تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

قومی سیاست اور پیپلزپارٹی کامستقبل

zafarپیپلزپارٹی کے ساتھ ہوکیارہاہے ،کیایہ جماعت دم توڑتی جارہی ہے یاواقعی سنبھل کردوبارہ عوام میں اپنامقام بنانے میں کامیاب ہوپائے گی،کیاشریک چیئرمین آصف علی زرداری اختیارات چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کے سپردکردیں گے یاپارٹی امورکی اسی طرح خودنگرانی کرتے رہیں گے جس طرح 2008سے کرتے چلے آرہے ہیں،کیاپنجاب کے ممکنہ بلدیاتی الیکشن میں پیپلزپارٹی کوئی غیرمعمولی نتائج دینے کی متحمل ہوپائے گی کہ نہیں،بلدیاتی اورآنے والے عام انتخابات میں بھٹوکی جماعت کااصل مقابلہ کس کے ساتھ ہوگا نون لیگ کے ساتھ یاپی ٹی آئی کے ساتھ،کیاآصف زرداری کوفوج کے خلاف بیان بھاری پڑرہاہے،یہ وہ اہم سوالات ہیں جوملک گیر جماعت کہلاتی پیپلز پارٹی کے بارے میں اس وقت ملک کے طول وعرض میں زبان زدعام ہیں ۔پیپلزپارٹی عوام اور سیاسی حلقوں میں زیربحث کیوں ہے اس کی منطق تو سمجھ میں آتی ہے کہ یہ ذوالقارعلی بھٹوکی بنائی جماعت ہے جس نے بھٹوکی ولولہ انگیزقیادت میں روٹی ،کپڑااورمکان کانعرہ لگاکر کراچی سے خیبرتک عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کیں اور چارپانچ دفعہ ملک کی حکمرانی کااعزازپایا،ملک کوایٹمی قوت بنانے اور1973ء کا متفقہ آئین دینے میں پیپلزپارٹی کاکلیدی کرداررہاجبکہ یہ کہاجائے کہ اس ملک کے غریب طبقہ کواپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کی زبان بھٹوہی نے دی تھی اور غریب،ہاریوں،مزدوراورکسانوں کو بااثرظالم وجابرطبقہ کی تسلط اورغلامی سے نجات دلانے کی عطاء کردہ ہمت وحوصلہ بھی بھٹواوران کی جماعت ہی کی مرہون منت تھا۔اسلام ہمارامذہب،سوشلزم ہماری معیشت اورطاقت کاسرچشمہ عوام ہے یہ تھابھٹواور ان کی جماعت کانعرہ جس پر ظلم کی چکی میں پسے عوام اوراحساس محرومی کے شکارطبقہ نے لبیک کہا۔بھٹوکوتختہ دارپر لٹکانے والے فوجی آمر کی طویل مارشل کے بعد جب جمہوری دورکاآغازہواتو1988ء کے عام انتخابات میں ان کی بیٹی بے نظیربھٹوکی قیادت میں پیپلزپارٹی ملک کی حکمراں جماعت قرارپائی اور 1993ء کے عام انتخابات میں بھی اقتدارکاتاج پیپلزپارٹی ہی کے سرسجا۔2008میں بے نظیربھٹوکی شہادت کی قربانی کانتیجہ تھاکہ پیپلزپارٹی آصف زرداری کی قیادت میں حکمراں جماعت بن گئی اورانتخابی نتائج کی روشنی میں پارٹی نے یوسف رضاگیلانی کووزیراعظم جبکہ آصف علی زرداری کومنصب صدارت پر فائز ہونے کااعزاز بخشا۔اگرچہ آصف زرداری کی مفاہمتی پالیسی کارگرثابت ہوئی جس کے نتیجے میں ان کی جماعت نے اپنی پانچ سالہ پارلیمانی مدت توپوری کرلی مگرشائد ان کی حکومت عوامی توقعات پر پور ا اترنے میں بری طرح ناکام رہی۔عوام کوروزگاملانہ مہنگائی پر قابوپائے گئی۔توانائی بحران پر قابوپایاگیانہ ہی ان کی حکومت امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے میں کامیاب رہی۔مہنگائی اور بے روزگاری بڑھتی گئی،توانائی بحران کاجن مزیدبے قابوہوتارہا، حکومتی وزراء اورپارٹی عہدیداروں کے کرپشن اور اداروں کے سربراہان کی تعیناتیوں میں بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کے قصے زبانِ زدعام رہے شائدیہی وہ عوامل اور محرکات تھیں جو11مئی 2013کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کی بدترین شکست کاباعث بنیں اور ملک گیر جماعت کہلاتی یہ پارٹی محض ایک صوبے کی حکمرانی تک محدودرہ گئی۔سیاسی امور کے ماہرین کاخیال ہے کہ آصف زرداری نے اپنے دوراقتدارمیں اقتداربچانے کی خاطرمفاہمت کی سیاست کواس قدر اہمیت دی کہ انہیں دوسری کوئی چیزنظرہی نہ آئی۔ان کی حکومت نے ترقیاتی عمل میں کوئی قابل ذکرکارکردگی دکھائی نہ پنجاب اور ملک کے دیگرعلاقوں میں پارٹی اورتنظیمی امورپرتوجہ دینے میں آصف زرداری مصروف عمل دکھائی دیئے یہی وجہ ہے کہ عام عوام سمیت پارٹی ورکرزکی احساس محرومی میں اضافہ ہوتاگیاجوپارٹی شکست کی بنیادی وجہ ثابت ہوئی ورنہ تویہ بہترین موقع ان کے ہاتھ لگاتھابہرحال اب جبکہ پیپلزپارٹی صوبہ سندھ کی حکمراں جماعت ہے اور قومی سطح پراپوزیشن جماعت کاکرداراداکرتی سیاسی جدوجہدمیں مصروف ہے تو سندھ میں صوبائی حکومت اور وفاق میں اپوزیشن جماعت کی حیثیت سے بھی اس کے کردارپرکئی سوال اٹھ رہے ہیں جن کے جواب کااندازہ لگانے پر نہیں لگتاکہ ان کی جماعت پنجاب میں ممکنہ بلدیاتی الیکشن اور آنے ولے عام انتخابات میں کوئی غیرمعمولی نتائج دینے میں کامیاب ہوسکتی ہے جس کانمونہ پنجاب میں ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں قوم دیکھ چکی ہے ۔تاریخ بتاتی ہے کہ پنجاب کسی زمانے میں پیپلزپارٹی کاگڑھ سمجھاجاتاتھامگرآج حا لت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی قومی اورصوبائی نشست کے الیکشن میں تیسری پوزیشن پرآتی اور اپنی بقاء کی جنگ لڑتی نظرآتی ہے جس سے اس سوال نے بھی جنم لیاہے کہ انتخابات بلدیاتی ہوں یاعام پیپلزپارٹی کامقا بلہ کس کے ساتھ ہوگانون لیگ کے ساتھ یانئی ابھرتی پی ٹی آئی کے ساتھ جبکہ سیاسی امور کے ماہرین کاکہناہے کہ جب تک اس سوال کاجواب نہیں ڈھونڈاجاتاپیپلزپارٹی کی انتخابی کامیابی کی امید رکھناخام خیالی کے مترادف ہوگا ۔ادھرچند روز قبل آصف زرداری کی جانب سے فوج کے خلاف بیان نے پارٹی کی ساکھ پرمزید سوالیہ نشان لگادیئے ہیں ۔اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے عوامی اور سیاسی سطح پر اندازے یہی لگائے جارہے ہیں کہ نہ صرف آصف زرداری خودایک مشکل وقت سے گزررہے ہیں بلکہ اپنی جماعت کوبھی آزمائش میں ڈالتے دکھائی دے رہے ہیں۔بہرحال سیاسی جماعتوں پر عروج وزوال اور آزمائشوں کاآناکوئی نئی بات نہیں ۔اب بھی وقت ہے اگرپارٹی امورکوسنجیدگی کے ساتھ دیکھ کر فیصلے کئے جائیں مگریہاں بھی اٹھتاسوال یہ کہ فیصلہ سازی کااختیارکس کے پاس ہوگابلاول بھٹوزرداری کے پاس جنہیں بے نظیربھٹوکی شہادت کے بعد ان کی وصیت کی روشنی میں پارٹی کاچیئرمین مقرر کیاگیاتھایاوہ محض نام کے چیئرمین ہوں گے اورپارٹی کے تمام معاملات دیکھنے کااختیار ان کے والد کے ہاتھ میں ہوگا جیساکہ اب تک ہے۔واضح رہے کہ اگرچہ پیپلزپارٹی بارہاتردیدکرچکی ہے تاہم ماضی قریب میں آصف زرداری اور بلاول بھٹوزرداری کے مابین پارٹی اختیارات پر اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں اور اگران میں واقعی سچائی ہے تو پیپلزپارٹی کی قیادت کواس بات کااحساس وادارک کرناہوگا کہ دوڈرائیورزبیک وقت ایک گاڑی نہیں چلاسکتے اور پشتوکامشہورمقولہ ہے کہ ’’پہ ڈیروقصابانوکی غوا مرداریگی‘‘ پیپلزپارٹی کوفیصلہ کرناہوگااور وہ بھی جلد نہ کہ بدیر۔

یہ بھی پڑھیں  انوکھا طرز تعلیم اور تعلیمی انقلاب کے دعوئے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker