احمد رضا میاںکالم

قانون سے بالا ہیں حُکامِ بالا

ہمارے ملک میںقانون ہر طبقے کے لیئے الگ الگ بنایا گیا ہے۔قانون کی بالا دستی سب سے چھوٹے طبقے سے شروع ہوتی اور جوں جوں طبقات بلند ہوتے جاتے ہیں قانون کی "بالا دستی” پست ہوتی چلی جاتی ہے اور آخر کار اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔اس کی مثال آپ اپنے ارد گرد بسنے والے مختلف طبقات میں بٹے ہوئے لوگوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ چلیں اس کی مثال ہم ایک ہی گھر میں بسنے والے لوگوں سے لیتے ہیں ایک گھر میں اگر چار یا پانچ افراد رہتے ہیں تو اُن میں سے ایک فرد گھر کا سربراہ بھی ہو گا جو سب سے بالا ہو گا اور اُس گھر کے لوگوں کے کچھ اُصول بھی ہوں گے وہ اُصول منے کے لیئے الگ ، بڑے بھائی کے لیئے الگ،اور بابا کے لیئے الگ۔چلیں ایک گھر کی بات چھوڑیں ہم گھر سے باہر نکل کر گلی یا محلے کی بات کرتے ہیں۔ ہر گلی محلے کی کوئی نہ کوئی کمیٹی یا جماعت ہوتی ہے اور اُس کمیٹی یا جماعت کا ایک صدر یا چیئر مین بھی ہوتا ہے اور اُس صدر کے لیئے یا اُس چیئرمین کے لیئے کمیٹی کے اُصول ہو سکتا ہے دوسرے ممبرز سے الگ ہوں لیکن یہ فرق بہت معمولی سا ہو گا جس کو ہم کم ہی محسوس کر سکتے ہیں کیوں کہ اُصولوں کی اس تفریق کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی۔اب ایک گاوں یا ایک علاقے کی بات کرتے ہیں ۔ ہر گاوں یا علاقے میں ایک آدھ چوہدری بھی ہوتا ہے اور کئی علاقوں میں سرداروں کی حکومت بھی ہوتی ۔یہاں آکر قانون یا اُصول کی بات کریں تو یہاں آپ کو کافی حد تک طبقاتی فرق محسوس ہو گا۔ گاوں کا چوہدری یا علاقے کا سردار اپنے سے کمتر انسان پر اگر ظلم یا زیادتی کرتا ہے تووہ کمزور انسان انصاف کے لیئے اگر قانون کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو اُسے بجائے انصاف کے مایوسی ہی ملتی ہے کیونکہ یہ ظلم یا زیادتی ایک وڈیرے نے اپنے ایک کمی پر یا اپنے علاقے کے ایک غریب انسان پر کی ہے اور ہمارے قانون کی نظر میں دونوں کے درمیان زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ کیوں کہ یہاں بات آ جاتی ہے طبقوں کی ایک ادنیٰ طبقہ اور ایک اعلیٰ طبقہ تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہاں قانون کی بالا دستی پر طبقاتی بالا دستی کو فوقیت نہ دی جائے۔اسی بات کو اگر ہم دوسرے زاویئے سے دیکھیں یعنی اگر کسی غریب یا چھوٹے طبقے کے آدمی سے کوئی جرم ہو جائے یا وہ کسی بڑے آدمی کی چھوٹی سی چوری کر بیٹھے تو کیا ہمارا "بالا دست ” قانون اُسے معاف کرے گا سزا تو صرف غریب کے حصے میں آتی ہے۔
بات کو اب آگے بڑھاتے ہیں اور کرتے ہیں بات سیاسی لوگوں کی، بیوروکریٹس کی اور اُن کی جو ملک اور قوم دونوں کے لیئے عذاب الہی ہیںاورمعیشت پر مصلّت ہیںاُن کو ہمارا یہ ”بالادست ” قانون کس نظر سے دیکھتا ہے۔ تھانہ کچہری عدالت اُن کے گھر کی بات ہے وہ نہ تو کسی سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی اُنہیں کو ئی ڈرانے کی ہمت کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں اُنہیں استسنیٰ حاصل ہوتی ہے۔ اُنہیں اس بات کی کُھلی اجازت ہوتی ہے کہ وہ قانون کو جیسے چاہیں اپنے پائوں کے تلے روندتے رہیں۔
پارلیمنٹ میں بیٹھ کر قانون کی بالا دستی کی بات کرنے والے خود عدالتی فیصلوں کو کیا اہمیت دیتے ہیں یہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔توہین عدالت اُن کا مشغلہ ہے اور حکم ِعدالت اُن کے لیئے ایک غیر اہم سی بات۔بلکہ اُلٹا عدالتی احکامات کے سامنے مولا جٹ اور نوری نت کی طرح باقائدہ طور پر اکڑ جاتے ہیں اور بڑھکیں مار مار کر کہتے ہیں کہ ” ہم عدالت کا احترام کرتے ہیں” یہ اُن کی نظر میں احترام ہے اور اندازہ کریں کہ توہین کیا ہو گی۔۔۔ تیرے پیار میں اتنا غصہ ہے تیرا غصہ کیا ہو گا۔۔۔ اتنی ہٹ دھرمی کے باوجود ہمارا "بالادست قانون” اُن کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا کیوں کہ وہ قانون سے بھی بالا ہیںاور اُنہیں ہر قسم کی استسنیٰ حاصل ہے۔وہ ہمارے قانون سے ہی نہیں بلکہ ﴿نعودباللہ﴾ خلفائ راشدین سے بھی بالا تر ہیں جو عدل اور انصاف کے لیئے خود کو قاضی کے سامنے پیش کر دیتے تھے اور قاضی کے احترامً کھڑے ہونے پر بھی اعتراض کرتے تھے۔کہاں وہ پاک ہستیاں اور کہاں یہ چور اُچکّے۔۔۔
جب تک یہ لوگ خود کو قانون سے بالا تر سمجھتے رہیں گے تب تک قانون کی بالا دستی مذاق بنی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں  ویلٹائن ڈے مغربی تعذیب کا شاخسانہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker