انور عباس انورتازہ ترینکالم

قسم…قدم اور قلم

میرے والد محترم کی عمر اس وقت تقریبا نوے برس ہوگی اور انہوں نے ساری زندگی ٹھیکداروں کے ہیڈ کلرک یعنی منشی کے طور پر خدمات سرانجام دی ہیں…جس دن سے میں روزگار کی تلاش کا آغاز کیا تھا تو انہوں نے مجھے ہدایت فرمائی تھی کہ ’’ بیٹا ساری زندگی تین چیزیں سوچ سمجھ کر اٹھانا اور اگر تم نے میری اس نصیحت کو ’’ پلے‘‘ بانھے رکھا تو انشاء اللہ زندگی میں کبھی ناکامی سے دوچار نہیں ہوگے اور نہ ہی پریشانی کا سامنا کرنے پڑے گا…میں نے پوچھا ’’ابا جی وہ تین چیزیں کونسی ہیں‘‘ کہنے لگے ’’ سوری دیا اگے وی سن تے لے دسن تے لگاواں‘‘ پھر کہنے لگے ’’ وہ تین چیزیں وسم ..قدم اور قلم ہیں میرا مطلب ہے کہ بیٹا زندگی میں قسم قدم اور قلم کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرنا ….ورنہ زندگی میں قدم قدم پر مصائب و آلائم سے چھٹکارہ کبھی نہ پا سکو گے‘‘ آج جب میں اپنے آس پاس نظر دوڑاکر دیکھتا ہوں تو ’’ابا‘‘ حضور کی کہی ہوئی وہ تین باتیں بہت یاد آتی ہیں..خاص کر آج بلوچستان ایف سی کے سات ہزار کلو دہماکہ خیز مواد کی برآمدگی کے دعوے کو جھوٹا ثابت ہوتے دیکھ کر کمجھے ابا حضور کی باتیں اور بھی یاد آئیں کہ اگر ایف کے ذمہ داران دعوی کرنے سے قبل اپنے اس اقدام کے بارے میں سوچ بچار کر لیتے اور جب واقعتاکوئی دہماکہ خیز مواد برآمد ہو جاتا تو پھر میڈیا کو آگاہ کرتے تو جو خفت اور شرمندگی اٹھانی پڑی ہے وہ نہ اٹھانی پڑتی…سوچ رہا ہوں کہ میرے ’’ابا حضور جو میٹرک ہیں نہ ایف اے پاس اور نہ ہی گریجوایٹ وہ تو بس محض پرائمری پاس ہیں اور انہوں نے کتنی سمجھداری کی باتیں مجھے تلقین کیں لیکن ہمارے حکمران اور افسران تو بہت ڈگریاں اپنے پاس رکھتے ہیں پھر یہ سوچ سمجھ کر قدم کیوں نہیں اٹھاتے؟ایف سی کا ماجرا بھی سن لیں…
ایف سی بلوچستان نے دعوی کیا کہ’’ اس نے سات ہزار کلو دہماکہ خیز مواد پکڑا ہے. …لیکن جب گاڑی کو تھانہ لیجا کر تلاشی لی گئی توگاڑی سے اشیاء خورد نوش دالیں.چاول.چنے.کمبل اور یوریا کھاد کی بوریاں برآمد ہوئیں.. ایف سی کی اتنی بڑی ناکامی پر میں بالکل حیران نہیں ہوا .اسکی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں اس سے قبل بھی ایسی بیشمار انہونیاں وارد ہو چکی ہیں.عوام کی حفاظت پر مامور ادارے دعوے بہت کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ان دعوؤں کے برعکس ہوتا ہے.ہاں ایف سی کے اہلکاروں کو اسقدر شک کا فائدہ ضرور مہیا کیا جا سکتا ہے کہ جوسفید مواد ٹیسٹنگ کے لیے لیبارٹری میں بھیجا گیا ہے ہو سکتا ہے کہ اس میں سے کچھ کامیابی مل جائے.میرے لیے حیراننکی بات یہ ہے کہ آج ہی ایف سی کو ملنے والی مدت ختم ہو رتھی اور سات ہزارکلو گرام دہماکہ خیز مواد کی برآمدگی اسکی آخری کارروائی تھی.اسلیے ایف سی کو سوچ سمجھ کر دعوی کرنا چاہئے تھا … اگر ایف سی کے ذمہ داران کی جانب سے گاڑی کی چیکنگ کر لینے کے بعد اور دہماکہ خیز مواد کی برآمدگی کا یقین حاصل ہو جانے کے بعد دعوی کیا جاتا تو بعد میں اٹھائی جانے والی شرمندگی اور خفت سے بچا جا سکتا تھا…لیکن شائد ایف سی کے اہلکاروں اور ذمہ داران کو کوئی جلدی تھی؟خیر جو چکا ہے …سو ہو چکا… اب بھی ایف سی اہلکاران کو اپنے اس غلط اقدام پر عوام سے رجوع کر لینا چاہئے اور عوام سے معافی مانگ لینی چاہئے. کیونکہ غلطی اور کوتاہی کا سرزد ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے ……ہاں غلطی اور کوتاہی اس وقت ناقابل معافی اقدام میں تبدیل ہو جاتی ہے جب کسی غلط اقدام کو درست قرار دینے پر زور دیا جائے…..ہو سکتا ہے کہ اطلاع دینے والے مخبر نے غلط اطلاع فراہم کی ہو اور آتشگیر مادہ کسی اور گاڑی کے ذریعہ منتقل کر دیاگیا ہو ؟ میرے پیارے ایف سی اہلکاران اور زمہ داران بھا ئیوں ! اسی لیے کہتے ہیں کہ کچھ کہنے سے قبل کہی جانے والی بات پر غور و فکر کر لیا جائے تو پشیمانی اور شرمندگی سے بچا جا سکتا ہے… لیکن میں اپنے ان بھائیوں سے عرض کروں گا جو سکیورٹی پر مامور اداروں اور ان کے اہلکاروں کو اپنی شعلہ بیانی سے نشانہ بنانے میں اپنی خاص شناخت رکھتے ہیں کہ کیا آپ سے کبھی کوئی غلطی یا کوتاہی سرزد نہیں ہوتی جو آسمان سر پر اٹھا لیا گیا ہے …غلطیاں اور کوتاہیاں انسانوں سے ہی سرزد ہو تی ہیں فرشتوں سے نہیں…..ہمیں اب سکیورٹی کے اداروں پر بلا جواز تنقید کرنے کے فیشن کو ترک کر دینا چاہئے…
ایک نجی ٹی وی چینل نے دعوی کیا ہے کہ آئندہ سال ہونے والے انتخابات کے لیے نگران سیٹ اپ کے نگران وزیر اعظم کے نام پر متعدد سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے ہو چکا ہے اور نگران وزیر اعظم کے لیے جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد کے نام پر اتفاق ہوا ہے ..میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ نگران وزیر اعظم کے لیے حسین عبداللہ ہارون کے نام پر اتفاق ہو سکتا ہے کیونکہ حسین عبداللہ ہارون مسلم لیگی تشخص رکھنے کے باعث سب جماعتوں کے لیے قابل قبول ہو سکتے ہیں… لیکن جسٹس ناصر اسلم زاہد کے نام پر اتفاق رائے پیدا ہونے کی خبر دینے والے نجی چینل کا کہنا ہے کہ حسین عبداللہ ہارون کے نام کو صدر آصف علی زرداری کے قریب ہونے کی بدولت مسترد کیا گیا ہے..شائد نجی چینل کے اس نمائدے کو علم نہیں کہ جسٹس ناصر اسلم زاہد کی شخصیت پیپلز پارٹی کے حلقوں میں سخت نا پسند یدگی کی نظر سے دیکھی جاتی ہے.اسکی وجہ بطور جسٹس انکے متعدد فیصلے ایسے ہیں جنہیں پیپلز پارٹی انصاف کے تقاضوں کے عین برعکس خیال کرتی ہے…اور میر مرتضی بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے ان کی سربراہی میں قائم کمیشن کی رپورٹ بھی متنازعہ سمجھی جاتی ہے….مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کس کو سچا کہوں اور کس کو جھوٹا…….نجی ٹی وی چینل کہتا ہے کہ جسٹس ناصر اسلم زاہد کو نگران وزیر اعظم بنانے کے لیے ان کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے. لیکن قومی اسمبلی میں قائد حز اختلاف چودہری نثار علی خان کہتا ہے کہ نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق ہوناتو دور کی بات ہے ابھی تک تو حکومت کے ساتھ اس موضوع پر بات چیت کا آغاز تک نہیں ہوا ..دوسری طرف وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف سے نگران سیٹ اپ کے لیے دو چار ملاقاتیں ہو بھی چکی ہیں..مگر چودہری نثار علی خاں نہ جانے کیوں تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں.بھلا کب تک نہ مانیں گے ایک دن بات کھل ہی جانی ہے.
فیصل آباد میں چنیوٹ روڈ چک جھمرہ میں واقع کیتھو لک چرچ میں گھس کر کچھ شرپسندوں نے مجسمہ کی بے حرمتی کی ہے.جس سے فیصل آباد اور گرد و نواح میں بسنے والی عیسائی برادری میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ سراپا احتجاج ہیں… اس واقعہ کی جس قدر بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے قبل ازیں بھی کچھ شرپسند عناصر نے مردان میں بھی ایک چرچ کو آگ لگا کر ملک میں تباہی اور عیسائی مسلم فسادات کروانے کی ناپاک سازش کی تھی لیکن محب وطن عیسائی برادری اور مسلمانوں نے اپنی عقل و فہم سے اسے ناکام بنا دیا تھا.. عوام کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی ایسے شرپسندوں پر گہری نظر رکھنی چاہئے جو اپنے غیر ملکی آقاؤں کی خوائش پر انکے ناپاک منصوبوں کی تکمیل کے لیے ملک میں عیسائی مسلم فسادات کروانے کے لیے سرگرم عمل ہیں.یہی وہیں شرپسند عناصر ہیں جو کبھی ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی کوشش کرتے ہیں .اور کبھی پاکستانیوں کو لسانی بنیادوں پر الجھانے میں لگے ہوئے دکھائی دیتے ہیں.پاکستان کو قیام کے وقت سے ہی بدخواہوں کی بری نظروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے . اسکے مشرقی بازوں کی علیحدگی اسکی روشن مثال ہے…سندھ اور بلوچستان میں بدامنی اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی اسی کی کڑیاں ہیں.
چلتے چلتے اپنی قومی ائیر لائینز ’’باکمال لوگ لاجواب سروس ‘‘ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لا ئینز کی شاندار قومی اور بہترین پر فارمس دیکھ لیجئے اڑان کی تھوڑی دیر بعد ہی پی آئی اے کی پرواز پی کے 308 کے انجن نمبر د
دو میں سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا تو اسے واپس بلا لیا گیا .اور پھر دو گھنٹے تک اسکے دروازے نہ کھولے گے جس سے طیارے میں سوار مسافروں کا دم گھٹنے لگا..پی کے308 کے خوش قسمت مسافروں میں وفاقی وزرا مولا بخش چانڈیو.. نواب یوسف تالپور سمیت متعدد ارکان قومی اسمبلی سوار تھے سب سے اہم یہ کہ اسی طیارے میں چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودہری بھی موجود تھے…..خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ سب محفوظ رہے…بتایا جاتا ہے کہ چیف جسٹس نے پی آئی اے کے چئیرمین اور ایم ڈی کو آج عدالت میں طلب کر لیا ہے…حکومت کو پی آئی اے انتظامیہ سے پوری قوت سے ان کی اس نالائقی کی باز پرس کرنی چاہئے کیونکہ اگر اس طیارے کو کچھ ہو جاتا تو اس حادثے کوچیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف حکومت کی سازش قرار دیا جاتا.یہاں بھی میں پی آئی اے کے حکام سے کہوں گا کہ محترم طیارے کو اڑان پکڑنے کا گرین سگنل دینے سے قبل ضروری چیککنگ کر لیا کریں اور قومی ائیر لائینز کے تشخص کی باربادی کے لیے کیوں تلے بیٹھے ہو کچھ خدا کا خوف کروں اگر اس کا بٹھہ بیٹھ گیا تو تمھاری عیاشیاں بھی دم توڑ جائیں گی

یہ بھی پڑھیں  الیکشن کمیشن کاسپریم کورٹ کے حکم پرمکمل عمل درآمدکافیصلہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker