پاکستانتازہ ترین

کراچی:سید منورحسن کی زیر صدارت قومی کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

کراچی﴿بیوروچیف ﴾ سانحہ12 مئی کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن کی زیر صدارت ہونے والی قومی کانفرنس میں ایک مشترکہ اعلامیہ بھی پیش کیا گیا جس میں کہا گیا کہ قوموں کی تاریخ میں  فخر و مسرت انبساط و تشکر کے لمحات بھی آتے ہیں اور المیہ بھی رونما ہوتے ہیں۔ قومیں ان ایام کو اسی طرح سے مناتی ہیں اور ان واقعات سے سبق حاصل کرتی ہیں اور ان ایام کو ان کے تناظر میں پورے پس منظر کے ساتھ تاریخی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے منانے والی قومیں ہی عظیم قومیں قرار پاتی ہیں اور ایسے ہی اسباق سے ان کی تاریخ رقم ہوتی ہے۔ہماری تاریخ میں کئی المیے رونما ہوئے۔ انہی میں سے ایک 12 مئی 2007کا المیہ بھی ہے جس میں چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب ‘سندھ ہائی کورٹ کی گولڈن جوبلی تقریبات میں شرکت کے لیے تشریف لارہے تھے مگراسی دن 50 جانیں تلف ہوئیں۔ پورے شہر کو حکومتی سرپرستی میں دہشتگردوں کے حوالے کیا گیا۔ سڑکوں کو کنٹینر لگاکر بند کیا گیا۔ ایئرپورٹ جانے والے ہر فرد اور ہر راستے کو مسدود کردیا گیا اور پھر گولیوں کی بوچھاڑ ہر طرف ہوتی رہی۔ شیطان رقص کرتا رہا۔ انسانیت شرماتی رہی اور پھر شام کو مملکت کے سب سے اعلیٰ عہدے پر براجمان کہ جس نے حلف‘ مملکت کی وفاداری کا اٹھایا تھا۔ عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کی پاسداری کا اٹھایا تھا اپنے دونوں ہاتھوں کے مکے بناکر ہوا میں لہرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کردیا۔ عوام نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کردیا۔ یہ سارا عمل صرف عدالت ع ظمیٰ کے سربراہ کے شہر میں داخلے کو روکنے کے لئے کیا گیا۔ وکی لیکس کے ایک انکشاف کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (MQM) کے رہنما فاروق ستار نے اس وقت کے امریکی ناظم الامور سے یہ کہا ’’12 مئی کے واقعات میں ایم کیو ایم کے کچھ کارکنوں کے ساتھ ساتھ اس وقت کے صدر پرویز مشرف اور دیگر حکمراں بھی ملوث تھے۔‘‘اتنے بڑے قومی سانحہ پر جہاں پوری قوم کو یک زبان ہوکر اس سانحے کے کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بات کرنی چاہئے تھی وہ نہ ہوسکی اس لئے کہ ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی پیشی والے دن پھر شیطان نما انسان ننگ پر اتر آئے اور ننگ انسانیت ہائیکورٹ پر چڑھ دوڑے اور آج تک نہیں معلوم کہ کورٹ اس کا کیا فیصلہ کرتی ہے۔ یہ بات بھی ہے کہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے جب آئی جی سندھ کو طلب کیا تو ان کا کہنا تھا ’’میں مجبورہوں کچھ نہیں کرسکتا۔‘‘ اور کور کمانڈر نے تو آنے سے ہی انکار کردیا۔اس مقدمے کے مدعی اقبال کاظمی کا یہ کہنا رہا کہ اس درخواست کی سماعت سپریم کورٹ اسلام آباد منتقل کردی جائے لیکن یہ بھی نہ ہوسکا۔ عدالت عظمیٰ بھی اس بے بسی پر خاموش ہے اور دیگر مقتدر حلقے بھی تماشائی بنے ہوئے ہیں۔صد افسوس ان نصف صد سے زیادہ لاشوں کے لواحقین کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔آج حکومت میں شامل اسپیکر‘ وزرائ اور سفیر بھی 12 مئی کو اپنے اوپر چلتی گولیوں کے عینی شاہد ہیں۔ اور اتنے ہی بے بس کہ مفاہمتی پالیسی کی وجہ سے اپنے حلیفوں کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہسانحہ 12 مئی کے اصل مجرموں کو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ‘ ورنہ قوم ایسے انسانیت سوز المناک واقعات سے دوچار ہوتی رہے گی۔ حکومت سے بھی مطالبہ ہے کہ اس روز ہونیوالے جانی ومالی نقصان کا ازالہ کیا جائے۔آج کی یہ قومی کانفرنس اس المیہ کو قومی المیہ قرار دیتی ہے اور قوم سے ہی مطالبہ کرتی کہ خیبر پختون خواہ سے کراچی تک اور چمن کے بارڈر تک ایک آواز ہوکر انصاف کی طلب گار بنے اور پورے ملک میں احتجاج کرے اور یہ اعلان بھی کرے کہ تمام ملزمان بشمول پرویز مشرف کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور اس ناروا بہائے گئے خون کا حساب لیا جائے۔سانحہ 12 مئی کے مرکزی کردار گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو فوری طور پربرطرف کیا جائے جن کی وجہ سے آج بھی گورنر ہاؤس دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔سانحہ 12 مئی کی ایف آئی آر اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف ‘ دیگر سرکاری و سیاسی ذمہ داران اور معلوم ونامعلوم چہروں کے خلاف درج کی جائے۔سانحہ 12 مئی کے واقعات کی عدالتی تحقیقات سپریم کورٹ کے جج پر مشتمل ٹریبونل سے کرائی جائے۔ اب تک جو تحقیقات ہوئی ہیں ان سے فوری طور پر قوم کو آگاہ کیا جائے۔سانحہ 12 مئی کی طرح کے واقعات مثلاً 12 ربیع الاول‘ 12 مئی 2006 ‘ 18 ‘ اکتوبر 2007 ‘ 9 اپریل 2008 ‘ سانحہ عاشورہ ‘ سانحہ چہلم‘ سانحہ بولٹن مارکیٹ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔کراچی پولیس میں سیاسی تقرریوں کا خاتمہ کیا جائے۔ محکمہ پولیس کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر منظم کیا جائے۔ قاتلوں‘ بھتہ خوروں اور قانون شکنوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔پورے پاکستان اور خصوصاً سندھ میں قانون کی حکمرانی بحال کی جائے۔ مفاہمت کی سیاست کے نام پر مجرموں سے مفاہمت اور ا ن کی سرپرستی کا خاتمہ کیا جائے۔ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی تمام ایف آئی آر پر فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔مفاہمتی سیاست کے حلیف نے حکومت سندھ کے تمام شعبہ جات اور مقامی اداروں کو محصور بناکر رکھا ہوا ہے۔ٹارگٹ کلنگ اوربھتہ خوری کی تمام وارداتوں کی فوری روک تھام کی جائے۔ واردات کی صورت میں مقامی SHO کو شامل تفتیش کیا جائے۔ اس طرح کی تمام وارداتوں کی ت

یہ بھی پڑھیں  کراچی: کراچی میں ہدف بنا کر قتل کرنے اور بد امنی کے واقعات میں بتدریج اضافہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker