بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

قتل ،لوٹ مار،گھیراؤ جلاؤ۔۔مجرم کون؟؟

21؍ ستمبر گذر گیا،26بے گناہ شہداء کی لاشیں جب اپنے گھروں میں لائی گی ہونگی تو یقیناًہر آنکھ آشک بار ہوئی ہو گی،کسی کا لاڈلا بیٹا،پیارا باپ،محبتوں کا پیکر بھائی اور سب سے بڑھ کر ہر مسلمان کا پیارا پیارا بھائی کا جسدِ خاکی جس وقت لحد میں اتارا گیا ہوگا اس وقت ہر ایک کے دل و دماغ میں ایک سوال،خاموش احتجاج،ایک شکوہ اور سب سے ذیادہ مسلمان بھائی کا مسلمان بھائی کے ہاتھوں قتل پر کیا سوچا ہو گا۔آخر یہ کیا دلخراش سانحہ ہے جس میں وہی قاتل وہی مقتول ہر ایک کی نظروں میں گھومے ہونگے۔یہی ڈر تھا کہ بے قابو ہجوم قیادت کے ہاتھوں سے نکل جائے گا وہی ہوا۔آج ان شہداء کے نام کالم لکھوں گا کہ یہی ہمارا حقیقی ورثہ ہیں۔انہوں نے اپنی جان اپنے پیارے نبی ﷺ کے نام کرکے جنت تو حاصل کر لی مگر ہمارے لئے کئی سوال چھوڑ گے؟؟؟؟
بلاشبہ عشق مصطفےٰ ﷺ کا تقاضا تھا کہ ہم پوری طاقت سے گستاخ رسول ﷺ کے خلاف بھرپور مظاہرہ کرتے۔پورے ملک میں جوان و پیر کی اتنی تعداد نکلی کہ دنیا دھنک رہ گئی۔انسانوں سے تانتا بندھا ہوا کروڑوں عشقان رسول ﷺ کا انسانی سمندر دیدنی تھا۔جذبہ قابل دید اور عزم لائق تحسین دیکھنے میں آیا۔امریکہ سمیت عالمی برادری کا ہوش ٹھکانے آگیا کہ ایک ملعون نے پوری دنیا کے امن کو کس طرح چیلنج کیا۔ امریکہ کا صدر بول اٹھاکہ ہم اس میں ملوث نہیں ہیں۔پہلی بار امریکہ کے کسی صدر نے معافی مانگ کر اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا جو اس امر کی دلیل ہے کہ عوامی طاقت اور اتحاد کے سامنے امریکہ سرنگوں ہوا۔
اگر ہم مسلمان قومی مسائل پر بھی ایسے یکسو ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایٹمی طاقت کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے نہ ہو سکیں۔ہمارے سماج میں جرائم کا خاتمہ ہو سکتا ہے،امن اور ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں مگر یہ سب کچھ ایسے نہیں حکمت ،تدبر ،شعور اور دوراندیشی سے ممکن ہو سکتا ہے۔پولیس والے ہمارے بھائی ہیں،ہمارے معاشرہ کا حصہ ہیں،ان کی ذمہ داری ہمارے مال و جان کی حفاظت کرنا ہے۔ا ن سے حسن سلوک رکھنا ہمارا فرض ہے۔ان پر حملہ آور ہونا اسلام کی روشنی میں ہر گز جائز نہیں ہے۔انہیں ٹارکٹ کرنا
سول نافرمانی میں آتا ہے۔جو پولیس اہلکار شہید ہوئے وہ بھی کامیاب ہوئے اور جو شہری شہید کئے گئے وہ بھی کامرانی سے سرفراز ہوئے۔ یہ تو جزاو سزا کا پہلو ہے اب آتے ہیں کہ ہماری کیا غفلت ہوئی کہ ہم امن دوست پیغام دینے کے بجائے متشدد کہلائے گئے۔نجی گاڑیوں، قومی املاک کو نشانہ بنانا کہاں کا انصاف ہے بلکہ چرچ کو جلانا بھی اسلام کے دائرے سے باہر ہے۔اسلام تمام اقلیتوں کی حفاظت کا علمبردار ہے۔بنکوں اور اے ٹی ایم کو لوٹا گیا۔نجی پٹرول پمپس کو جلایا گیا ۔یہ سب اسلام کا چہرہ نہیں ،یہ جہالت کی علامت کہی جا سکتی ہے۔آخر ایسا کیوں ہوا؟ یہ سوال زیر بحث ہے۔ہمارے معاشرے کو بے لگام بنا دیا گیا ،جمہوریت کو تماشا بنایا گیا،قائدین کی کم ظرفی اور مذہبی و سیاسی جماعتوں میں تنظیم کا نہ ہونا کھلی حقیقت نظر آئی۔جب قیادت اتنی بے بس ہو کہ وہ اتنے بڑے اجتماع کو کنٹرول نہ کر سکے تو لامحالہ گشت و خوں ہونا لازمی امر ہے۔تربیت کا فقدان ،نظم کی کمزوری اور حکمت و دانش کی کمی عیاں ہوتی ہے کہ ہمارے قائدین اپنی صلاحتیں کھو چکے ہیں۔ محض نعرہ بازی اور دلکش تقاریر سے چند لوگ اپنا رعب دکھا کر بے مہار ہجوم کو کھلا چھوڑ گئے۔اب اس کی یہ تاویل دی جاتی ہے کہ غصے سے بپھرا ہجوم کب کس کے قابو میں رہتا ہے۔کیا یہ شہداء ،نجی و سرکاری املاک کا تعلق ملعون’’ٹیری جونز ‘‘ سے تعلق رکھتے تھے؟ بنکوں کو لوٹنا کیا امریکہ کی کرنسی تھی؟پٹرول پمپ کیا اوباما کی ملکیت تھے ،اگر ہوتے بھی تو انہیں ہدف بنانا جائز تھا؟سچ کہا کہ حضرت علامہ اقبال ؒ نے کہ
اللہ سے کرے دور ، تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی،جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ
یہ حقیقت ہے کہ شاتم رسول ہزار حصار میں رہے ایک دن وہ عبرت کی مثال بن جاتا ہے۔کروڑوں مسلمان خواہش رکھتے ہیں کہ ان کا نصیب ہرا ہو اور ان کے ہاتھوں ملعون واصل جہنم ہو۔غازی علم دین شہید ،عامر چیمہ شہید اور حال میں ممتاز قادری جیسے بے شمار حرمت رسولﷺ پر قربان ہونے سے گریز نہیں کریں گے۔امریکہ کو یہ بھی علم ہونا چاہئے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے کوئی مسلمان ذرا سی بھی توہین بر داشت نہیں کر سکتا۔اسے دہشتگردی کہا جائے یا ہمارے ایمان کا جُز اول ،ہماری جانوں سے پیار ے ، ہمار ے نبیﷺ کی شان عزیز تر ہے۔اس پر ذرا سی مصلحت قبول نہیں،معمولی سی لاپروائی جائز نہیں۔
اگر بھارت میں حنومان کرشنا بارے توہین پر سزائے موت ہے،نیپال میں سورج کو گالی دینا سزا ئے موت ہے،یورپ میں کرسچن مذہب کی بے حرمتی سزائے موت ہے،اسرائیل میں یہودی مذہب کی بے حرمتی سزائے موت ہے تو پھر ہمارے رحمت الالمین ﷺ کی بحرمتی پر قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی؟ یہ عالمی قانون کا کھلا تضاد قابل قبول نہیں۔حکومت پاکستان نے جو موقف اختیار کیا ہے اس میں شک و شبہ نہیں۔حکومت کی نیت میں بھی شک نہیں ۔ہم سب مسلم ہیں اور کسی بھی مسلمان کی دو رائے نہیں جب اس قدر اتفاق ہو تو عالمی قانون میں شاتم رسول کی سزا کا تعین ’’سزائے موت ہونا چاہئے۔ورنہ عالمی امن میں دیر پا قیام ممکن نہیں۔
وزیر ریلوے بشیر بلور نے ایک لاکھ ڈالر ٹیری جوئز کے سر کی قیمت رکھ کر درست فیصلہ کر کے بازی جیت لی۔وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے اس اہم معاملہ پر عالمی قانون بنائے جانے کا مستحسن اعلان کیا ہے۔اب دیگر وزراء کو بھی ’’سر‘‘ کی قیمت طے کرنی ہو گئی۔مسلم امہ کو یہ پیغام دینا ہو گا کہ پاکستان مسلم ممالک کا مرکز ہے۔اس اعزاز کو برقرار رکھنے کے لئے موزوں وقت ہے صدر پاکستا ن عالم جہاں سے خطاب کرنے والے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ پرزور انداز سے مسلم امہ کی ترجمانی کریں۔اللہ نے انہیں ایک بہترین موقع دیا ہے جس سے ان کے بارے شکوک و شبہات کا ازالہ ہو جائے گا کہ وہ امریکہ کے دم چھلے ہیں۔پاکستان اسلامی نظریاتی مملکت ہے جس کا اظہار عوام نے پرجوش انداز سے کر کے دکھایا ہے۔
سیاسی و مذہبی قائدین کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ نوجوان نسل کی آبیاری کرتے ہوئے حضرت قائداعظم ؒ کے اس دانشمندانہ قول کو ملحوظ خاطر رکھیں ’’اتحاد،تنظیم اور یقین محکم ‘‘ ان اصولوں سے نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔ اسلام آباد میں ہونے والا ڈاکٹر طاہر القادری کی اپیل پر ان کے مداحوں کا جلوس ہمارے دیگر قائدین کے لئے سبق آموز ہے کہ اس جلوس کے شرکاء نے انتہائی نظم و ضبط کا مظاہرہ کر کے اپنی تربیت اور جذبے کا اظہار کیا ہے۔ آذادکشمیر میں بھی لاکھوں افراد پر مشتعمل کئی مظاہرے ہوئے مگر کہیں بھی لاٹھی چارج نہیں ہوا اور نہ ہی گھیراؤ جلاؤ ، لوٹ ما ر،قتل و غارت کی گئی ۔یہ ہوتے ہیں ڈسپلن اور قیادت کی دانشمندی کے اثرات ،ہمارے قومی قائدین اور مذہبی زعماء کے لئے سوچنے کا مقام ہے ۔حکومت کو چاہئے کہ وہ ہر شہید کے لواحقین کو کم از کم 25لاکھ روپے کا اعلان کرئے۔نجی املاک کے نقصانات پر اضافی امداد کا اعلان کیا جائے۔زخمی افراد کو 50ہزار روپے اور مفت طبی امداددی جائے۔شدید زخمیوں کو مفت علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔کراچی،لاہور،اسلام آباد سمیت کئی شہروں سے متشدد افراد کے خلاف مقدمات بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان مقدمات کی صحت کا جائزہ لیا جائے تاکہ کوئی بے گناہ قانون کی بھینٹ نہ چڑھے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ پولیس اپنے دفاع میں بے گناہوں کو بھی لے ڈوبتی ہے چونکہ یہ مظاہرے نبی ﷺ کی شان میں اور شاتم رسول کے خلاف کئے گئے ہیں لہذا پورا دھیان رکھا جائے کہ کسی بے گناہ کو بلاوجہ محض مظاہرے میں شرکت کی سزا نہ دی جائے۔ایک اور اہم نکتہ پر ارباب حکومت کی توجہ ضروری ہے کہ پولیس کو دیکھ کر کیوں مظاہرین مشتعل ہو جاتے ہیں؟پولیس کا عمومی کردار سے عوام نالاں ہیں۔انگریز کا کالا قانون اب بھی چل رہا ہے ،پولیس کی کردار سازی کی ضرورت ہے ۔عام زندگی میں جب تک پولیس عوام دوست کردار ادا نہیں کرے گی تب تک عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔یہی بنیادی خامی ہے کہ ہمارا ملک جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بن رہا ہے۔تنخواہیں دوگنا کرنے سے اصلاح ممکن نہیں ۔پولیس کے اعلیٰ افسران کی تربیت کسی مہذب ملک میں کرائی جائے تاکہ بہتر فورس تشکیل پا سکے۔

یہ بھی پڑھیں  کوئٹہ: سریاب روڑ پر دھماکے سے 8 افراد جاں بحق ،35 زخمی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker