بلال حیدر اعوانتازہ ترینکالم

قصہ عیش پرستوں کا

bilalجب قومیں ترقی کرتی ہیں تو ترقی یکدم نہیں آتی بلکہ اس کا باعث لاتعداد لوگوں کی برسوں تک لگن، محنت اورقربانی ہوتی ہے۔ اسی طرح جب قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں تو اس کا سبب بھی برسوں تک لاتعداد لوگوں کی نااہلی، خودسری اور عیاشیاں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ قومی دولت کا ناجائز استعمال بھی قوموں کو عتاب کا شکارکرتی ہے۔ تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو ہمیں کئی ایسی قومیں ملیں گی جو صرف عیاشی کی وجہ سے زوال پذیر ہوئیں۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ جب قومیں ترقی کرنے پہ آئیں تو ان کی اکثریت میں ذ مہ داری کا احساس بدرجہ اتم موجود تھا اور ایسی قوموں پر قدرت بھی مہربان ہوئی۔ اسی طرح جب کوئی قوم زوال پذیر ہوئی تو ان کی اکثریت عیش پرستی اور دولت پرستی کا شکار تھی اور ایسی قوم سے قدرت نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔
سکندرِ اعظم جب بھی جنگ جیتتا تو مالِ غنیمت اپنے فوجیوں اورسلطنت کی بھلائی کیلئے خرچ کردیتا لیکن دولت ملنے سے سکندر کی فوج عیش پرست بن گئی۔ جب سکندر کی فوج نے عیش کوشی کی وجہ سے دریائے گنگا عبور کرنے سے انکار کر دیا تو سکندر نے کہا کہ’’ایک مرد کوعورت اور دولت تباہ کردیتی ہیں اور تم نے دونوں کو اپنا لیا‘‘۔ خوارزم شاہ اور اہل بغداد کی دولت پرستی اور ہٹ دھرمی نے دونوں کو آنیوالے طوفان سے کبوتر کی طرح آنکھیں چرانے پر مجبور رکھا۔خوارزم اور بغداد کی سلطنتوں کے گرنے کے بعد مسلمانوں کا حوصلہ ایسا ٹوتا کہ وہ کسی بھی جگہ تارتاریوں کا ڈٹ کر مقابلہ نہ کر سکے۔ ان عیش کوش حکمران کی چیتھڑے پہننے والوں نے درگت بنائی اور ایک با علم اور تہذیب یافتہ قوم عیش پرستی کی وجہ سے تارتار ہوگئی۔ چنگیز خان ایک چھوٹے سے قبیلے کا سردار تھا لیکن وہ عیش پرست قوموں پر قدرت کا قہر بن کر ٹوٹا۔ شایدیہ وہ واحد انسان ہوگا جس نے افغانوں کو بھی عبرتناک شکست دی اور شاید چنگیز خان جیسے لوگوں کیلئے ہی کہا جاتا ہے کہ’’ آیا، چھا یا اور چلا گیا‘‘۔اسی طرح جب مسلمانوں میں عیاش لوگوں کی کمی تھی تو موسی بن نصیر، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے قابل جرنیل پیدا ہوئے اور جیسے جیسے خود سر اور عیش کوش حکمران مسندِ اقتدار پر براجمان ہوئے تو اقتدار کے نشے میں دھت حکمرانوں نے انہی جرنیلوں کو راستے کا پتھر سمجھ کران کاخاتمہ کردیا۔ یونان مسلمانوں کی عظیم ریاست ثابت ہوئی لیکن جیسے جیسے حکمرانوں کی عیاشی بڑھتی گئی تو ان کی سطوت خاک کا ڈھیر ثابت ہوئی اور آج یونان میں مسلمان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔
یہ تاریخ کے کچھ انمٹ نقوش تھے لیکن آج کے اسلامی ممالک کی پالیسیوں اور عیش کوشیوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم مسلمانوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ عرب ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ ترکی معاشی ترقی میں مسلمان ممالک میں سب سے آگے ہے۔ چند افریقی مسلم ممالک بھی معاشی لحاظ سے مضبوط ہیں۔ہمارا پیاراملک پاکستان معاشی لحاظ سے مضبوط نہیں لیکن ایک ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے کبھی اسے اسلام کا قلعہتصور کیا جاتا تھا۔ بہرحال کوئی ملک امیر ہے یا غریب لیکنہر ملک کا حکمران عیش کوشی کی زندگی بسر کرتے نظرآتاہے۔ انہیں جیسے خبر ہی نہیں کہ حالات کس طوفان کی پیش گوئی کرتے نظر آ رہے ہیں۔
عرب ممالک کی وجہ سے پوری دنیا کی مشینری کا پہیہ رواں ہے اور ایک لحاط سے عرب ممالک پورری دنیا کو کھلا رہے ہیں لیکن ’’روحینگاہ‘‘ برما کے مسلمانوں کو کھلانے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں۔ ’’روحینگاہ‘‘ کے اجڑے ہوئے مسلمانوں کو کوئی بھی اپنے خطے میں پناہ دینے پر راضی نہیں۔ اگرچہ ترکی کے جذبات باقی تمام اسلامی ممالک سے زیادہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور انہوں نے ’’روحینگاہ‘‘ کے مسلمانوں کی دادرسی بھی کی اور شام کے تباہ حال مسلمانوں کو بشارالاسد کے ظلم سے بچانے کے لئے پناہ بھی دی لیکن ’’روحینگاہ‘‘ کے مسلمانوں کو کون پناہ دیگا؟ مصر نے فلصطینیوں کو پناہ دی لیکن وہ بھی ’’روحینگاہ‘‘ کے معاملے پر آنکھیں چرائے ہوئے ہیں۔ ایران کی بھارت کے ساتھ دوستی اور اسرائیل کی ساتھ چھپ چھپا کے مذکرات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے لیڈر کو اس لئے پھانسی دی جاتی ہے کہ وہ 1971ء کے فسادات میں ملک کو دو لخت ہونے سے بچانا چاہتا تھا۔ پاکستان کے نام نہاد جمہوری رہنماؤں نے ’’روحینگاہ‘‘کے متعلق انتہائی سردمہری کا ثبوت دیا اور ان بیکس اور بےآسرا مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار تک نہ کیا ۔ کشمیر کا مسئلہ 66 سال سے حل طلب ہے ۔ اسلامی ممالک نے آج تک اس مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا۔ پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے امریکہ کو افغانستان کیخلاف سمندری اور فضائی حدود دے دی جس کے بعد پاکستان میں امریکن اور دیگر دشمنانِ اسلام دندناتے پھرتے ہیں۔ فرانس میں مسلمان عورتوں کو نقاب اوڑھنے پر جرمانہ کیا جاتاہے۔ وہ تعلیمی اداروں میں نقاب کیساتھ نہیں جا سکتیں۔ مسلم ممالک کی عیش کوشیوں نے ایک بہت بڑے طوفان کو دعوت دی ہے جو عراق سے شروع ہوا ، افغانستان سے ہوتا ہوا اب پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے کے لئے کسی بہانے کے انتظار میں ہے۔
زیادہعرصہ کی بات نہیں جب روس ہرپلیٹ فارم پر امریکہ کے خلاف جاتا تھا لیکن اب اس طوفان میں امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گیا ہے۔ حالات کہتے ہیں کہ دنیا ایک بہت بڑی تباہی کا شکار ہونے جا رہی ہے۔ انسانیت کے بدترین قتل کا ایک فول پروف منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔اللہ نے ہمیں 1400سال پہلے نصیحت کی کہ کفار کبھی ہمارے دوست نہیں ہوسکتے لیکن ہمیں یقین نہیںآیا شاید ہم اپنی آنکھوں سے سب دیکھناہیں۔ گزشتہ دنوں فرانس نے اپنے ایک فوجی کو مالی کے اسلام پسندوں سے چھڑوانے کا ڈرامہ رچایا جس میں صرف ایک ہیلی کاپٹر پر چار فوجیوں نے حصہ لیا اوردو فوجی مروا کر واپس آگئے ۔ عموماً ایسی شکست کو ہارنے والے ممالک چھپانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس خبر کو پوری دنیا میں پھیلایا گیا تاکہ دنیا کے جذبات اپنے حق میں حاصل کئے جا سکیں ۔ اگلے ہی روز فرانس نے مالی کیخلاف فوجی آپریشن کا عندیہ دے دیا اور عرب ممالک سے بھی اس پر تعاون مانگ لیا۔ روس نے بھی فرانس کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے جو امریکہ کا بہت بڑا مخالف سمجھا جاتاہے لیکن مسلمانوں کی خلاف سب ایک ہو چکے ہیں۔ فرانس کی اس شکست کے اگلے دن االجیریا(جو مالی کا ہمسایہ ملک ہے اور الجیریا کے بارے میں ماہرین کا کہنا یہاں یورینیم کی بہت بڑی مقدار ہے) میں مختار بالمختار نامی شخص نے ایکگیس فیلڈ پر قبضہ کرکے وہاں پر کام کرنیوالے امریکیوں کو اغوا کر لی اور مطالبہ کیا کہ ’’عافیہ صدیقی‘‘ کو رہا کر دیا جائے۔ کہیں یہ کوئی ڈرامہ تو نہیں جس طرح افغانستان پر حملے کے لئے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا ڈرامہ رچایا گیا؟ کہیں اس سارے ڈرامے کے پسِ پشت الجزائر کے قدرتی وسائل پر تو قبضہ ہونے نہیں جا رہا یا واقعی ایک عرصے کے بعد کسی مسلمان کی غیرت جاگ اٹھی ہے اور وہ حقیقتاً عافیہ صدیقی کو چھڑانا چاہتا ہے؟ کیاسچ ہے اور کیا جھوٹ بہرحال اسلامی ممالک کو بالخصوص عرب ممالک کو دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ایک ہو کر اس فتنے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ورنہ نہ تو اسلامی ممالک کے پاس سکندر ہے جو ایک بے دل فوج کو لڑا سکے اور نہ ہی موسی بن نصیر، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے قابل جرنیلجن کی اعلیٰ اقدار نے دشمن کو بھی رام کیا۔ اگر آج یکجہتی کا مظاہرہ نہ کیا تو کل کا تاریخ داں آج کے حکمرانوں کی تاریخ لکھے گا تو یہ مصرعہ ضرور لکھے گا۔
؂قومے فروختند وچہ ارزے فروختند

یہ بھی پڑھیں  پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ جیتے 22 سال بیت گئے

note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker