ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

سال 2013 میں قیام امن ضروری ہے

s m irfan thairاللہ اللہ کرتے سال 2013 کا سورج بھی طلو ع ہو گیا ہے ۔ نئی امید یں ، نئی بہا ریں ، نئی رعنا ئیا ں ، نئی خو اہشا ت ، نئی صبحیں ، نئی شامیں ، نئی روشنیا ں ، نئی داستانیں ، نئی زند گا نیا ں ، نئی سو غا تیں ، نئی انگڑائیا ں ، نئی پر و ائیا ں ، نئی سا عتیں جنم لینے لگی ہیں ۔ ہر سو خو شبو اور تر نم کے پھول کھلنے لگے ہیں یو ں محسوس ہو تا ہے کہ جیسے ایک نئی دنیا کا وجود ابھرنے لگا ہے ۔سال 2012 اپنے اندر کئی تا ریخیں رقم کیے ڈوب گیا ہے وہ چراغ تھا جو گل ہو گیا ہے وہ ما ضی تھا جو اندھیر وں میں چلا گیا ہے وہ لمحہ تھا جو یا داشت کے طور پر ذہنو ں پر اپنے اچھے بر ے اثرات ثبت کیے گز ر گیا ہے ۔ گز رے ہو ئے سالو ں نے ایسے دالخراش اور فر سودہ و غمگین لمحا ت عطا کیے کہ جن کے تصور سے روح تک کانپ اٹھتی ہے اور جسم میں تھر تھراہٹ سی پیدا ہو نے لگتی ہے دنیا کا امن تباہ کرنے اور مسلم امہ کو گز ند پہنچا نے اور ان کے احساس و جذبا ت سے کھیلتے ہو ئے امریکی اور اسرائیلی گما شقو ں نے گستا خانہ مو وی بنا نے کی ناپاک جسارت کی جس سے نہ صرف پو ری امت مسلمہ کے جذبا ت مجر وح ہو ئے بلکہ ملک بھر میں فساداتی کشمکش پیدا ہو گئی ۔ علم و امن کی صدا ئیں بلند کر نے والی ہو نہا ر طا لبہ ملالہ یو سفزئی پر جا ن لیوا حملہ کیا گیا ۔ عمر بھر قرآن و حدیث کے علوم سینو ں میں منتقل کر نے والے مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی سرفراز نعیمی کو شہید کر دیا گیا ۔ جنہو ں نے محض حق گوئی کی رسم کو پر وان چڑھایا اور ملک کے اندر ہو نے والے خود کش حملو ں اور بم دھماکو ں کے خلا ف قرآن و حدیث کی روشنی میں فتویٰ دیا کہ مسلمان پر مسلمان کا قتل حرام ہے اور کوئی اہل ایمان کسی مومن کو آگ میں نہیں جھو نک سکتا ہے ۔ امن کی آشا کو تقو یت بخشنے اور چا رسو قیام امن ، محبت اور پیا ر کا پیغام عام کرنے والے سنئیر صوبائی و زیر و رہنما عوامی نیشنل پا رٹی بشیر احمد بلو ر کو سرحد میں شہید کر دیا گیا ۔ سابق امیرجما عت اسلامی قا ضی حسین احمد مر حوم پر خا تو ن کے زریعہ سے خود کش حملہ کروایا گیا ۔ کئی مساجد ، امام با رگاہیں اور مدرسے نظر آتش کر دیے گئے ۔ شہر کے شہر جلتے رہے اور لا شیں گرتی رہیں اور چا رسو مایو سی ، بے بسی اور مجبوری کے بادل منڈلا تے رہے بلکہ بجلی ، گیس ، پیٹرول اور اشیاء خوردونوش کی قیمتو ں میں بے پنا ہ اضا فہ ہو تا چلا گیا ان سا رے معاملا ت میں حکومت نام کی کوئی شے دکھائی نہیں دیتی ہے ۔ ملک کے اندر دلخراش حادثا ت ، واقعات اور سا نحات ابھر کر سامنے آتے رہے لیکن حکومت اور سیا ست دان خاموش تماشائی بنے رہے یہا ں پر جس نے حق کی آواز بلند کر نے اور امن کی با ت کر نے کی کوشش کی تو اسے سر فہر ست ٹا رگٹ بنایا گیا کوئی غازی بنا تو کوئی شہید دہشتگردوں نے فسادیو ں کا لبا دہ اوڑھے اپنے آپ کو جہا دی کہلوا نے کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا مغربی خفیہ اداروں سی آئی اے ، مو ساد ، را ، ٹی ٹی پی ، بلیک واٹر اور نیٹو فو رسز نے مل جل کر پاکستان میں بد امنی اور بد نظمی پھیلا نے کی بھر پو ر کو ششیں جا ری رکھیں ۔
نثا ر تیری گلیو ں پہ اے وطن جہا ں چلی ہے رسم کہ کوئی سر اٹھا کے نہ چلے
امن کی با ت کرنے والو ں اور غیر شرعی اور غیر فطری صورتحال پر تنقید کر نے والو ں کو با رود اور خود کش دھماکو ں سے اڑا دیا گیا اور جو زندہ اور موجود ہیں وہ بھی زندگی اور مو ت کی کشمکش میں مبتلا ہیں یعنی ایک قیمتی زندگی چند سیکنڈوں میں ابدی نیند سلادی جا تی ہے ۔ اس سارے خونی کھیل کے پیچھے بے شما ر ملک دشمن عنا صر چھپے ہیں جو اس ملک کی بنیا دوں کو ہلا نا چاہتے ہیں جو اس کو تبا ہ و برباد کر نے کے دن رات خواب دیکھتے ہیں جو اس کے سکھ اور شانتی کے قائل نہیں ہیں جن کی رگو ں میں اس وطن عزیز کے خلا ف نفرت اور بغا وت بھری پڑی ہے پھر یہا ں کیو ں ملک دشمن عنا صر کو ہی پر مو ٹ کیا جا رہا ہے؟ انہیں کے ڈر اور خوف سے زند گی بسر کی جا رہی ہے کیو ں حق و با طل میں تفریق کے لیے علم بلند نہیں کیا جا سکتا ہے؟ کیو ں ہما رے دشمن اس قدر طا قتور اور مضبوط دکھائی دیتے ہیں؟ ان تمام تر لمحا ت میں اپنی بقاء و سا لمیت اور سلامتی کی خا طر آئیے ایک حکمت عملی اپنائیے ایک تر کیب بنائیے ایک لا ئحہ عمل اختیا ر کجئیے ایک اصول اور ضا بطہ اپنا لجئیے سال 2013 بہا در افواج پاکستان کے نام کر دیں اپنے عسکری اداروں ، پاک آرمی ، پاک نیوی ، پاکستان ائیر فورس ، آئی ایس آئی اور ایم آئی کو مضبوط کر یں اور اپنا یہ نیا سال اپنی سیکیو رٹی فورسز کے نام منسوب کر دیں تو پھر کوئی بھی میلی آنکھ اس ملک کی طرف اٹھ نہیں پا ئے گی کوئی بھی اند رونی اور بیرونی دشمن اس کا نظم و نسق تبا ہ کر نے کی ناپاک جسارت نہیں کر سکے گا ۔ ہما ری آرمی اور خفیہ ادارے مستحکم اور منظم ہو ں گے تو چا رسو خو شیا ں اور بہا ریں دکھائی دینے لگیں گی کہیں بھی دہشتگردی کا حملہ کا میا ب نہ ہو پا ئے گا کہیں بھی لا شیں نہیں گر یں گی کہیں بھی آہ و بکا دکھائی نہیں دے گی کہیں بھی مصا ئب و الم کے پہا ڑ نہیں ٹو ٹیں گے اور کہیں بھی مایو سی اور محرومی کی فضائیں دکھائی نہیں دیں گی پو ری قوم کو چا ہیے کہ مکمل دیا نتدا ری اور خلو ص دل سے اپنی سیکیو رٹی فورسز اورخفیہ اداروں کو مضبوط کریں ان پر مکمل طو ر پر اعتما د پیدا کیا جا ئے یہ بد بخت حکمران اور سیاست دان اس ملک کا سودا کر نے میں بھی دیر نہیں لگا ئیں گے انہو ں نے اپنے ضمیر اور اپنے ایمان بیرونی قوتو ں کے ہا ں گر وی رکھے ہو ئے ہیں اس ملک کو بچا نے اور اسے لا زوال قوت بنا نے کا اصل منبع و مجمو عہ صرف اور صرف پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی ہے جس سے پو ری دنیا اور ملک دشمن خائف ہیں ۔ بیشک اس دور میں سچائی ، دیا نتداری اور حق کی آواز بلند کر نے والے منو ں مٹی تلے دب گئے ہیں لیکن جو رات قبر میں ہے اس میں ایک لمحہ بھر کے لیے بھی تا خیر نہیں ہو سکتی ہے ۔ اسلیے پو ری پاکستانی قوم کو اب بیدار ہو نا پڑے گا خواب غفلت سے سر اٹھا نا پڑے گا اور اپنے محافظ اداروں کو مضبو ط اور مو ئثر بنا نا پڑے گا کیو نکہ
شہا دت ہے مطلو ب مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
دنیا میں پاکستان کو بدنام کر نے والے اور اس کی غلط تصویر پیش کر نے والے اور اس کی بربا دی و تباہی کا سامان مہیا کر نے والے چا ہے کسی بھی خطے ، کسی بھی مسلک ، کسی بھی فر قے ، کسی بھی رنگ ، کسی بھی نسل اور کسی بھی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ہو ں وہ ہما رے دشمن ہیں با غی ہیں اس سلطنت خدادا د کے مجرم ہیں اور اس سٹیٹ کے قصور وار ہیں ان کے خلا ف صوت حق بلند کر نا اور انہیں نیست و نا بوت کر نا ہر محب وطن پاکستانی کا اولین فریضہ ہے اور یہ فریضہ قلم ، علم اور عمل سے نبھا تے رہیں گے ۔ اس ملک میں خو ف ، درد اور ازیت کی فضاء پیدا کرنے والو ں کے خلا ف اب جنگ بہت ضروری ہو گئی ہے اس سرزمین کو ناپاک جسمو ں اوربد رو حوں سے پاک کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن گئی ہے اس کیلیے اٹھیے علم جہا د بلند کجیئے اور صف بندی کرتے ہو ئے کسی ایک پلیٹ فارم پر متحد و متفق ہو جا ئیں ۔ اس ملک کی بقاء ، سا لمیت اور سلامتی ہر شے سے مقدم ہے اور ان کو قائم رکھنے والے ادارے اور سیکیو رٹی فورسز اس سے بھی زیادہ معتبر اور مقدس ہیں ۔
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہا ں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے بر سوں یہا ں خزا ں کو گزرنے کی بھی مجا ل نہ ہو
یہا ں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیں یہا ں ایسی با رشیں بر سائیں کہ پتھروں سے بھی رو ئیدگی محال نہ ہو
خدا کرے کہ وقار اس کا غیر فانی ہو اور اس کے حسن کو تشویش ما ہ و سال نہ ہو
ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج کمال کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

یہ بھی پڑھیں  روایتی دشمن آج پھر آمنے سامنے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker