احمد رضا میاںتازہ ترینکالم

قادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ۔۔۔!

ahmad razaقادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ۔ کیوں کہ قادری صاحب نے جن لوگوں سے ہاتھ ملایا ہے اُن کا تو شیوا ہی یہی ہے ۔ وہ ہاتھ ملاتے ہی ہاتھ کر جاتے ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں سے وہ اس پوری قوم کے ساتھ ہاتھ ہی تو کر رہے ہیں۔ روٹی کپڑا اور مکان کے وعدوں سے اُن کی زبان نہیں تھکتی ،قومی دولت لوٹتے ہوئے ہاتھ نہیں کانپتے اور ملک کو نوچ نوچ کر کھانے سے اُن کے پیٹ نہیں پھٹتے ۔۔ ۔ اُنہوں نے تو اقتدار میں آتے ہی ملک کی سب سے بڑی سیاسی قیادت جناب میاں نواز شریف صاحب کو بھی ہاتھ دکھا دیا تھا معاہدہ مری کی صورت میں اور پھر یہ کہا گیا تھا کہ کسی سے معاہدہ کر لینا (نعوذباللہ) کوئی قرآن و حدیث تو نہیں ہے ۔ تو پھر بھلا ماضی میں اسمبلی کی اکلوتی سیٹ حاصل کرنے والے جناب طاہرالقادری صاحب کو وہ کس کھیت کی مولی سمجھتے ہیں ۔ ابھی تو دو دن ہی گذرے ہیں کہ معاہدہ کرنے والے مداریوں کے حواریوں نے بیانات بھی دینا شروع کر دیئے ہیں ۔ نہ صرف بیانات بلکہ مذاق بھی اُڑانا شروع کر دیئے ہیں۔بیانات یہ کہ ۔۔ ” کون سا معاہدہ؟؟؟ ” ۔۔۔” یہ تو ہم نے قادری صاحب کو لالی پاپ دیا ہے۔ہاہاہاہاہا”۔۔۔” یہ معاہدہ تو ردی کی ٹوکری میں پڑے ہوئے ایک بے کار کاغذ سے بھی کم تر حیثیت رکھتا ہے” ۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔
مجھے علامہ طاہرالقادری صاحب سے پوری پوری ہمدردی ہے۔ جو دکھ اُنہیں پہنچا ہے وہ مجھے تو نہیں پہنچا لیکن پھر بھی دکھ تو دکھ ہوتا ہے تھوڑا ہو یا زیادہ۔۔۔قادری صاحب آپ اگر یہ تاریخی معاہدہ سر انجام دینے پہلے میرے جیسے سیانے اور دور اندیش آدمی سے مشاورت کر لیتے تو شائد آپ کو اپنا کیا ہوا معاہدہ پڑھتے وقت بار بار مشاورت پر زور نہ دینا پڑتا۔۔۔ آپ کو حسینی قافلے کی قیادت کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا لیکن آپ نے یزیدیوں کو گلے لگا لیا ۔ استغفراللہ۔۔۔ آپ تو دائرہ اسلام سے۔۔۔۔۔۔۔کیا آپ کو زرداری صاحب کے کردار پر کوئی شک تھا۔۔۔؟ جو اُن پر اعتبار کر کے اپنے کیئے پر پانی پھیر دیا اور سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے بوڑھوں، جوانوں، عورتوں اور بچوں کو اتنی بڑی سزا سے نوازا گیا اس کی کیا ضرورت تھی کوئی اور سزا دیتے ۔ مانا کہ وہ آپ کے مرید تھے، زر خرید تھے، جانثار تھے، بیٹے تھے یا آپ سے اُن لوگوں کا کوئی بھی جذباتی رشتہ تھا لیکن تھے تو انسان ۔۔۔ اب اُن کے دلوں پر کیا گذری ہو گی؟؟؟۔ مانا کہ وہ آپ سے کوئی گلہ شکواہ نہیں کریں گیں لیکن!۔۔۔۔۔چلو خیر چھوڑیں وہ تو ہیں ہی انسان (عوام) اور وہ بھی پاکستانی اُن کے لیئے یہ کوئی تکلیف دہ بات نہیں ہو گی وہ تو پیدا ہی تکالیف برداشت کرنے کے لیئے ہوئے ہیں۔ کبھی مہنگائی کی تکلیف، کبھی بے روزگاری کی تکلیف ، کبھی لوڈشیڈنگ کی تکلیف، کبھی خودکش بم دھماکوں میں ہلاک ہو جانے والے اپنے جگر کے ٹکروں کے ٹکرے اُٹھانے کی تکلیف۔ ۔۔۔ آپ کا کیا ہے ایک دھمکی کیا ملی اور کینڈا برد ہو گئے اور اور پھربکتر بند کنٹینر میں بیٹھ کر فرماتے ہیں کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا۔ آپ کو کسی کا ڈر بھی کیوں ہوآپ تو ایک مرد مجاہد کی طرح ، ایک سپاہی کی طرح، اپنے خدا پر زندگی اور موت کے اختیار پر یقین رکھنے والے ایک مومن کی طرح، نبیﷺ کے خواب میں تشریف لا کر عمر کی حد مقرر کردینے پر ایک سچے عاشق کی طرح اور ۔۔۔ اور۔۔۔۔ لاکھوں نہیں کڑوڑوں دیوانوں کے دلو ں میں بسنے والے ایک لیڈر کی طرح بہت۔۔۔ بہت۔۔۔بہت بہادر ہیں۔۔۔ آپ کو کس کا ڈر !۔۔۔ اگر کبھی کسی نے ڈرایا دھمکایا تو فوراً اپنے ملک تشریف لے جائیں گے اور رہ جائیں گے ساری مصیبتیں اور تکلیفیں اُٹھانے کے لیئے بے بس، لا چاراور مجبور جن کو عرف عام میں عوام کے نام سے پکارا جاتا ہے۔۔۔ویسے آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان کی عزت اور خاطر مدارت کرنا میزبان کا اخلاقی فرض ہے۔ایک اخلاقی فرض تو یزیدیوں نے نبھا دیا ہے اب آگے دیکھئے آپ کے ساتھ اگلا ہاتھ کیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟؟note

یہ بھی پڑھیں  حکومت نے ملکی معیشت تباہ کردی، نوازشریف

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker