پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

قارئین سے سوال

riffat-mazharایک لکھاری کے لیے سب سے زیادہ محترم اُس کا قاری ہی ہوتاہے کیونکہ اُسی کی تنقیدوتنقیص سے ہی لکھاری کوحوصلہ ملتاہے۔ بعض لکھاری تو اِس بات پربھی بہت خوش ہوتے ہیں کہ سوشل میڈیاپر سب سے زیادہ گالیاں اُنہی کو پڑتی ہیں ۔گویا ’’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘۔تحریکِ انصاف پر تنقیدی کالم لکھنا تو بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے کیونکہ ’’سونامیہ ‘‘خواہ کہیں کابھی ہو ہروقت ’’چارج‘‘ہی رہتاہے شاید اسی لیے میرے قارئین مجھے اکثر ڈی چوک اسلام آباد سے باہرنکلنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔قارئین کا حکم سَر آنکھوں پر ،سوال مگر یہ کہ بندہ لکھے تو کیا اور کِس موضوع پرلکھے ؟۔پرویزمشرف کا مقدمہ قصۂ پارینہ بن چکا ۔اِس گھسے پٹے موضوع پر بات کرنے کی اِس لیے ضرورت نہیں کہ اب یہ معاملہ اتنا لٹک چکا کہ ہماری زندگی میں تو اِس کا فیصلہ ممکن نہیں ۔اللہ پرویزمشرف کے طبلے سارنگی کو قائم ودائم رکھے ،راوی اُن کے لیے عیش ہی عیش لکھتاہے ۔۔۔تھَر کے مظلوموں ،مجبوروں اور مقہوروں کا ذکر اِس لیے نہیں کیا جاسکتا کہ بقول وزیرِاعلیٰ سندھ سیّدقائم علی شاہ یہ سب الیکٹرانک میڈیا کی ’’ڈرامے بازی‘‘ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تھَر میں پہلے بھی بچے مرتے رہتے تھے لیکن اُس وقت الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا ۔جب ہماری باری آئی تو الیکٹرانک میڈیا ٹپک پڑا اور ہمیں ’’ایویں خوامخواہ‘‘ وقفِ مصیبت کردیا ۔ایک خبرکے مطابق تھَر میں ہونے والی اموات کا جائزہ لینے کے لیے 230 پروفیسرز ،سینئر اور ینگ ڈاکٹرز جذبۂ ہمدردی کے تحت تھَر میں پہنچے لیکن وہاں کی پولیس نے اُنہیں تین گھنٹوں کے اندر تھَرپارکر چھوڑنے کا حکم صادرفرما دیا ۔اُن ڈاکٹرزکو اتنا خوفزدہ کیا گیا کہ خواتین ڈاکٹرز تو باقاعدہ رونے لگیں ۔بندہ اِن ڈاکٹرز سے پوچھے کہ اُنہیں’’پنگا‘‘لینے کی کیا ضرورت تھی ۔کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ سندھ حکومت کا بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑنے والوں کا یہی حشرہوگا ۔ہماری طرف سے پولیس کی اِس بَروقت کارروائی پر شاباش اور مبارکباد۔تھَر کے مظلوموں جیسے ہی وزیرستان کے آئی ڈی پیزہیں۔بے یارومددگارآئی ڈی پیز کو بے جرم وخطا یہ سزا دی جارہی ہے لیکن قصورخیبرپختونخوا حکومت کا بھی نہیں کیونکہ وہ خاں صاحب کے ساتھ مل کر نئے پاکستان کی بنیادیں اُٹھانے میں مصروف ہے۔جب نیاپاکستان بن جائے گا توپھرزندہ بچ رہنے والے آئی ڈی پیز کی طرف ضرور دھیان دیا جائے گا۔ اِس لیے معزز قارئین نیا پاکستان بننے کاانتظار کریں تاکہ اِس موضوع پر بھی خامہ فرسائی کی جاسکے ۔ویسے یہ بھی ممکن ہے کہ نئے پاکستان میں وزیرستان کی گنجائش ہی نہ ہوکیونکہ الطاف بھائی اور علامہ قادری تو ڈھیروں ڈھیرصوبے بنانے کے چکر میں ہیں لیکن کچھ لوگ ڈھیروں ڈھیرپاکستان بنانے کی تگ ودَو بھی کر رہے ہیں ۔ ۔۔جب دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضربِ عضب شروع نہیں ہوا تھا تب ہم نے طالبان کے خلاف کئی کالم لکھے لیکن اب ہمارے جری جوان دہشت گردوں کا خوب خوب ’’مَکوٹھَپ‘‘رہے ہیں ،90 فیصد سے زائدعلاقہ خالی کروا لیاگیااورانشاء اللہ جلد پورے وزیرستان میں ایک دفعہ پھر سبزہلالی پرچم لہرانے لگے گا ۔اِس لیے اِس موضوع پربھی مزیدلکھنے کی گنجائش نہیں ۔۔۔داعش نامی تنظیم ابھی اپنے پَرپُرزے نکال رہی ہے ،حکمرانوں کی بھی اِس پرکوئی توجہ نہیں اور ہمارا علم بھی اِس معاملے میں فی الحال ناقص ہی ہے ۔جب یہ تنظیم جَڑ پکڑ کر حکمرانوں کو ’’وَخت‘‘میں ڈال دے گی تو پھرہماراقلم بھی رواں ہوجائے گا۔
کالم نگار لکھ لکھ کر تھک بلکہ ’’ہَپھ ‘‘چکے لیکن مہنگائی، بیروزگاری ،ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں سَرِمو فرق نہیںآیا البتہ بین الاقوامی سرویزکے مطابق کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں ایک درجہ کمی ضرورآئی جس پر حکمران بغلیں بجارہے ہیں ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں محض اِس لیے کم ہوگئیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گِرگئی ۔عمران خاں صاحب ’’ایویں خوامخواہ‘‘اِس کا کریڈٹ لے رہے ہیں ۔ پٹرول کی قیمتیں گرنے کی وجہ سے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں دو روپے بتیس پیسے کمی ہوگئی۔ اب خاں صاحب اِس کا کریڈٹ لینے کی بھی کوشش کریں گے ۔۔۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیاکو پیمرا جتنے جی چاہے ’’ہدایت نامے‘‘جاری کرلے اُس پرکچھ اثر نہیں ہونے والا۔جب چینل مالکان پیمرا کوبھی ’‘لفٹ‘‘نہیں کرواتے تو پھر بھلا ہمارے لکھے سے نیوزچینلزپہ بیٹھے چائے کی پیالی پر طوفان اُٹھانے والے اپنی حرکتوں سے کیسے باز آجائیں گے ۔اینکرز کو ریٹنگ کی ضرورت ہے اور چینل مالکان کو بھی کیونکہ ریٹنگ ہوگی تو دھڑادھڑ دولت آئے گی۔اُنہیں تو صرف اپنی تجوریاں بھرنے سے غرض ہے اِس سے کچھ غرض نہیں کہ اُن کے چینلزکی مہربانی سے ملک کا کیا حشر ہورہاہے ۔
چلیے تحریکِ انصاف اور نوازلیگ کے جھگڑے کو جانے دیتے ہیں کہ یہ اناؤں کا مألہ ہے جس میں کسی قانون ،اصول اور ضابطے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ویسے بھی دونوں طرف سقراط ،بقراط ،افلاطون اور ارسطو بھرے پڑے ہیں اِس لیے اُن کے ’’پھَڈے‘‘میں ہم جیسے ’’صلاح کاروں‘‘کی مطلق گنجائش نہیں۔جب بھی کوئی معاملہ ’’ٹھنڈاٹھار‘‘ہونے لگتا ہے تو کسی نہ کسی طرف سے کوئی ’’بقراط‘‘ٹانگ اڑا دیتاہے ۔دھرنے اپنی موت آپ مرنے ہی والے تھے کہ فیصل آبادی ’’بقراطوں‘‘نے اُن میں پھرسے جان ڈال دی ۔ایک لاش گری توخاں صاحب کی آنکھوں کی چمک اور لہجے کی تلخی میں سو گُنا اضافہ ہوگیا ۔اب وہ کہتے ہیں کہ ’’لاہور کا میچ بڑا دلچسپ ہوگا ۔میں بڑی شدت سے لاہور جانے کا انتظار کر رہاہوں ۔اگر نوازلیگ کے گُلوں بٹوں نے وہی کچھ کیا جو فیصل آباد میں ہواتھا تو میں نوازشریف کا لاہور میں رہنا مشکل کر دوں گا‘‘۔ اُمیدِ واثق ہے کہ جب تک طرفین کے ’’ صلاح کار‘‘ باقی ہیں پھڈا چلتا ہی رہے گا اور اب تو عدلیہ کے فُل بنچ نے بھی ہاتھ کھڑے کرکے کہہ دیاہے’’ حکومت کو اپنی کمزوریوں اور تحریکِ انصاف کی چالاکیوں سے خودہی نپٹنا پڑے گا ۔کنٹینر لگانے کا کیا فائدہ ،کیا حکومت کو جلوسوں کے ساتھ چلتی کرین نظر نہیںآتی ؟‘‘۔البتہ ہمیں فُل بنچ کے اِس بیان سے بالکل اتفاق نہیں کہ ’’تحریکِ انصاف نے پوری قوم کو ذہنی طور پر پریشان کر رکھاہے ‘‘۔کیونکہ ہم ذہنی طورپر ’’تماش بین‘‘ہیں اور ہلّے گُلے میں ہی خوش رہتے ہیں ۔ایسا کرتے ہوئے اگر دوچارلاشیں گِر بھی جائیں تو بیس کروڑکی آبادی کو کیا فرق پڑتاہے ۔رہی معیشت کی بربادی کی بات تو ،زیادہ دولت کا کرنا بھی کیاہے ،یہ بھی تو بڑے بڑے مگرمچھوں کے پیٹ میں ہی جانی ہے ۔ اب معزز قارئین خودہی فیصلہ کر لیں کہ ہم کس موضوع کا انتخاب کریں؟۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button