شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / قاتل ڈورکاڈر

قاتل ڈورکاڈر

انسان کی زندگی میں ہرراحت اللہ تعالیٰ کی رحمت کانتیجہ جبکہ دنیاکاہروبال انسانوں کے اپنے اعمال کاشاخسانہ ہے۔ہماراسچاربّ اپنے بندوں کو سترماؤں سے زیادہ پیارکرتاہے مگر اس کافرمان ہے مجھ سے ڈرو،جواللہ تعالیٰ سے ڈر تے ہیں ان کے قلوب میں کوئی اورڈر نہیں رہتا۔جس انسان کو الرحمن سے مانگنا آجائے پھراس کاہاتھ کسی دوسرے انسان یاشیطان کے آگے نہیں پھیلتا۔بدقسمتی دیکھیں آج ہم اللہ تعالیٰ سے ڈریں نہ ڈریں ایک دوسرے سے ضرورڈرتے ہیں۔ کمزور اپنے آس پاس کے طاقتور سے ڈر تے ہیں جبکہ طاقتورکواپنی طاقت چھن جانے کا ڈر ستاتاہے۔مراد محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمرفاروق ؓ اپنے معبود کی بارگاہ میں جوابدہی سے ڈرتے تھے مگرآج مسلم حکمرانوں کو سبکدوشی سے ڈرلگتا ہے،وہ انسانوں اوراقدار سے اقتدار سے پیارکرتے ہیں۔ کچھ لوگ بھوک سے ڈرتے اوربھوک سے مرتے ہیں اورکسی کوبارودکاڈر ہے۔ آج دنیا میں کئی قسم کے قاتل ہیں،ان میں سے کچھ قیدی اورباقی آزاد ہیں۔ہماراقانون صرف اس کوقاتل مانتا اورسزاوارسمجھتا ہے جوبارود،زہریاکسی اوزار سے انسان کوجان سے ماردے لیکن جو سرمایہ دارانسانوں کوبھوک سے موت کے گھاٹ اتارتے ہیں انہیں کوئی قاتل نہیں کہتا۔رزاق اپنے شایان شان مخلوق میں رزق تقسیم کرتا ہے مگر انسان اورحیوان ایک دوسرے سے رزق چھین کران میں بھوک اور موت بانٹ رہے ہیں۔منشیات فروش اورجعلی ادویات کی تیاری اور تجارت میں ملوث افراد بھی خاموش قاتل ہیں۔دودھ سمیت ضروریات زندگی میں ملاوٹ کر نا انسانوں کی رگ رگ میں زہراتارنے کے مترادف ہے،دنیا میں ان کامحاسبہ ہونہ ہومگرروزمحشر یہ لوگ بھی قاتل افراد کی قطارمیں کھڑے ہوں گے۔لاہورسمیت پنجاب بھرمیں پتنگ سازی،پتنگ بازی اورمنشیات فروشی کے سبب متعدد قیمتی جانوں کاضیاع قومی سانحہ ہے۔میڈیاکہتاہے قاتل ڈورنے کسی شاہراہ پر شہری کی شہ رگ کاٹ دی اوراسے موت کے گھاٹ اتاردیا جبکہ حقیقت میں ڈور نہیں اسے بنانے،بیچنے اوراڑانے والے تینوں کردار بلکہ اپنے بچوں،ہمسایوں اورمحلے داروں کواس خونخوار شوق سے نہ روکنے والے شہری بھی خاموش قاتل ہیں،آج وہ قانون سے چھپ سکتے ہیں مگر میدان محشر میں ان کے اپنے اعضاء ان کیخلاف شہادت دیں گے۔اگرہرکام پولیس نے کرناہے توپھرمعاشرے کے دوسرے طبقات کس مرض کی دوا ہیں،پولیس والے بھی ہماری طرح ہیں ان کی چھ ٹانگیں یاسات آنکھیں نہیں ہوتیں۔معاشرے کودرددینے والے شرپسندہرگزہمدردی یارحم کے قابل نہیں ہوسکتے۔ماں باپ،بہن بھائی،عزیزواقارب،دوست،محلے دار،علماء حضرات،اساتذہ،منتخب نمائندے کیوں پتنگ سازی اورپتنگ بازی روکنے کیلئے اپناکردارادانہیں کرتے۔جہاں قاتل ڈورتیارہوتی ہے ان مقامات کوکیوں سیل نہیں کیاجاتا،مقامی لوگ کیوں خودان کامحاسبہ،گھیراؤ یاپولیس کواطلاع نہیں کرتے۔ پتنگ سازی کوکاروباراورروزگارقراردیناانتہائی جہالت ہے۔اس طرح توجسم فروش اورمنشیات فروش بھی اپنے اپنے گندے دھندے کوکاروبارکہناشروع کردیں گے،اگر پیسہ انسان کادین ایمان ہے توپھرڈاکٹراورڈاکومیں کوئی فرق نہیں۔ مہذب معاشروں میں پتنگ سازوں یاپتنگ بازوں نہیں بلکہ” تن سازوں ” کی پذیرائی ہوتی ہے۔تاریخ پتنگ فروشوں نہیں سرفروشوں کویادرکھتی ہے۔پتنگ سازی نے پتنگ بازی کوجان کی بازی بنادیا،قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ مٹھی بھر افرادکو اپنے شوق کیلئے معاشرے کوتختہ مشق بنانے کی اجازت یاآزادی نہیں دی جاسکتی۔پولیس پتنگ بازوں کیخلاف کریک ڈاؤن کرتی ہے مگر گرفتاری کے اگلے روزوہ ضمانت پرچھوٹ جاتے ہیں اوران کے دل سے قانون کابچاکچھاڈربھی ختم ہوجاتا ہے۔پتنگ بازی روکنے کیلئے سخت قانون سازی ناگزیر ہے،پتنگ سازی،پتنگ بازی اورہوائی فائرنگ کودہشت گردی قراردیتے ہوئے اسے بھی ناقابل ضمانت مجرمانہ سرگرمیوں کی فہرست میں شمارکرتے ہوئے ان کی زیادہ سے زیادہ سزامقرر کی جائے۔مجرمانہ سرگرمیاں روکنے کیلئے معاشرے کواسلحہ سے پاک کرناہوگا،ریاست صرف ناگزیرصورت میں مستحق شہریوں کو اسلحہ لائسنس ایشو کرے۔اسلحہ فروش اپناکاروبار چمکانے کیلئے جوجوچورراستہ استعمال کرتے ہیں وہ بندکیاجائے۔پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں سمیت ہوائی فائرنگ کرنیوالے عناصر کیخلاف اقدام قتل اوردہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات کااندراج کیاجائے۔پتنگ سازوں،پتنگ بازوں، منشیات فروشوں،عصمت فروشوں،سودخوروں،ملاوٹ خوروں اورقبضہ مافیا کوزندانوں میں قیدکرنے کیلئے منتخب ایوانوں کواپناآئینی کرداراداکرناہوگا۔جابجامنشیات کے عادی سرعام ”ڈوز”لے اورپل پل موت کی سمت بڑھ رہے ہوتے،انہیں زبردستی بحالی مراکزمنتقل کیااوران کی منشیات سے جان چھڑائی جائے،ریکوری کے بعد انہیں ہردس یاپندرہ روزبعد بحالی مراکزمیں حاضر ہونے اورٹیسٹ کروانے کاپابندکیاجائے۔مشکوک اورآوارہ گردعناصر کوسرکاری چھت اوردوسری سہولیات کی فراہمی سے زیادہ سرکاری سطح پر منشیات کے عادی افرادکی بحالی ناگزیر ہے۔پرانے فرسودہ اورکمزورقانون کے بل پرمجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کوزیادہ دیرتک گرفت میں رکھناخارج ازامکان ہے۔ہمارے قانون کی کمزوریوں نے فرض شناس سکیورٹی فورسز کے مقابلے میں شرپسندوں کوطاقتوربنادیا۔قوانین بدلے بلکہ ان کی نرمی دورکئے بغیر معاشرے اورملک میں مثبت تبدیلی کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔
زندہ دلان لاہورسمیت اہل پنجاب کوپتنگ سازی و پتنگ بازی کی لعنت اورنحوست سے نجات جبکہ ڈینگی کے ڈنک سے بچانے کیلئے انتھک میاں شہبازشریف کی شب وروزمحنت کوفراموش نہیں کیا جاسکتا۔میاں شہبازشریف اپنے دوراقتدارمیں بروقت ڈینگی مارتے رہے اوراس پرکافی حدتک قابوپالیا تھا جبکہ وزیراعظم عمران خان کا حسن انتخاب سردارعثمان بزدار صرف ڈینگیں مارتا ہے۔کہاں شہبازشریف اورکہاں عثمان بزدار، کپتان کاپنجاب میں بزداری نظام درحقیقت اہل پنجاب سے انتقام کے مترادف ہے،وزیراعلیٰ پنجاب کوتبدیل کئے بغیر ملک میں تبدیلی اورخوشحالی کی راہ دیکھنا بے سودہے۔میاں شہبازشریف نے اپنے کانوں سے قاتل ڈور کے نتیجہ میں موت کی آغوش میں جانیوالے معصوم بچوں اوربیگناہ شہریوں کی ماؤں سمیت ان کے غمزدہ پیاروں کے بین سنے تھے،اس سلسلہ میں ان کے سخت، درست اوردوررس اقدامات نے کئی گھرانوں کوماتم کدہ بننے سے بچایاتھا۔میاں شہبازشریف آج ہوتے توڈینگی اورقاتل ڈور کے نتیجہ میں یوں قیمتی جانوں کاضیاع نہ ہوتا۔بدعنوانی سے نجات کی نویدسناکراقتدارمیں آنیوالی تبدیلی سرکار نے وفاق سے پنجاب تک دوچارارکان کومحض بدزبانی کی بنیادپروزارتوں کاقلمدان دیا پھر وہ بدزبان اپنے کپتان کیلئے بوجھ بن گئے مگرتبدیلی سرکار ان بدزبانوں کی وزراتوں کے قلمدان تبدیل کرنے کے سواکچھ نہ کرپائی۔لاہورسمیت پنجاب بھرمیں قاتل ڈور پھرنے کے نتیجہ میں بیسیوں قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجودپی ٹی آئی کے جس صوبائی وزیرنے بسنت کی اجازت کاشوشہ چھوڑاتھا وہ آج تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں آیا مگر اس دورا ن کئی ڈی ایس پی اورایس ایچ اومعطل ہوتے رہے۔میں سمجھتاہوں فیاض الحسن چوہان کیخلاف قانونی کارروائی تک کسی ڈی ایس پی یاایس ایچ اوکوشوکازدینایامعطل کرنا انصاف نہیں۔ امن وامان برقراررکھنے اورقیمتی انسانی جانوں کاضیاع روکنے کیلئے منتخب نمائندوں سے کام کیوں نہیں لیاجاتا جبکہ وہ پولیس حکام کے مقابلے میں بہت زیادہ اختیارات اور مراعات سے مستفیدہوتے ہیں۔اگرمنتخب نمائندے واقعی عوام کے خادم ہیں توانہیں شہریوں کوہرقسم کے شروروفسادات اورسانحات سے بچانے کیلئے اپناکرداراداکرناہوگا۔جوسیاستدان ووٹ کیلئے گلی گلی گھرگھرجاسکتے ہیں وہ پتنگ سازی،پتنگ بازی،منشیات فروشی،جسم فروشی اورسودخوری روکنے کیلئے اپنے مستعدومتحرک کارکنان کی کمیٹیاں کیوں نہیں بناسکتے۔مردوخواتین اساتذہ اور علماء حضرات بھی اپنی اپنی سطح پرانتہائی مفیدثابت ہوسکتے ہیں،آنیوالی نسلوں کوان برائیوں سے بیزاراورمتنفرکرنے کیلئے نصاب تعلیم میں مزیدابواب شامل کرناہوں گے۔24/7بنیادوں پرجرائم کیخلاف سرگرم پولیس کوایک طرف وسائل کی کمی کاسامنا ہے جبکہ دوسری طرف وہ محدود افرادی قوت کے ساتھ معاشرے کے ہرمعاملے سے نہیں نمٹ سکتی۔منتخب نمائندوں سمیت معاشرے کے مختلف طبقات کوپتنگ سازی،پتنگ بازی،منشیات فروشی اورجسم فروشی سمیت معاشرتی برائیوں کیخلاف جہاد کرناہوگا۔ راقم نے 14اگست 2016ء کے اپنے کالم ”ون ویلنگ کاجنون اورخون” میں ون ویلنگ روکنے کیلئے چنداہم تجاویزدی تھیں اوران کی روشنی میں اس وقت کے سی سی پی اولاہورکیپٹن (ر)محمدامین وینس اورسی ٹی اولاہورطیب حفیظ چیمہ نے اقدامات اٹھاتے ہوئے خاطرخواہ حدتک اس پرقابوپالیاتھا۔میں نے یہ بھی لکھاتھا کہ ون ویلنگ کے دوران مرنیوالے نوجوانوں کیخلاف قتل عمدکے مقدمات درج کئے جائیں اوران کے ماں باپ سمیت بھائی اور بیسٹ فرینڈز کوبھی نامزدکیاجائے جواپنے پیاروں کوون ویلنگ جیسی تاریک راہوں پرجانے سے نہیں روکتے۔ اس طرح پتنگ سازی اورپتنگ بازی روکنے کیلئے ان دونوں منفی سرگرمیوں میں ملوث کرداروں کے پیاروں اورسہولت کاروں کیخلاف بھی مقدمات درج کئے جائیں۔جس عمارت میں پتنگ سازی اور جس چھت پرپتنگ بازی کی جاتی ہے ان کے مالکان اورہمسایوں کیخلاف بھی مجرمانہ غفلت،ریاستی اداروں سے عدم تعاون اورسہولت کاری کے تحت مقدمات کااندراج کیاجائے۔پتنگ بازوں کی شناخت اورگرفتاری کیلئے ڈرون اوربلندعمارتوں کی چھتوں سے جدید کیمروں کااستعمال کیاجائے،ڈرون اورجدیدمووی کیمروں سے پتنگ بازوں کوفلمبند اور ان کے ساتھ پولیس کے ٹول فری نمبرز ایڈکرکے ان فلموں کو مقامی کیبل پر نشرجبکہ شہریوں کی مددسے انہیں شناحت اورگرفتارکیاجائے۔لاہور کے پروفیشنل سی سی پی او بی اے ناصر،مستعدومخلص اورانتھک ڈی آئی جی آپریشنزا شفاق احمدخان،زیرک ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ڈاکٹرانعام وحیدخان اورفرض شناس سی ٹی اوکیپٹن (ر)لیاقت علی ملک سمیت ان کے فعال ٹیم ممبرز منشیات فروشی،پتنگ سازی،پتنگ بازی،ہوائی فائرنگ اورون ویلنگ روکنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑرہے۔اشفاق احمدخان کے حکم پرلاہورکی سطح پرپتنگ سازی،پتنگ بازی منشیات فروشی اورجسم فروشی کیخلاف کریک ڈاؤن بلکہ آپریشن کلین اپ کامیابی سے جاری ہے۔حرکت میں برکت ہے،یقینا اشفاق احمدخان یہ حقیقت جانتے ہیں۔انہیں ان کے دفتر سے زیادہ فیلڈ میں دیکھاجاتا ہے۔وہ لاہورکے تھانوں کے اندرمختلف شعبوں کابہت باریک بینی سے معائنہ اوروہاں اصلاح کیلئے فوری احکامات صادر کرتے ہیں۔اشفاق احمدخان کی طرح جس انسان کانسب یعنی ڈی این اے قابل رشک ہووہ فرض منصبی کی بجاآوری کے دوران کسی ڈینجر کی پرواہ نہیں کرتا۔اب پولیس کافوکس” روپیہ” نہیں ”رویہ” پر ہے۔راوین ڈی آئی جی آپریشنزلاہوراشفاق احمدخان نے لاہورپولیس کارویہ تبدیل کرنے کی مضبوط بنیادرکھ دی ہے،وہ خود عزت دار ہیں اسلئے ان سے دوسروں کوعزت ملتی ہے۔میں اس نیک نیت اورایک نیک سیرت ماں کی تربیت والے اشفاق احمدخان کواپنے تعمیری مقاصد میں کامیاب ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ پولیس کارویہ تبدیل کرنے کیلئے میڈیا سمیت معاشرے کو بھی اپنارویہ بدلناہوگا۔

یہ بھی پڑھیں  واہ کینٹ تا روالپنڈی ائیر کنڈیشنڈ بس سروس کا آغاز

What is your opinion on this news?