاحق کے دور میں جب وفاقی محتسب کا ادارہ قائم کیا گیا تو اسے سربراہ اور دیگر ذمہ داران کے فعال کردار کے باعث عوام کو ناخدا بنے محکموں کے راشی عملے سے نجات ملنے لگے۔بڑے بڑے افسر پیش ہوتے ہوئے ڈرتے تھے ۔اور مکمل تیاری کے ساتھ وہاں حاضر ہوتے تھے۔ بلکہ ایک دو پیشیوں پر عوام کی شکایات کا ازالہ ہو جاتا۔ لیکن رفتہ رفتہ وفاقی محتسب کے افسران ’’ریلیکس‘‘ ہوتے گے آخر کار ان کی وفاقی محتسب کے ادارے کے ساتھ وابستگی اس حد تک رہ گئی کہ سرکاری گاڑی ٹیلی فون و دیگر سہولیات سے بہرہ مند ہونا اور لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرنا عزم اولین ٹھرا۔۔۔اب حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ عوام کا حال تو برا ہے ہی مگر وفاقی محتسب کے دائرہ کار میں آنے والے محکموں کے افسران اسکی اور اسکے احکامات کی رتی بھر پرواہ نہیں کرتے ۔اب تو وہاں پیشی کے لیے سکیل سات سے اوپر کے اہلکار شائد ہی کوئی پیش ہوتے ہوں
حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں والل چاکنگ پر پابندی لگائی ہوئی ہے ۔لیکن پنجاب بھر کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات کی سڑکوں اور دیواروں پر رنگ برنگی وال چاکنگ ہماری حکومت کا مذاق اڑا رہی ہے۔اب پتنگ بازی کو ہی لے لیجئے قانونی طور پرنہ صرف پتنگ بازی پر پابندی عائد ہے۔لیکن صوبہ بھر کے شہروں اور دیہات میں پتنگ باز مزے اڑا رہے ہیں۔بااثر زندہ باد ۔۔۔اور غریبوں کے بچے قانون شکن قرار دیکر حوالات میں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دئیے جاتے ہیں۔۔۔افیون ،ہیروئن اور شراب اور شباب کی فروخت پر قانون میں پابندی ہے۔ جواء بھی ممنوع ایٹم ہے۔ لیکن سب کچھ بک رہا ہے۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔۔۔ اگر کوئی پوچھے گا تو ماہانہ لاکھوں روپے کی کمائی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
سرکاری محکمے صوبائی ھکومتوں کے کنٹرول میں ہوں یا وفاقی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ہوں ۔سب میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ رولز کے مطابق کوئی سرکاری ملازم زیادہ سے زیادہ دس منٹ تک لیٹ آنے کی سہولت سے فائدہ مند ہو سکتا ہے ۔لیکن آپ جس کسی بھی محکمے میں چلے جائیں وہاں آپکو نو اور دس بجے تک کوئی نہیں ملے گا اور اگر کوئی دفتر میں حاضر بھی ہو گا تو آپکا کام کرنے کی بجائے بیٹھنے کو کہے گا۔ پھر اخبار کا مطالعہ ہوگا۔دوستوں سے گپ شپ اور حال احوال دریافت کرنے کے بعد آپ کی بات سنی جا ئیگی ۔لیکن کام پھر بھی نہیں ہوگا۔بس وعدے تسلیاں اور ساتھ ہی کل آنے کا کہہ کر واپس بھیج دیا جائیگا۔
اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ سیاست دان اور رشوت خور بڑے افسران۔۔۔ جنہوں نے دفاتر سے باہر نکلنا ہی ترک کردیا ہے۔ماتحت عملے کی باز پرس کرنی چھوڑدی ہے۔ پہلے افسران دفاتر میں چھاپے مارتے تھے۔کیونکہ وہ خود وقت پر دفاتر میں تشریف لایا کرتے تھے۔مگر آج کے افسران خود ہی گیارہ بارہ بجے دفاتر پہنچتے ہیں بلکہ وہ کیسے ماتحتوں کو وقت پر دفتر پہنچنے کی ہدایات دے سکتے ہیں؟ اعلی بیورو کریسی وزرا کی ٹی سی ( T.C ) کرکے انکی نظروں میں اچھے بن جاتے ہیں۔ اور نیچھے والے بیوروکریٹس کی ٹی سی کرکے اپنا الو سیدھا کرنے میں بلکہ موج مستی میں مصروف ہوتے ہیں۔ حکمرانوں کو دیگر مشاغل سے ہی فرصت نہیں ہے وہ بھلا اس اہم مسلہ کی جانب کیسے توجہ دیں گے۔۔۔ گڈگورنس کا خواب تب ہی پورا ہو سکتا ہے جب حکمران سرکاری ملازمین کا قبلہ درست کرنے میں کامیاب ہوں گے ورنہ میڈیا میں تو سب اچھا ہی اچھا نظر آئے گا مگر درحقیقت ایسا نہیں ہوگا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button