ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

قوم اللہ کے حضورمعافی مانگیں

آج پاکستان کے معماروں اور محب وطنوں کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ مفاد پرست اپنے چھوٹے چھوٹے مکانوں سے نکل کر بڑے بڑے محلات میں رنگ رلیاں منا رہے ہیں۔ متعصب، مفاد پرست اور کرپٹ ٹولہ نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور گنے چنے محب وطن رہنماؤں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔شریف آدمی اپنی عزت اور عزتِ نفس بچانے کی جدوجہد میں خود کشی پراتر آیا ہے تو دوسری طرف قوم و ملک کی دولت لوٹنے والے عیاشیاں کر رہے ہیں۔ بددیانتی، فریب اور مکر کی ایسی مثالیں نظر آتی ہیں کہ ایک با ضمیرپاکستانی کا سر شرم سے جھک جا تا ہے۔ آج پاکستان کی باگ دوڑایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو جھوٹے ہی نہیں بلکہ ان میں غیرت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب قوم اپنی کمزوریوں، غفلتوں اور بے راہ روی کے ہاتھوں بے ضمیر حکمرانوں کے آگے بے بس نظر آتی ہے۔بد نصیبی کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔جنہوں نے فرنگیوں اور آمروں کی گود سے جنم لیا، جن لوگوں نے بے دردی سے قومی دولت کو لوٹا پاکستانی قوم نے آج بھی انہیں لوگوں کو ایوانوں میں اور وزارتوں پر بیٹھا رکھا ہے اور وہی لوگ جمہوریت کے نام پر پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ ملک کو غیر ملکی قرضوں میں اتنا ڈبو دیا گیا ہے کہ بس یوں لگتا ہے وہ وقت دور نہیں جب یہ دارالخلافہ کو گرویِ رکھ کر خود اپنے آقاؤں کے ملک میں بھاگ جائیں گے۔ عوام کا یہ حال ہے کہ پڑھے لکھے لوگ ایک سے زیادہ سمِ والے موبائلوں پر تو گھنٹوں باتیں کرتے ہیں، غیر مہذب ویڈیوز دیکھ کر وقت خراب کرنے میں لگے ہیں، بے ہودہ لطیفے ایک دوسرے کو موبائلوں پر بھیج کر اور آن لائن سوشل نیٹ ورکس پر فضول کی بحث کرکے وقت برباد کر رہے ہیں۔جس ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے مہذب معاشرہ میں لوگ اپنا معیار تعلیم بڑھارہے ہیں ،اعلی ایجادات کر رہے ہیں، بیرونی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں اور قومیں معاشی انقلاب برپا کر رہی ہیں اسی ٹیکنالوجی سے آج پاکستان کی نئی نسل ذہنی بیماریوں، معاشرتی خرافات اور برائیوں کا شکار ہے۔آج ہمارے سامنے ایک عام آدمی سے لیکر ذمے دار عہدہ پر بیٹھا افسر بھی شارٹ کٹ مارنے کے چکر میں بے اصولی زندگی گزار رہا ہے۔غرض کہہ پاکستانی قوم کا یہ حال ہے کہ اب اگر کرپشن اور مسائل کی بات کی جائے تو سوچنا پڑتا ہے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے اور کیا کیا بیان کیا جائے۔ اچھائیاں ڈھونڈنے سے نہیں ملتیں۔ ہمارے سامنے ویتنام، انڈونیشیا، تائیوان اور بنگلادیش جیسے ممالک کی مثالیں موجود ہیں جو کچھ عرصے پہلے تک پاکستان سے ترقی کے ہر میدان میں بہت پیچھے تھے۔عبرت کا مقام یہ ہے کہ آج پاکستانی عوام ٹیلی ویژن کے کمرشل ٹاک شوز پر بھانڈ نما سیاسی بازیگروں کی بے ہودہ اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو سن کر لطف اندوز ہوتی ہے۔ یہ ٹاک شوز ٹیلی ویژن کے پروگراموں کی ریٹنگ اور مارکیٹنگ میں تو اضافہ کر دیتے ہیں مگر کیا پاکستانی عوام ان سے کوئی سبق سیکھ رہی ہے۔ کیا قوم ان سیاسی بازیگروں کے پیچھے چھپے ہوئے ان کے کارناموں کو جاننے کی کوشش کر تی ہے؟ کیا قوم اپنے ملک کے مفاد کی خاطر اور اپنا قومی فریضہ سمجھ کر یہ جاننے کی کوشش کر تی ہے کہ ان سیاسی بازیگروں نے ماضی میں کیاکیا تھا ان کے بڑوں نے کیا گل کھلائے تھے۔ مطالعہ کی بات تو دور، آج پاکستان کے شہروں اور قصبوں سے لائبریریوں کو ختم کر دیا گیا۔ لوگوں کو کتابیں پڑھنے کا کوئی شوق نہیں اور نہ ہی وہ اس کی ضرورت محسوس کر تے ہیں۔ آج پاکستان کے تعلیمی اداروں میں نوجوان ہر امتحان نقل کی زور پر پاس کرتے ہیں۔ آ ج ذاتی ضرورتوں کو پورا کرنے اور محکمہ جاتی کرپشن کے نام پر اساتذہ سے لیکر تعلیمی افسران بھی کرپشن میں ملوث نظر آتے ہیں۔ ملک کے کچھ محب وطن دانشور، سماجی شخصیات، ادیب نقاد اور صحافی چلا چلا کر قوم کو جگانے اور آنے والی بربادی کا پیش خیمہ کر رہے ہیں مگر ان کی سننے والاکوئی نہیں۔روپے کی قیمت ہر روز گرتی جا رہی ہے کیا کسی کو اسِ بات کی پرواہ ہے کہ اگر اسی طرح روپے کی قیمت گرتی رہی تو اگلے ایک دو سالوں میں سرکاری خزانے کا کیا ہوگا، بیرونی قرضوں کا کیا حال ہوگا۔ ملک کی درآمد کا کیا ہوگا۔ نہ ملک میں بجلی ہے نہ گیس، قتل و غارت گری عام ہے، اغواء اور عصمت دری کی وارداتیں معمول بن گئی ہیں۔ ایک ایک کرکے پاکستان کے تمام بڑے قومی اداروں کو تباہ کر دیا گیا۔ آج ملک میں موت سستی ہے اور آٹا مہنگا۔اور دوسری جانب حکمرانوں کا رویہ ایسے جھوٹ اور فریب پر منحصر ہے کہ جس کی نظیر کم سے کم مجھے تو نہیں ملتی۔کیا یہ ہے پاکستان کا وقار؟ کیا یہ ہی ہے وہ پاکستان جس کے لئے بانیِ پاکستان نے کہا تھا کہ پاکستان دنیا کے لئے ایک عظیم اور باوقار راسلامی ریاست بن کر ابھرے گا۔ مہذب قوموں میں اگر کسی سیاسی رہنما کا ایک چھوٹا سا اسکینڈل ذرائع ابلاغ میں آجاتا ہے تو عوام اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے جب تک وہ اپنے لیڈر کو مجبور نہ کردیں کہ وہ اپنے عہدہ سے دست بردار ہو جائے مگر آج پاکستانی قوم کا یہ حال ہے کہ ہر روز نئے سے نیا ملک کو لوٹنے اور کرپشن کا واقع رو نما ہو رہا ہے مگر عوام ہیں کہ بس اپنی دھن میں مگن ہیں۔ اور سمجھ سے بالا تر بات یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ سوشل میڈیا پر، ٹیلیفون پر اور اپنے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر ان سیاسی مداریوں کے وہ قصیدے پڑھتے ہیں اور ان کی حمایت میں ایک دوسرے سے اسِ طرح جھگڑتے ہیں جیسے ان سیاسی مداریوں نے ان کو تنخواہ پر اسِ لئے رکھا ہے کہ یہ ان کے قصیدے پڑھتے ہیں۔آج پاکستانی عوام مجرم ہیں بابائے قوم محمد علی جناح اور ان لاکھوں شہیدانِ پاکستان کے جنہو

یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم سے مولانا فضل الرحمان اورمحمود خان اچکزئی کی ملاقات

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker