تازہ ترینکالم

قلم ،گاؤن اور جیکٹ

atharگزشتہ سال ستمبر میں اپنے آبائی وطن وادی کشمیر کا 28روزہ دورہ کرنے کا موقع ملا۔کہنے کو 28دن لیکن وہ وقت لمحوں میں گزر گیا ،جیسے چلتی گاڑی سے کسی علاقے کا نظارہ کیا جاتا ہے۔سرینگر پہنچا تو میرے بڑے ماموں عبدالرشید شاہد اہل خانہ کے ہمراہ مجھے لینے آئے ہوئے تھے۔چار ہفتے کے اس دورے میں میرا ’’ہیڈ کواٹر‘‘ توحید کالونی بمنہ میں واقع رشید ماموں کا گھر رہا۔میرے زیادہ دن اور راتیں وہاں ہی گزریں لیکن رشید ماموں مجھ سے ناراضگی کا اظہار کرتے رہتے کہ ’’میں نے ان کے گھر کو پوسٹ آفس سمجھ رکھا ہے،جہاں آتے جاتے مختصر وقت کے لئے ٹہر جاتے ہو‘‘۔میں جب کہتا کہ ’’ماموں ،میرے زیادہ دن تو یہاں ہی گزرے ہیں ‘‘ تو وہ کہتے ’’ ہاں جی جیسے دو منٹ کے لئے درخت کی چھاؤں میں بیٹھا جاتا ہے اسی طرح تم میرے گھر قیام کرتے ہو‘‘۔
میرے اس دورے کی اصل وجہ میرے دوسرے ماموں محمد حسین وانی سے ملاقات تھی جو شدید علیل تھے۔میرے رشتہ دار تقریبا کشمیر کے تمام علاقوں میں رہتے ہیں ،یوں میں وادی کشمیر کے مختلف حصوں میں محو سفر رہا۔افسوس کہ وقت اور درست پلاننگ کی کمی کی وجہ سے میں کئی رشتہ داروں سے ملنے سے محروم رہا جس کا مجھے بے حد افسوس ہے۔حسرت اس بات کی بھی رہی کہ مختصر وقت میں رشتہ داروں سے ملاقاتوں میں تسلی نہیں ہوئی۔رشتہ داروں سے ملنے ان کے گھر جاتا تو آنسوؤں پر قابو نہ رہتااور ملاقات کا وقت جذبات میں ہی گزر جاتا۔ میں اپنے والد گرامی خواجہ عبدالصمد وانی کی وفات کے بعد خود کو بوڑھا تصور کرنے لگا تھا لیکن کشمیر جا کر اپنے رشتہ داروں سے ملا تو اس سے مجھے وہ طاقت ملی کہ میں خود کو جوان اور لاپرواہ محسوس کرنے لگا۔میری روحانی تسکین کا ایک وقت وہ تھا جب بارہمولہ میں میرے ایک ماموں ڈاکٹر ارشاد وانی(پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج بارہمولہ)نے اپنے گھر میں مجھے کہا کہ’’ تم یہاں توڑ پھوڑ کرو یا گھر کو آگ لگا دو ،تمہیں کوئی روک نہیں سکتا،ماں کے ماتہ مال(والدہ کے ننھیال) میں سب کچھ کیا جا سکتا ہے۔‘‘
میں کشمیر میں ہر چیز کو بہت غور اور گہرائی سے دیکھتا رہا،چاہے وہ وہاں کے پتھر ہوں،وہاں کی مٹی ہو،وہاں کے درخت ہوں ،وہاں کے دلفریب نظارے یا راستے میں پڑی گندگی،میں ہر شے کو پیار اور انسیت سے دیکھتا رہا۔وہاں راستوں پہ چلتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات دستک دیتی رہتی کہ کس طرح کشمیر کو مصائب سے نکال کر وہاں کے قصبوں،دیہاتوں ،آبادیوں کو یورپ کی طرز پہ صاف ستھرا بنایا جا سکتا ہے۔مجھے وادی کشمیر میں پانی کے ذخائر،جھیلوں ،ندی نالوں بالخصوص چشموں کی آلودہ صورتحال پر بڑا دکھ محسوس ہوا۔اکثر چشموں پر خواتین کو کپڑے دھوتے دیکھااور تاریخی چشموں کی ابترحالت نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔اپنے آبائی علاقے صفا پور میں اپنے گھر کے اطراف میں چند چشموں کی اس حالت زار کو دیکھ کر میرا بہت دل کیا کہ میں اپنے خاندان کے نوجوانوں کو اکٹھا کر کے ان چشموں کی صفائی اور انہیں بہتر بناؤں لیکن وقت کی قلت سے میں ایسا نہ کر سکا۔والد محترم خواجہ عبدالصمد وانی مرحوم کے ایک کزن کے فرزند ڈاکٹر شاہد ٹاک ( کارڈیالوجسٹ)کے ساتھ بیجبہاڑہ اسلام آباد ،اننت ناگ گیا۔وہاں سے ہم سب پہلگام اور ایک چھوٹی سے خوبصورت وادی بیتاب بھی گئے۔ڈاکٹر شاہد ٹاک نے بتایا کہ دس سال پہلے ’’ پک نک‘‘ کے لئے جاتے ہوئے کوئی اپنے ساتھ پینے کا پانی نہیں رکھتا تھا لیکن اب وادی کشمیر میں پانی کے ذخائر اتنے آلودہ ہو گئے ہیں کہ پینے کا پانی گھر سے ساتھ لیکر جانا پڑتا ہے۔
یوں تو تمام وادی کشمیر مجھے اپنا گھر محسوس ہوا لیکن صفاپور کی گلیوں،سڑکوں پہ گھومتے ہوئے جو احساس تسکین مجھے ملا ،وہ سب سے بڑھ کر تھا۔مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ اپنے آبائی علاقے سے انسان کی جڑیں کس طرح جڑی ہوتی ہیں ،باوجود اس کے کہ وہ وہاں پیدا نہ ہوا ہو،وہاں پلا بڑھا نہ ہو۔کشمیرمیں میرے بھتیجوں،بھانجوں،بھتیجیوں،بھانجیوں کی تعداد درجنوں میں بنتی ہے۔میرے کزنز کا شمار بھی ایک مشکل کام ہے لیکن ان کی محبت ،لگاوٹ ،پیار اور گہرے تعلق کو محسوس کرنے میں مجھے کوئی دشواری نہیں ہوئی۔
راولپنڈی میں کوئی دوست ،تعلق دار جب یہ پوچھتا ہے کہ ’’ آپ کہاں ہوتے ہیں،ملاقات ہی نہیں ہوتی ‘‘ تو میں فورا اس سے دریافت کرتا ہوں کہ ’’ کیا فیس بک پہ آپ کا اکاؤنٹ ہے؟‘‘یعنی اب انٹر نیٹ انسانوں کے درمیان رابطے و اطلاعات کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔چند روز قبل میرے ایک عزیز ندیم وانی المعروف افسر(خوجہ باغ بارہمولہ) نے فیس بک پہ اطلاع دی کہ گزشتہ سال سے شدید علیل میرے چھوٹے ماموں محمد حسین وانی کا انتقال ہو گیا ہے ۔بھارتی حکومت کی پابندی کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر سے پاکستان ٹیلی فون نہیں ملتا۔اگر انٹر نیٹ کا رابطہ نہ ہوتا تو شاید فوتگی کی یہ اطلاع بیرون ملک مقیم کسی رشتہ دار سے تاخیر سے ملتی۔محمد حسین وانی سرینگر کے علاقے زاڈی مسجد صفا کدل علاقے میں رہتے تھے۔نماز جنازہ کے بعد ان کی میت ان کے آبائی علاقے خانپورہ بارہمولہ لیجائی گئی جہاں دوبارہ نماز جنازہ کے بعد ان کی تدفین کی گئی۔
یہ اطلاع ملنے پر میں نے سب سے پہلے رشید ماموں کے نمبر پر کال کی لیکن ان کا فون بند جا رہا تھا۔بار بار رابطے پر بھی فون بند ملا تو مجھے حیرت ہوئی کیونکہ شعبہ صحافت سے منسلک ہونے کی وجہ سے ان کا فون کبھی آف نہیں ہوتا۔رشید ماموں کا فون نہ ملنے پر ڈاکٹر ارشاد صاحب(پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج بارہمولہ) کو فون کیا اور ان سے حسین ماموں کی وفات کی تفصیل حاصل کی ۔ڈاکٹر ارشاد صاحب نے کہا کہ دو بری خبریں ہیں ،ایک تو حسین صاحب کے انتقال کی اور دوسری یہ کہ عبدالرشید شاہد صاحب شدید علیل ہیں اور انہیں دہلی کے گنگا رام ہسپتال داخل کرایا گیا ہے۔ ڈاکٹر ارشاد صاحب بتا رہے تھے کہ محمد حسین کی نماز جنازہ پہ عبدالرشید شاہد صاحب کو موجود نہ پاتے ہوئے جب ان سے متعلق دریافت کیا گیا تو معلوم ہوا کہ گردوں کا مرض دریافت ہونے پر دو دن قبل ہی انہیں ہسپتال داخل کیا گیا ہے۔رشید ماموں مجھے روزانہ قرآن پاک کی آیات اور حدیث کے اسباق ای میل کرتے تھے۔ان کی بیماری کی اطلاع کے بعد میں نے اپنا ای میل اکاؤنٹ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ گزشتہ کئی دنوں سے رشید ماموں کی ای میل نہیںآ رہیں۔اگر میں اپنے نام آنے والی ای میلز صحیح طرح چیک کرتا تو مجھے معلوم ہو جاتا کہ کوئی خاص وجہ ہے جو ماموں کی ای میل اب نہیں آ رہی ہے۔
یوں تو وادی کشمیر کی ہر جگہ معطر ہواؤں سے لبریز ہے لیکن وہ مقام جہاں بیٹھ کر مجھے وادی کشمیر میں موجودگی کا حقیقی احساس ہوتا تھا ،وہ رشید ماموں کے گھر کی اوپر والی منزل کا وہ کمراتھا جہاں میرا قیام رہا۔دو طرف کی کھڑکیوں سے آنے والی خوشگوار ،قوت بخش ہوا مجھے وادی کشمیر میں موجود ہونے کا قوی احساس دلاتی تھی۔میں جب اس کمرے میں تنہا ہوتا تو یوں محسوس ہوتا کہ میں وادی کشمیر کے کسی خوبصورت ترین مقام پر بیٹھ کر بند آنکھوں سے جنت نظیر کو گہرے طور پر محسوس کر رہا ہوں۔وقت کی کمی کی وجہ سے جن ملاقاتوں،جن چیزوں سے محروم رہا،اس کی تسکین مجھے اس کمرے میں بیٹھ کر حاصل ہوتی رہی۔
ایک دن زاڈی مسجد صفا کدل علاقے میں محمد حسین وانی کے گھر بیٹھا تھا کہ شام ہو گئی اور ایک عزیز کے ساتھ چشمہ شاہی جانے کا پروگرام بن گیا۔شام ہوتے ہی موسم ذرا خنک ہونے لگا تھا۔میں چشمہ شاہی جانے کے لئے گھر سے نکلنے والا تھا کہ حسین ماموں نے آواز دیکر مجھے روکا اور کہا کہ باہر سردی ہے،اوپرکچھ پہن لو،میری ممانی فورا حسین ماموں کی ایک جیکٹ نکال کر لے آئیں اور محبت سے مجھے پہنوائی۔واپسی پہ میں نے وہ جیکٹ اتارنا چاہی تو حسین ماموں نے منع کرتے ہوئے کہا کہ ابھی سردی ہے ۔28دن کے بعد میں واپس راولپنڈی آ گیا۔ حسین ماموں کی وہ جیکٹ اس وقت میری الماری میں ہینگر پر لٹکی ہوئی ہے۔اس جیکٹ کا احساس کیسا اور کیا ہے،شاید میں یہ بات الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔
لوگوں کو اپنی پہلی اور آخری ملاقاتیں اکثر یاد رہتی ہیں اور ان میں سے بعض یادیں سب پر حاوی ہوتی ہیں۔رشید ماموں کے اس جنت نما کمرے کے ساتھ آخری رات سونے سے پہلے تنہائی میں جو چند گھنٹے گزارے ،وہ میری زندگی کی وصل کی ملاقاتوں میں سب سے نمایاں اور یادگارہے۔جس طرح موت کے وقت تمام زندگی لمحوں میں ذہن میں گونج جاتی ہے اسی طرح وادی کشمیر میں گزارے چند دنوں کے مختلف نظارے نظروں میں گھومنے لگے ۔وہ وادی کشمیر میں میری آخری رات تھی۔رشتہ دار ملنے کے لئے رشید ماموں کے گھر آ رہے تھے۔تمام دن ملاقاتوں اور واپسی کی تیاری میں گزرا۔رات کو کھانے کے بعد ہم ان لمحوں کو زندہ رکھنے کے لئے فوٹو گرافی کر رہے تھے کہ رشید ماموں نے ایک لفافہ کھول کر اس میں سے ایک خوبصورت ،بیش قیمت ریشمی گاؤن نکالا،جس پر کشمیری کڑھائی کا شاندار کام تھا۔میرے والد تو شوق سے گاؤن پہنا کرتے تھے لیکن میں نے کبھی گاؤن استعمال نہیں کیا تھا۔ماموں نے گاؤن کھول نہایت محبت سے مجھے پہنایا اور پھر گہری نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے مسکرانے لگے،مجھے اپنے ساتھ کھڑا کیا اور کہا ’’ اب ہماری تصویر بناؤ‘‘۔رات گئے سامان کی پیکنگ سے فارغ ہوئے تو اچانک ماموں کمرے سے باہر نکل گئے۔واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک کالے رنگ کا ڈبہ تھا۔انہوں نے ڈبہ کھول کر اس میں سے ایک پین نکالا ،اسے کھول کر دیکھا،مجھے دکھایا اورواپس ڈبے میں رکھ کر میرے بیگ میں ڈال دیا۔
رشید ماموں نے مجھے پین کا تحفہ کیوں دیا؟ مجھے کشمیری کڑھائی والا قیمتی گاؤن کیوں دیا؟مجھے کچھ کچھ اب سمجھ آ رہا ہے۔اس وقت میں سمجھا کہ وہ قلم کے ذریعے مجھے میرا فرض یاد دلا رہے ہیں اور گاؤن کا تحفہ ایک بزرگ کی طرف سے بلند مقام عطا ہونے کی دعا ہے۔لیکن اب مجھے سمجھ آیا کہ انہوں نے یہ چیزیں مجھے اس لئے بھی دی تھیں کہ ان کی دور اندیشی جانتی تھی کہ نا معلوم ہمیں ایک دوسرے کی میت پہ رونے کا موقع ملے نہ ملے۔ہم کتنے الم نصیب کشمیری ہیں کہ ہمیں اپنے پیاروں کی میت پہ رونے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔وادی کشمیر گھر میرا ہے لیکن اختیار، وہ بھی ظالمانہ ،کسی اور کا ہے۔کشمیری اپنی ذات میں آزاد ہے اور اسی لئے وہ تنہا ہی تڑپنے،سسکنے اور رونے پر مجبور ہے۔کیا ظلم عظیم ہے کہ اعلی انسانی اقدار و تہذیب کے حامل کشمیریوں کو انسانیت کا درجہ بھی عطا نہیں کیا جا رہا۔ سخت گرمی ہے،گرمی کی شدت جسم جھلسا رہی ہے،لیکن یہ پنجاب ہے،دوپہر کو کھانے کے بعد قیلولہ کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے،ابھی رات نہیں دوپہر کی تیز چمک ہے،لیکن میرا خیال ہے کہ اب تھوڑی دیر کے لئے سو جانا چاہئے۔note

یہ بھی پڑھیں  کشمیریوں کے قاتل بھارت کو آزادی منانے کا حق حاصل نہیں ، جمو ں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker