پاکستانتازہ ترین

افواج پاکستان اور عدلیہ کو سیاسی مشاورت میں شامل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، قمر زما ن کائرہ

qamarرحیم یار خان (نامہ نگار) وفاقی وزیراطلاعات و نشریا ت قمر زما ن کائرہ نے کہا ہے کہ افواج پاکستان اور عدلیہ کو سیاسی مشاورت میں شامل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ملک میں سیاسی استحکام کے لیے مشاورت صرف سیا سی پارٹیوں سے کریں گے تا ک جمہوریت کا تسلسل جاری رہ سکے ۔ بدھ کے روز رحیم یار خان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طاہر القادری پتہ نہیں کس کے ایجنڈے پر کا م کر رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ جمہوریت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اسمبلیوں میں اپنی اکثریت کے ذریعے ملکی نظام کو بدلنے کی باتیں کریں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کا ہی حسن ہے کہ طاہر القادری پانچ سال بیرون ملک گزارنے کے بعد اب پاکستان میں دوبارہ اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا ہے اور اسی مفاہمت کے نتیجے میں صدر آصف علی زرداری نے مخدوم سید احمد محمود کو پنجاب کا گورنر نامزد کیا ہے جس سے توقع ہے کہ اس سے سیاسی تلخیاں بھی کم ہو سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی بقاء صرف سیاست میں ہی ممکن ہے کیونکہ جب سیاست کا راستہ بند کر دیا گیا تو اس کے نتیجے میں ہمارے ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے اس لیے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ نئے انتخابات کے موقع پر سب سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں تا کہ دوبارہ جمہوریت پر کوئی شب خون نہ مار سکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے صوبے بحال نہیں ہو سکتے نئے صوبے صرف آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق ہی بن سکتے ہیں ۔ اصغر خان کیس سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو چاہیے تھا کہ اس کیس میں ملوث جرنیلوں کو خود ہی سزا دے دیتی تا کہ یہ کیس اپنے انجام کو پہنچ جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی تلخیاں کم کرنا چاہتے ہیں اسی لیے ہم نے ایف آئی اے کے ذریعے شریف برادران کی تشویش کرانا مناسب نہیں سمجھا ۔ ایم کیو ایم کا طاہر القادری کے لانگ مارچ کی حمایت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ایم کیو ایم ان کی حلیف جماعت ضروری ہے لیکن ان کی اپنی پالیسیاں ہیں اور وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اپنے حصے سے زیادہ بجلی اور گیس استعمال کر رہا ہے اگر بجلی اور گیس کی غیر معمولی قلت کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان کو جنریٹرز کے ذریعے اپنی فیکٹریاں چلانی پڑ رہی ہیں تو انہیں 20ْْ25/روز کے لیے ملکی کی خاطر قربانی دینی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض صنعت کار اس مسلے کو ایشو بنا کر صوبائیت کو فروغ دے رہے ہیں جو کہ سر ا سر غلط ہے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پنجاب کے مفادات کا تحفظ کیا ہے اور وہ خود شریف برادران سے پڑے پنجابی ہیں ۔پریس کانفرنس میں ایک صحافی کی جانب سے وزیر اعظم کو راجہ رینٹل کہنے پر وفاقی وزیر اطلاعات قمرزمان کائرہ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو کسی عدالت نے ابھی تک مجرم قرار نہیں دیا اور نہ ہی کسی عدالت کی جانب سے انہیں کوئی سزا وغیرہ دی گئی ہے ۔ پریس کانفرنس کے موقع پر سابق وفاقی وزیر مذہبی امورحامد سعید کاظمی ، ایم این اے چوہدری جاوید اقبال وڑائچ اور ایم پی اے انجینئر جاوید اکبر ڈھلوں اور جاوید حسن داد گجر بھی موجود تھے ۔

یہ بھی پڑھیں  رکشہ عوامی سواری۔۔لیکن ؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker