تازہ ترینغلام مرتضیٰ باجوہکالم

پرامن ماحول۔ملک ترقی کیلئے ضروری ہے

ملک بھر میں کرپشن اور لوٹ مارعروج پر ہے سرکاری اور غیرسرکاری ملازمین میں  کافی لوگ بدعنوانی میں شامل ہے۔جس کی وجہ سے بدعنوانی میں شامل افراد بھی ایماندار افسروں اور ملازمین سے خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ بدعنوانی اور ناجائز اختیارات کے ذرئع کمائی کئی رقم کو بچانے اور خود کو ایماندار ثابت کرنے کیلئے آئے دن کوئی نہ کو ئی ہنگامہ کرتے نظر آتے ہیں۔ جس سے قوم وملک یہ چند لوگ معاشرے کا امن تباہ کرنے میں اہم کردارادا کرتے ہیں۔ حکومت وقت کو اپنے چند فیصلوں پر نظر ثانی کرنے چاہئے تاکہ شہریوں کو پر امن ماحول میسر ہوسکے۔
تاریخ گواہ ہے کہ معاشر ے میں قیام امن کے لئے ہر سرکار کو پرگنوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پرگنہ کے سربراہ کو شق دار کہتے تھے۔ عام طور پر پرگنہ بارہ گاؤں پر مشتمل ہوتا تھا۔ محاصل کی وصولی کے نقطہ نگاہ سے پرگنہ کی بڑی اہمیت تھی۔شق دار کی بنیادی ذمہ داریاں مندرجہ ذیل تھیں۔ امن و امان برقرار رکھنا۔ سرکشوں کا قلع قمع کرنا۔ چوروں اور ڈاکوؤں کو پکڑنا اور انھیں سزا دینا۔ پرگنہ کی حدود میں عمومی انتظامی امور انجام دینا۔ محاصل کی وصولی اور دیگر ذمہ داریوں میں عامل کی معاونت کرنا۔
پرگنہ کی سطح پر محاصل انتظامیہ کا سربراہ عامل تھا۔ محاصل کی وصولی کے لیے عامل کو ہدایت تھی کہ مندرجہ ذیل رہنما خطوط پیش نظر رکھے۔ کاشت کاروں کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنائے۔ کاشت کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے محصول میں رعایت دے۔ کاشت کار کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرے۔ حقیقی زیرکاشت رقبے سے زیادہ محصول عائد نہ کرے۔ کاشت کار سے براہ راست معلومات کی بنیاد پر تشخیص کرے اور درمیانی کارندوں سے اجتناب کرے۔ حکومت کے واجبات کی وصولی کے لیے غیرضروری طاقت کے استعمال سے اجتناب کرے۔ ایک ماہانہ کیفیت نامہ تیار کرکے حکام بالا کو ارسال کرے؛ اس کیفیت نامہ میں عوام کے حالات، امن عامہ کی صورت حال، بازاری قیمتیں، کرایہ جات، غریبوں کے حالات اور دوسری ضروری معلومات بیان کرے۔
عامل کے فرائض منصبی: عامل کی مندرجہ ذیل ذمہ داریاں تھیں۔ محاصل اراضی کی تشخیص کی نگرانی کرنا اور نقد یا جنس کی صورت میں وقت پر محاصل اراضی وصول کرنا۔ ضوابط کے تحت عائدکردہ محصول سے زیادہ رقم قطعاً وصول نہ کرنا۔ اگر کاشت کار ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر محصول ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو ضوابط کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان سے نرمی کرنا۔ وصول شدہ محصول خزانہ دار کے پاس جمع کرانا اور تمام محصولات کی وصولی کے بعد یہ جمع شدہ رقم شاہی خزانے میں جمع کرانا اور خزانہ کو اس رقم کی رسید دینا۔ ضوابط میں تحریر کردہ طریق کار کے مطابق آمدنی و اخراجات پر مبنی کیفیت نامہ اور متعلقہ دستاویزات تیار کرنا۔
خزانہ دار: وصول شدہ محاصل خزانہ دار کے پاس جمع ہوتے تھے اور وہ باقاعدہ رسید جاری کرتا تھا۔
بِتکچی: قانون گوؤں کے کام کی نگرانی کرتا تھا۔ ہر موسم کے بعد اور پھر سالانہ محاصل رپورٹ تیار کرکے حکام بالا کو ارسال کرتا تھا۔ وہ عامل کے فرائض منصبی پر بھی نظر رکھتا تھا۔قانون گو: قانون گو اراضی سے متعلق قوانین، قواعد وضوابط، طریق کار، نظائر، تاریخ اور دیگر معلومات کا ماہر ہوتا تھا۔ قانون گو اراضی سے متعلق تمام معلومات اور محصولات کا اندراج کرتا تھا۔ زمین کی ملکیت، تقسیم، انتقال اور پیمائش نیز محاصل ادا کنندہ کی موت اور وراثت کے بارے میں ریکارڈ تیار کرتا تھا اور ضرورت کے وقت یہ ریکارڈ پیش کرتا تھا۔ اس کی منصبی ذمہ داری تھی کہ ہر ریکارڈ کی دو نقول تیار کرے اور ایک نقل دفتر میں اور دوسری نقل گھر پر رکھے تاکہ سیلاب یا آگ لگنے کی صورت میں ایک نقل محفوظ رہے۔امین کے تقرر کے وقت اس امر کا جائزہ لیا جاتا تھا کہ وہ ایماندار ہو اور متعلقہ ضابطوں کا ماہر ہو۔
امین کے فرائض منصبی: امین کی ذمہ داریاں مندرجہ ذیل تھیں۔ حکومت اور رعیت کے درمیان غیرجانبداری، انصاف اور قواعد کے مطابق محصول کا تعین کرنا۔ فصل اُگانے اور قابل کاشت رقبے میں اضافہ کرنے کے لیے کاشت کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا۔ فصل کے موسم سے پہلے قانون گوؤں سے پچھلے دس سال کی تشخیص محاصل سے متعلق کاغذات لینا اور دیہی علاقوں کا دورہ کرنا۔ اس دورے میں علاقے کے مقدم/چوہدری اور زمیندار اس کے ساتھ ہوتے تھے۔ دورے کے دوران قابل کاشت اراضی اورکاشت شدہ اراضی کے بارے میں معلومات حاصل کرنا۔ مندرجہ بالا معلومات کا تقابل قانون گو کی پیش کردہ دستاویزات سے کرنا۔ دونوں میں فرق کی صورت میں قانون گو اور نمبردار کو جواب دہ ہونا پڑتا۔ اگر کاشت شدہ رقبہ کاشت کار کی ضروریات کے مطابق نہ ہوتا تو کاشت کار کے لیے زرعی قرضہ (تقاوی) منظور کرتاتاکہ وہ بیل اور بیج خرید سکے۔ نمبردار کا فرض تھا کہ اگلے سال کی فصل سے قرضے کی پہلی قسط وصول کرے۔ خزانہ دار کی کارکردگی پر نظر رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ وہ وصول شدہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائے اور رقم کا کوئی حصہ اپنے پاس نہ رکھے۔ اس طریق کار کو یقینی بنانا کہ امین کی مُہر کے ساتھ خزانہ دار کے دستخط سے کاشت کار کو محاصل کی وصولی کی رسید دی جائے۔ خزانہ دار کی جاری کردہ رسیدوں کی بنیاد پرعامل کے تیارکردہ آمدنی و اخراجات پر مبنی کیفیت ناموں کی پڑتال کرنا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت کو چاہئے کہ ملک وقوم کی ترقی کیلئے اختیارات مقامی سطح پر منتقل  کرے۔ تاکہ لوگوں کو پر امن ماحول میسر ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button