تازہ ترینفیصل اظفر علویکالم

قتل صحافت

alviصحافت کا لفظ ’’صحیفے‘‘ سے اخذا کیا گیا ہے‘ صحافت کو پیغمبری پیشہ کہا جاتا ہے‘ صحافت کا شمار دنیا کے مقدس ترین پیشوں میں ہوتا ہے‘ دنیا بھر میں شعبہ صحافت سے وابستہ افراد اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر عوام کو حقائق سے آگاہ کرتے ہیں‘ اگر چند صحافتی ’’کالی بھیڑوں‘‘ کو کچھ دیر کیلئے نظر انداز کر دیا جائے تو پوری دنیا میں صحافت سے زیادہ مقدس پیشہ اس وقت نظر نہیں آتا‘ دنیا کے تقریباََ سبھی ممالک میں شعبہ صحافت سے بالواسطہ یا بلا واسطہ منسلک افراد کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘ دنیا بھر میں صحافیوں کے حقوق کیلئے مختلف تنظیمیں سرگرم عمل ہیں‘ موجودہ دور میں عالمی صحافت میں پاکستانی صحافت کا نمایاں مقام ہے‘ وطن عزیز پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافی حضرات جس طرح خطرات میں گھر کر ’’آف دی ریکارڈ‘‘ گتھیوں کو سلجھانے اور حق اور سچ کو عوام کو سامنے لانے میں مصروف ہیں وہ ’’جوئے شیر‘‘ لانے سے کم نہیں۔
پاکستان 2001 ء سے صحافیوں کیلئے انتہائی خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں چلا آ رہا ہے‘ غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ دہشت گردی‘ معاشی عدم استحکام‘ بھوک اور افلاس میں گھرے ہوئے پاکستان کو تمام برائیوں سے نکالنے کیلئے ملک بھر کے تمام محب وطن صحافی اپنی حیثیت کے مطابق خدمات سر انجام دے رہے ہیں‘ افسوس اس بات کا ہے کہ چند ’’کالی بھیڑوں‘‘ کی وجہ سے عوام الناس نے شعبہ صحافت کو مکمل طور پر ہی غلط رنگ دینا شروع کر دیا ہے‘ پاکستان میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں لوگ شعبہ صحافت سے منسلک ہیں جن میں سے بیشتر اپنے حقوق سے محروم ہیں اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں‘ 2001 ء سے لیکر اب تک لگ بھگ 100 سے زائد پاکستانی صحافیوں کو فرائض منصبی ادا کرنے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا‘ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت صحافیوں کیلئے دنیا کا ’’تیسرا‘‘ خطرناک ترین ملک بن چکا ہے‘ گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافی حضرات استحصال کا شکار ہیں اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ابھی گزشتہ ہفتے کے دوران ہی کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی کو بھتہ نہ دینے پر قتل کر دیا گیا اور ایک مقامی اخبار کے بیورو چیف کو بھی’’نامعلوم افراد‘‘ نے موت کے گھاٹ اتار دیا‘ دسمبر 2012 ء میں ہمارے ایک دوست صحافی رانا دلشاد جو کہ ایک اخبار کے چیف ایڈیٹر بھی تھے کو دن دیہاڑے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا ان کے قاتلوں کا ابھی تک کچھ پرہ نہیں چل سکا اور اس معاملے میں بھی ہمیشہ کی طرحکومتی بے حسی پر رونے کو دل کرتا ہے‘ لوگوں کو بنیادی شعور فراہم کرنے والے افراد کا جب یہ حال ہوگا تو عوام الناس کدھر جائیں گے؟ پاکستان میں اب تک جتنے بھی صحافی قتل ہو چکے ہیں ان کے قاتلوں کو پتہ چلانا تو دور کی بات حکومتی اعلیٰ عہدیداروں کے کان پر ان واقعات کے بعد جوں تک نہیں رینگی‘ عصر حاضر میں ریاست کا چوتھا ستون ریاست کے پہلے ستون اور ’’نا معلوم‘‘ افراد کی آنکھوں میں بری طرح کھٹک رہا ہے‘ کیا حکومت صحافیوں کے قتل کئے جانے کے محرکات سے لا علم ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحافیوں کو قتل کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب اتنا مشکل بھی نہیں‘ آخر صحافی سے کسی کی ’’کیا‘‘ دشمنی ہو سکتی ہے؟ راقم الحروف کے والد محترم سینئر صحافی‘ غازی گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایگزیکٹو‘ کالمسٹ کونسل آف پاکستان (CCP) کے بانی و چیئرمین ‘آل پاکستان نیوز پیپرز اینڈ ایڈیٹرز فورم (APNEF) کے چیئرمین ایکشن کمیٹی غازی شاہد رضا علوی بھی گذشتہ چند دن قبل ایسے ہی قاتلانہ حملے میں اللہ کے کرم سے محفوظ رہے‘ ان پر قاتلانہ حملہ بھی ایک معاشرتی ناسور اور کرپٹ سپرنٹنڈنٹ پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ‘ راولپنڈی ملک منور خان نے حقائق پر مبنی خبریں شائع کرنے پر کروایا‘اس معاملے پر میرے ایک دوست کالم نگار عقیل خان نے بھی خصوصی کالم لکھا تھا جس پر میں ان کا بہت مشکور ہوں‘ اس طرح کے واقعات پر اعلیٰ حکومتی عہدیدار بدستور خاموش تماشائی بنے تماشہ دیکھنے میں مصروف ہیں؟
پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافی حضرات جو معاشرتی برائیوں اور ناسوروں کیخلاف آواز اٹھا رہے ہیں‘ جو عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ کسی کی ڈگری جعلی ہے اور کس نے کتنی کرپشن کی ہے؟ وطن عزیز میں کیا کیا ہو رہا ہے؟ شہر اقتدار کے سائے تلے کون کون سا ’’خنزیر‘‘ چھپا بیٹھا ہے؟ اگر یہ سب بتانا اور حقائق سامنے لانا ایک جرم ہے تو میرے خیال میں شعبہ صحافت کو ختم ہی کر دینا چاہئے‘ صحافیوں کے قتل اور صحافیوں پر تشدد جیسے واقعات پر بڑے بڑے نامور صحافی کیوں چُپ ہیں؟ صحافی حضرات اس وقت تک اپنا حق حاصل نہیں کر سکتے جب تک وہ حقیقی معنوں میں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا نہیں کر لیں گے‘ قیام پاکستان سے لیکر اب تک ہر حکومت نے بالواسطہ یا بلا واسطہ ریاست کے چوتھے ستون کو دیوار سے لگانے اور اپنے پیروں تلے روندنے کی کوشش کی ہے‘ آخر کب تک ہم ملک دشمن عناصر کا شکار بنتے رہیں گے؟ حکومت کب تک صحافت جیسے مقدس پیشے کے ساتھ ’’کھلواڑ‘‘ کرتی رہے گی؟
انشاء اللہ ہر محب وطن صحافی ان اوچھے ہتھکنڈوں سے گھبرانے کی بجائے اپنے فرائض منصبی ادا کرتا رہے گا اور حق اور سچ کی آواز کو کسی طور دبایا نہیں جا سکے گا اور انشاء اللہ اب مزید ’’قتل صحافت‘‘ نہیں ہوگا۔
سر میداں قلم کو توڑ کر خنجر بناتا ہوں
میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوںnote

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button