پاکستانتازہ ترین

یقین ہےکہ نگران سیٹ اپ بھی اتفاق رائےسےبنے گا،قمرزمان کائرہ

qamar zaman kairaلاہور(نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ میڈیا میں عدالتی ریمارکس شائع ہونے کی بجائے فیصلے رپورٹ ہونے چاہئیں تاکہ الیکشن کا ماحول سازگار رہے ، ملک میں انتخابات وقت پر ہوں گے اور یقین ہے کہ نگران سیٹ اپ بھی اتفاق رائے سے بنے گا، پاکستان میں کوئی انقلاب نہیں آئے گا، یہاں انقلاب کے نعرے تو لگتے ہیں لیکن وطن عزیز انقلاب کی بنیاد کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں گورننس بہتر ہونی چاہئے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کے کس ملک میں 5سالوں میں معاملات درست ہو گئے تاہم ہمیں مل جل کر نظام کو درست کرنا ہو گا اور چناؤ میں بہتر لوگوں کو آگے لیکر آنا ہو گا۔ وہ اتوار کے روز رائل پام کنٹری کلب میں پاکستان جرنلسٹ فورم کی افتتاحی تقریب اور ’’ملک میں جمہوریت کیوں ناگزیرہے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر پاکستان جرنلسٹ فورم کے صدر علی احمد ڈھلوں ، جنرل سیکرٹری ذولفقار راحت ،پروفیسر مہدی حسن، امتیاز عالم، سی پی این ای کے صدر جمیل اطہر سمیت سینئر صحافیوں اور دانشوروں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ جمہوریت کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن ممالک میں جمہوریت کے علاوہ نظام موجود تھے وہاں بھی اب جمہوریت پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان میں جو ں جوں جمہوریت آئی ملک مضبوط ہوا اور جب بھی جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوشش کی گئی ملک کمزور ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستیں جن اصولوں پر بنائی جاتی ہیں اگر ان اصولوں پر نہ چلائی جائیں تو وہ قائم نہیں رہتیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت صرف قوانین یا آئین بنانے سے نہیں آجاتی بلکہ رویے بدلنے سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے ملک میں پارلیمانی جمہوریت کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ یہاں صدارتی جمہوریت بھی نہیں چل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہمیشہ یہ تصور رہا کہ مرکز مضبوط ہو نے سے ملک مضبوط ہو گا لیکن حقیقت میں اس سے ملک کمزور ہوا۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آئین کو بہت حد تک درست کیا اور ایک نئی جہت ڈالی اور اتفاق رائے سے فیصلے کر کے آگے بڑھے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئین کی بحالی، این ایف سی اور قانون سازی میں اتفاق رائے کے فیصلے کرنے کی کوشش کی جو کہ پاکستان جیسی ریاست کیلئے ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں انتخابات وقت پر ہوں گے اس پر کوئی دو رائے نہیں اور یقین ہے کہ نگران سیٹ اپ بھی اتفاق رائے سے بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ آمریت میں بدقسمتی سے ملک میں سیاست کو گالی بنا دیا گیا اور اداروں کا تمسخر اڑایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں کوئی انقلاب نہیں آئے گا، یہاں انقلاب کے نعرے تو لگتے ہیں لیکن وطن عزیز انقلاب کی بنیاد کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دہشتگردی کے حوالے سے کہا کہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے آج دہشتگردوں کے پاس سوات، مالاکنڈ اوروزیرستان موجود نہیں لیکن ہمارے ہاں دہشتگردی سے محبت کرنے والے بعض لوگ موجود ہیں،ہمیں ایسے عناصر کے چہرے عوام کے سامنے لانا ہونگے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں گورننس بہتر ہونی چاہئے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کے کس ملک میں 5سالوں میں معاملات درست ہو گئے تاہم ہمیں مل جل کر نظام کو درست کرنا ہو گا اور چناؤ میں بہتر لوگوں کو آگے لیکر آنا ہو گا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھیں اور عوام کی آراء میں بہتری لائیں تاکہ جمہوریت مضبوط ہو سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا، صوبائی خود مختاری دی،تعلیم اور صحت کو صوبوں کے حوالے کیا۔ این ایف سی کے تحت اڑھائی سالوں میں 1100ارب روپے صوبوں کو اضافی دیئے گئے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم نے سٹرکچرل ریفارمز کر دیں اب ڈلیوری اگلا مرحلہ ہے جو آئندہ بننے والی حکومت کے ذمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بد قسمتی سے سیاسی جماعتوں کو توڑا گیا اور موسمی پرندوں کی طرح وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو محترم بنا دیا گیا۔ انہوں نے عدلیہ سے اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ میڈیا صرف عدلیہ کے فیصلوں کو رپورٹ کرے، عدالتی ریمارکس کی ٹی وی چینلز یا اخبارات میں نشرو اشاعت نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو بھی اس بات کا عہد کرنا چاہئے کہ قائد اعظم نے ملک میں پارلیمانی جمہوریت کا وعدہ کیا تھا کیونکہ اس کے علاوہ آگے بڑھنے کا کوئی اور راستہ نہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک میں نگران سیٹ اپ کے قیام کی باتیں کی جا رہی ہیں لیکن آئین کے مطابق نگران سیٹ اپ کا عمل ابھی شروع نہیں ہو سکتا، اس کا وقت طے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے وہ ساری باتیں برداشت کیں جو لغویات کے ذمرے میں آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کیلئے الیکشن کمیشن سے رابطہ کرے تو حکومت سپورٹ کرے گی۔قمرزمان کائرہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہر دور میں عدالتوں کا سامنا کیا اور عدالتوں کا احترام کیا اس کی اینٹ سے اینٹ نہیں بجائی۔ میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ لشکر جھنگوی کے خلاف آپریشن یا ان کے حوالے سے ثبوت وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے پاس ہیں،وہ ان کے اپنے ریسورسز ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پرویز مشرف نے میڈیا کو آزادی دی یہ بات درست نہیں کیونکہ میڈیا نے اپنی قربانیوں سے آزادی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے 1973ء کے آئین کو پراگندہ کیا لیکن موجودہ حکومت نے آ کر اس کر صاف کر دیا۔سیاست میں وراثتی نظام کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ جماعتیں طاقت کا منبع نہیں ہوتیں لوگ جماعتوں کی وراثت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں جوائن کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button