امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

قانون کی حکمرانی

اب نہ گھبرانا ہے،اور نہ جھکنا ہے جوگولی نام کی ہوگی وہی لگے گی ۔ملک میں اب قانون کے علاوہ کسی قسم کاایکشن نہیں ہوگا جس کسی کو شبہ ہے تو میں دہراتاہوں کہ ملک میں اب صرف اورصرف آئین وقانون کی حکمرانی ہوگی ۔اب اگر عدلیہ،پارلیمنٹ ،عوام کے خلاف کوئی اقدام ہوا تواس کی سب سے پہلی مخالفت عدلیہ کی طرف سے ہوگی ۔جیسے 3نمبر 2007ئ کو ہوئی تھی۔یہ کہنا ہے جناب عزت مآپ چیف جسٹس افتخار چودھری صاحب کا۔ ان کے اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ پوری طرح جمہوریت کے حامی ہیں اور وہ کسی بھی حالت میں فوج کو اقتدارپر قابض ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ان کا یہ بیان سو فیصد عوامی امنگو ں کی ترجمانی ہے ۔عوام بھی ملک میں جمہوریت ہی چاہتے ہیں ۔اب نہ گھبرانا اور نہ ہی جھکنا ہے اگر یہی عزم پوری قوم کا ہو تو پاکستان کو ترقی پزیر سے ترقی یافتہ بننے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔ایسی جمہوریت جس میںقانون کابول بالا ہو،جس میں انصاف بلاامتیاز کیا جائے ۔جس میںحلال رزق کمانا آسان ہو۔جس میں روزگار کی فراوانی ہو۔جس میں عوام کی طرح حکمران بھی قانون کے تابع ہوں ۔افسوس سد افسوس کہ موجودہ جمہوری حکومت میں ایسی کوئی خوبی نہیں ۔یہ تو اپنی کرپشن اور ہٹ دھرمی کو چھپانے کے لیے آئین ہی بدل رہے ہیں ۔ ۔کتنی شرم کی بات ہے کہ حکمران اپنی کالے کرتوتوں کو تحفظ دینے کے لیے ملک وقوم کا مستقبل دائو پر لگارہے ہیں۔ان مشکل ترین حالات میں عدلیہ کا سٹینڈ لینا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کم نہیں اگر عدلیہ اسی طرح قانون کی پاسداری کرتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں حقیقی طور پر قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ چیف جسٹس پاکستان کی تاریخ کے پہلے چیف جسٹس ہیں جو ایک طرف تو کرپٹ عوامی نمائندوں کو کرپشن کرنے سے روک رہے ہیں اور دوسری طرف فوج کے اقتدار پرقابض ہونے کاراستہ بھی روک رہے ہیں ۔یہاں اگرجناب چیف جسٹس افتخار چودھری کے حوصلے کی داد نہ دی جائے تو ناانصافی ہوگی ۔اس وقت مشکلات میں گھری پاکستانی عوام کو کوئی امید کی کرن نظر آتی ہے تو وہ افتخار چودھری ہیں ۔عوام نے ملک میں فوج آمریت اور جمہوریت حکومت تو بہت دیکھی ہے لیکن کبھی بھی قانون کی حکمرانی نصیب نہیں ہوئی ۔ نہ تو کبھی کسی فوجی حکمران نے قانون کی حکمرانی کی بات کی اور نہ ہی کبھی کسی جمہوریت کے دعویدار سیاست دان نے ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کی ۔میں سمجھتا ہوں کہ آج پاکستا ن کے 18کروڑعوام چیف جسٹس آف پاکستان کے مشکور ہیں۔جن کے بیان نے محب وطن پاکستانیوں کے دل ٹھنڈے کردیے ہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کا یہ بیان تمام ملک دشمن طاقتوں کو 18کروڑ عوام کی طرف سے پیغام ہے کہ اب بس بہت ہوچکا اب ہم اپنے فیصلے آئین اورقانون کے مطابق خودکریں گے ۔اب لاقانونیت کی پاک سرزمین پر کوئی گنجائش نہیں ۔میں سلام پیش کرتا ہوں چیف جسٹس افتخار چودھری اور اعلیٰ عدلیہ کے تمام جج صاحبان کو جو ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عدلیہ تواپنا فرض ادا کررہی ہے ۔لیکن عوام ابھی تک سو رہی ہے ۔آْج پاکستانی عوام کو وقت پکارپکار کرکہہ رہا ہے کہ اب بھی وقت ہے جاگ جائوکہیں ایسا نہ ہوکہ تم سوتے ہی رہ جائو اور غلامی کا طوق پھر سے تمہارا مقدر بن جائے ۔اب اہم سوال یہ ہے کہ عوام کو کیا کرنا ہوگا؟ میرے خیال میں عوام کو اپنے لیے اچھے رہنما تلاش کرنا ہوں گے۔اچھے رہنمائوں کی پہچان کیسے ہوگی۔سب سے پہلی شرط یہ ہے قائد ایماندار ہو۔قائد کی شخصیت اور اس کا کردار آئنیے کی مانند ہونا چاہیے اس کے ظاہر وباطن میں تضادنہ ہو،اس کے کردار پر کوئی انگلی نہ اٹھاسکے ،اس کی معاشرتی زندگی بے داغ ہواور اس کی گھریلوزندگی پر اخلاق ہو۔مثالی قائد کا ملک و ملت کی فلاح وبہبود مادی اور روحانی ترقی کے لیے ہر وقت فکر مند رہنا بے حد ضروری ہے۔ایک مثالی قائد بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندرتوکل ،قناعت ،صبر اور استقامت کی خوبیاں پیدا کرے ،تکبر ،حسد، لالچ،بخل ،ریا،حرام رزق ،غیبت اور تہمت کو حرام سمجھتے ہوئے ان سے اجتناب کرے اور اپنے دامن کوان برائیوں سے آلودہ نہ ہونے دے۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ایمان صرف کسی ایک عمل کا نام نہیں بلکہ ایمان تو بہت سے اوصاف اور اعمال کا مجموعہ ہے ۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایمان کی بہتر ﴿72﴾سے زائد شاخیں ہیں۔کلمہ تو درخت کی ماند ہے ۔جس طرح محض درخت کا تنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ پتے اور شاخیں بھی ضروری ہیں ۔جن پر پھل لگتا ہے۔اسی طرح کلمے کے ساتھ دیگر اعمال صالحہ ضروری ہیں اور بری خصلتوں سے اجتناب بھی کیونکہ ان سے نیک اعمال ناقص اور ضائع ہوجاتے ہیں۔قائد کے اوصاف میں اچھا مقر رہونا اور اظہار خیال پر قدرت رکھنا جیسی صلاحیتیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔قائد اپنے نظریات ،خیالات اور افکار کو احسن طریقے سے منتقل کرسکے کہ اس کی باتیں سامعین کے قلوب کو مسخر کرتی جائیں۔اس کے لیے اخلاص نورانی قلب اور پاکیزہ زبان کی ضرورت ہے ۔وہ گفتار کا غازی ہواور کردار کا بھی غازی ہو۔وہ قرآن وحدیث کے حوالوں ،بزرگوں کے اقوال واعمال اور اعدادو شمارکے ساتھ سامعین کو اپنا ہمنوابنالے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’انسان کو تب تک کچھ نہیں ملتا جب تک وہ اس کے لیے محنت نہ کرے ‘‘قائد کے لیے ضروری ہے کہ وہ منزل مراد کے حصول کے لیے خود بھی تحریکی جدوجہد کے لیے ہمہ وقت مصروف رہے اور قوم کو
بھی لگاتار محنت کے لیے ابھارے اور انہیں بے عملی کے عذاب سے نکالے کیونکہ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی اور جہنم بھی ۔یہ دور مقابلے ﴿compition﴾ کا ہے ۔زمانہ جس تیزرفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے اس میں سست آدمی کا کوئی مقام نہیں۔یہاں مجھے رہ رہ کر اپنے عظیم قائد ،قائد اعظم محمدعلی جناح کا فرمان یاد آرہا ہے جس میں انھوں نے کہا فرمایاکہ کام ،کام اور خوب کام کرو۔آج ہم جن ممالک کو ترقی یافتہ دیکھتے ہیں ۔ان ممالک کے عوام اور حکمران بھی کام پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔بشکریہ﴿پریس لائن انٹرنیشنل﴾