تازہ ترینکالممحمد فرحان عباسی

پرا من ایٹمی منصوبہ ۔۔۔۔۔۔۔ایک جھوٹ

ایک میگزین پڑھتے ہوئے ایک سائنس دان کے الفاظ پڑھنے کو ملے جو سراسر سچائی پر مبنی ہیں ،اور جن کی حقیقت کو جھٹلایا بھی نہیں جا سکتا ،ایک عام فہم انسان سے بھی جب یہ سوال کیا جائے تو وہ اس کی تائید کرے گا ،میں نے بارہا سوچا کہ آخر جب ہر ایک کا یہ نعرہ ہے کہ ہم پر امن رہنا چاہتے ہین اور دنیا میں امن چاہتے ہیں ،ہم جنگ جدال سے عاری ہو چکے ہیں ،اور اپنے اپنے ملکوں اور اقوام کو مزید اس آگ میں نہیں دھکیل سکتے ،ہم ہر ایک سے بھائی چارے کا معاملہ چاہتے ہیں ،اور ہر مذہب اور گروہ سے اچھے تعلقات کی امید کرتے ہیں ،،،ایک طرف تو دنیا کے طالم اور جابر حکمران یہ دعوے کر رہے ہیں تو دوسری طرف ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ،خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے گن گن کر اور چن چن کر مظلوموں کا خون کیا جا رہاہے ،کیڑے مکوڑوں کی طرح ان کو پائوں تلے روندا جا رہا ہے ،ان کے مسکن تباہ اور ان کا مستقبل ویران کیا جا رہا ہے ،آئے دن ان مظلوموں پر پر امن ایٹم بم گرائے جا رہے ہیں جو سراسر امن کی علامت ہے ،ان کے ایسے پر امن اعمال کو نا تو کوئے شک کی نگاہ سے دیکھے اور نا ہی اس کو برا بھلا کہے ہم ان کے اس پر امن ظلم کو تہہ دل سے قبول کرتے ہیں کیونکہ ہم اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ہم اسے برا کہں گے تو ہمارے حکمران اپنے آقائوں کی اس تذلیل کو برداشت نہیں کر سکیں گے اور ہمیں وہاں ڈال دیں گے جہاں سے ہمارا پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ہم کہاں ہیں،،
اگر یہ سب امن چاہتے ہیں تو ایٹم بم کی دوڑ میں ہر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے ،کیوں آئے دن نت نئے بموں کے تجربات کئے جا رہے ہیں اور کیوں ہر آنے والے دن کے ساتھ تباہی کو اپنا اور دوسروں کا مقدر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ،آخر یہ سب ہے کیا،،،،؟
کون یہ سب کچھ کر رہاہے ،،،،؟ کون سکی سرپرستی کر رہا ہے ،،،،،؟ اور کون اس کے ذمہ دار ہیں ،،،؟
یہ سوالات ہر ایک ذہن میں لازمی طور پر جنم لیتے ہوں گے ،ہر ایک ان سوالات کے جوابات حاصل کرنے کی کھوج میں لگا ہو گا ۔
اگر یہ کہا جائے کہ سب دنیا میں بسنے والے مسلمانوں سے دشمنی اور حسد ہے ،مسلمانوں سے بغض کا ردعمل ہے کہ جہاں بھی دیکھا جائے مسلمانوں پر ہی ظلم وستم ڈھائے جا رہے ہیں ،مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے اور کسی کو بھی پر امن ایٹمی منصوبوں کی یاد تک نہیں ،افغانستان سے لے کر بوسنیا ،تک مسلمانوں کی لاشوں کی ایک لمبی قطار نظر آتی ہے جن میں بوڑھے جوان ،بچے عورتیں ،سب شامل ہیں ،آخر کہاں گیا اقوام متحدہ جو امن کی آشا کے جھنڈے دنیا بھر میں لیرانے کے نعرے لگاتا ہے ،جو انسانوں کو ان کے حقوق دلوانے کا ذمہ دار بنا ہوا ہے ،چیچنیا سے لے کر عراق تک مسلمانوں کی بکھری لاشیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ واقعی مسلم ممالک کے علاوہ ہر ملک کا ایٹمی منصوبہ پر امن ہے ،کیوں کہ یہ امن صرف امریکہ ،برطانیہ ،اسرائیل ،اور نیٹو کے لئے ہے وہ اس کے ذریعے جس ملک پر چاہیں چڑھائی کر دیں اور جس عوام کو چاہیں غلام بنا لیں ،
ایٹم بم کو ایک سائنس دان سے زیا دہ کون جان سکتا ہے ،کس کو اتنا علم ہے کہ اس ایٹم بم سے کتنی تباہی ہو سکتی ہے ،۔۔۔۔؟
مجھے میگزین میں لکھے اس سائنسدان کے الفاظ یاد آ رہے ہین اور میں بار بار اس سے یہ الفاظ پڑھ رہا ہوں کہ ایٹمی منصوبے کو پر امن کہنا منافقت ہے اور کوئی بھی بم پر امن نہیں ہوتا ۔۔
یہ الفاظ مردمجاہد ،محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ہیں جو انہوں نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہے تھے،
اور یہ سچ ہے کہ ہر وہ چیز جو کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے بنائی جائے وہ کبھی پر امن نہیں ہو سکتی اور اس سائنسدان کے علاوہ آج تک کسی اور کے منہ سے یہ الفاظ نہیں سنے ۔ò
ڈاکٹر کان کے ان الفاظ سے دنیا میں پر امن ایٹمی پروگرام کے نعرے لگانے والوں کی منافقت خوب سمجھ میں آتی ہے مگر اس سے بھی زیادہ حیرت مسلم اقوام کے حکمرانوں پر ہے جو برما میں جاری ظلم سے واقف ہے اور جسے پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کا بھی بخوبی پتہ ہے اس سے جانی اور مالی خفت کو بھی وہ خوب جانتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ پر امن ایٹمی منصوبوں کے نعرے لگانے والے کی بغل میں بیٹھے ہوئے ہیں شرم تم کو مگر آتی نہیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker