علاقائی

کراچی:سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئےفنڈز کی فراہمی کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا،قائم علی شاہ

کراچی(دانیال خان) وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ 2010-11 کے سیلاب متاثرین کی بحالی، امداد اور وطن کارڈز کے لئے وفاقی حکومت نے50 فیصد فنڈز کی فراہمی کا جووعدہ کیا تھا، وہ وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا۔ہم وفاق سے رقم ملنے کے انتظار میں ہیں۔ 2010-11 کا سیلاب غیر معمولی تھا، اور ہم نے اپنی پوری عمر میں نہ صرف صوبہ سندھ بلکہ پاکستان اور پورے برصغیر میں ایسا سیلاب دیکھا نہ سنا تھا۔ صوبائی حکومت نے اب تک سیلاب متاثرین پر 21 ارب روپے خرچ کئے ہیں اور اب بھی ان کی بحالی کا کام جاری ہے، گدو بیراج پر مصنوعی شگاف نہیں ڈالا گیا تھا،بلکہ یہ قدرتی شگاف تھا اور اس کی تصدیق سپریم کورٹ اور صوبائی حکومتوں کے بنائے گئے کمیشن نے بھی کردی ہے۔ وہ منگل کو سندھ اسمبلی میں بیان دے رہے تھے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2010-11 کے سیلاب کے بعد بڑے پیمانے پر نقصان کی توقع تھی اور اسی حوالے سے صوبائی حکومت نے اقدامات کئے تھے تاہم توقع سے بڑی تباہی کے باعث اس قدرتی آفت سے نبرد آزما ہونے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ جب خیبر پختونخواہ میں سلاب نے ہٹ کیا تو ہم نے صوبے میں ایمرجنسی بنیاد پر کابینہ کا اجلاس طلب کیا اور صوبائی وزراءاور ارکان اسمبلی کی وہاں ڈیوٹیاں لگائیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وزیر اعظم کے صدارت میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں ماہرین نے بتایا کہ اس سیلاب کا8 سے9 لاکھ کیوسک پانی سندھ میں گدو بیراج پر آئے گا اور اس وقت میں نے ان ماہرین سے کہا تھا کہ پانی اس سے زیادہ آئے گا۔ لیکن ان ماہرین کا اندازہ غلط ہی ثابت ہوا اور گدو بیراج پر 13 لاکھ کیوسک پانی آیا۔انہوں نے کہا کہ پانی کی زیادتی پر بیراج پر شگاف پڑا تو ہم پر یہ الزام عائد کا گیا کہ ہم نے یہ شگاف مصنوعی طور پرڈالا تاہم اس حوالے سے سپریم کورٹ اور صوبائی حکومت کے بننے والے کمیشن نے یہ ثابت کیا کہ یہ شگاف مصنوع نہیں تھے بلکہ قدرتی تھے۔وزیر اعلیٰ سند ھ نے کہا کہ سندھ حکومت کی سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے بڑے پیمانے پر کئے جانے والے اقدامات پر تنقید کرنے کی بجائے ان متاثرین کی ریلیف اور بحالی کے لئے کئے گئے اقدامات کو سراہنا چائیے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کے متاثرین کی بحالی کے لئے صوبوئی حکومت نے 21 ارب روپے وطن کارڈز، شیلٹرز اور ریلیف کی مد میں خرچ کئے ہیں اور اس کے لئے ترقیاتی فنڈز میں ہمیں کٹوتی کرنی پڑی۔انہوں نے کہا کہ2011-12 میں بارشوں سے بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے باعث گذشتہ سال کے مقابلے زیادہ افراد متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یو این اے کو متاثرین کے فوڈ کے لئے اپیل کی اور انہوں نے صوبہ سندھ میں اپنے امدادی کام کا آغاز کیا لیکن یہ فوڈ بھی کم پڑ گئی کیونکہ قدرتی آفت سے 70 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم متاثرین کو فی کس 10 ہزار روپے وطن کارڈز کی مد میں دے رہے ہیں اور وفاقی حکومت نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ اس کی آدھی رقم وہ ادا کرے گی لیکن اب تک یہ رقم ہمیں نہیں ملی ہے اور ہم اس کا انتظار کررہے ہیں تاکہ اس کی دوسری قسط ادا کی جاسکے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے صرف وطن کارڈز کی مد میں اب تک 12 ارب روپے خرچ کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس کے متاثرین کی بحالی کے لئے 7 ہزار مکانات میں سے3 ہزار مکانات تعمیر کئے جاچکیں ہیں اور دیگر بھی تیار کئے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  آئی جی پنجاب حبیب الرحمان آج ریٹائر ہو جائینگے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker