تازہ ترینصابرمغلکالم

قومی پرچم کی حرمت اور یوم آزادی کے تقاضے

sabir12اگست 1987کو غلہ منڈی اور دفتر مارکیٹ کمیٹی اوکاڑہ کے قریب جشن یوم آزادی کے سلسلہ میں محمد افضل نامی ایک نوجوان پاکستان کا قومی پرچم ہاتھ میں تھامے لہرا رہا تھا کہ اسی دوران عمر میں ایک بڑے شخص نے اپنا جھنڈا اس کے پرچم سے اوپر کر دیا نوجوان محمد افضل کے جوش جذبہ میں مزید اضافہ ہو گیا اس نے پاس سینٹری کی دوکان سے لوہے کا پائپ اٹھایا اور اس پر قومی پرچم کو لگا کر بلند کر دیا۔بد قسمتی سے اسے اس بات کا اندازہ نہ ہوسکا کہ ساتھ ہی بجلی کی مین لائن گذر رہی ہے جیسے ہی لوہے کا پائپ ان سے ٹکرایا محمد افضل کے دونوں بازو بری طرح جھلس گئے ،دوران علاج ڈاکٹرز کو اس کے دونوں ہاتھوں کو ہی جسم سے الگ کرنا پڑا۔وہ محمد افضل اس وقت معذوروں کے کوٹہ میں محکمہ تعلیم میں نائب قاصد ہے۔محمد افضل کا واقعہ آج اس حوالے سے تازہ ہو گیا کہ ہمارے 68ویں یوم آزادی کے دوسرے روز اور پڑوسی دشمن ملک کے یوم آزادی پر اوکاڑہ شہر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیروں پر پھٹے ہوئے قومی پرچم اور جھنڈیاں پڑی نظر آئیں،اسی افسوس او رتجسس کے عالم میں قومی پرچم کی حرمت کا مزید خیال آیا اور دیکھا تو ایک پٹرول پمپ اور شاندا ر قیمتی کوٹھی سمیت متعدد عمارتوں پر الٹے ہوا میں پھڑ پھڑاتے نظر آئے ۔کسی لشکر ،کسی ریاست ،کسی مملکت کے قومی پرچم کی بے حد اہمیت ہے مگر حکومتی سطع پر اس کی افادیت اور تقدس کو اجاگر کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا ،ہمارے پرائمری نصاف میں۔ قومی پرچم۔کے حوالے سے چھوٹا سا سبق ہے مگر اساتذہ کرام بھی اسے سوائے رٹانے کے اور کچھ نہیں کرتے۔ہمارے بے حس حکمرانوں نے قومی غیرت کے حوالے سے عوام کو بھی بے حس کر دیا ہے، گذشتہ سالوں کی طرح اس بار بھی یوم آزادی پاکستان کے موقع پر سرکاری سطع پر شہر اقتدار میں قائم وسیع و عریض بلڈنگ کنونشن سنٹر میں ایلیٹ کلاس کے لئے ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا ،سرکاری ٹی وی نے اس تقریب کو مکمل طور براہ راست نشر کیا۔نقابت کرنے والا جوڑے نے وطن کی محبت اور آزادی کی نعمتوں کے قلابے آسمان تک جوڑ دئیے،سرکاری ٹی وی کے ماہرین اور حکومت نواز پروڈیوسر اس کام پر بڑی محنت کرتے ہیں،سرکاری لکھاری الفاظ کی جادو گری کا خوب استعمال کرتے ہوئے اپنی تحریر لکھ کر پروگرام کے میزبانوں کے حوالے کر دیتے ہیں اور سٹیج پر بولنے کی صلاحیت سے مالا مال یہ میزبان چاپلوسی کی مینہ کاری کو انتہاؤں تک پہنچا دیتے ہیں ،پوری تقریب کے دوران کم از کم 100دفعہ اس بات کو دہرایا گیا کہ ۔آؤ عہد کریں ہم پاکستان کو نئی منزل پر لے جائیں گے،اسے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کریں گے۔یہ لوگ ۔عہدکریں ، عہد کریں۔ کا ذکر کر کے کس کو بیوقوف بناتے ہیں، یہ عہد(حلف) تو اس وقت بھی لیتے ہیں،جب پارلیمانی نشست،وزارت وغیرہ پر براجمان ہوتے ہیں۔لیکن ان کے ۔عہد۔ وہ عہد نہیں جن میں وفا کی خوشبو ہوتی ہے ان کے نزدیک ۔عہد۔ہے حکومتی مدت پوری کرنے کا،اختیارات کو اپنی مرضی و منشا کے مطابق استعمال کرنے کا ۔اپنوں کو نوازنے کا۔قومی اداروں کو اپاہج کرنے کا اور عوام کے بنیادی حقوق چھیننے اور غضب کرنے کا۔بازی گر لوگ بڑے عجیب ہوتے ہیں ان کی بازی گری ہمیشہ کرتبوں تک محدود ہوتی ہے اس سے آگے وہ کسی کام کے نہیں ہوتے ،مطلب نکلنے پر ان کی راہیں سب سے جداگانہ ہو جاتی ہیں،ان کا کام ہے ایک دم عوام کو اپنے کرتبوں کے سحر میں جکڑا،ان کی جیبوں کو خالی کیااور پھر شاہراہ محل یا گھر کی راہ لی۔پاکستان میں بھی بازی گری کا ٹولہ ایک طویل عرصہ اور تسلسل سے اپنے اپنے کرتب دکھانے میں مصروف ہیں بالکل اسی سرکس کی طرح کہ ایک آیا پھر دوسرے کی باری۔عوام کی جیبیں بھی خالی ہوتی ہیں اور عجب بات یہ کہ تالیاں بھی وہی بجاتے ہیں۔آزادی جیسی نعمت دنیا کی انوکھی اور بہترین چیز ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔مگر پاکستان میں بانی پاکستان اور ان کے ساتھیوں کی انتھک محنت سے ہم انگریز او رہندو بنئے سے تو آزاد ہو گئے مگر ۔اپنوں کے غلام ۔بن گئے اور اپنوں کی غلامی بہت خطرناک ہوتی ہے،وہ سب کچھ نچوڑ لیتے ہیں پیٹ ان کے پھر بھی نہیں بھرتے،یہاں اقتدار،سیاست اور جمہوریت کا کھیل ہر وقت توانا رہتا ہے ۔کیا آج تک کسی حکمران نے یوم آزادی پر عوام کی بہتری کے لئے کوئی عملی کام کیا؟یہ وہ سب کام کر جاتے ہیں جو ان کے لئے ان کی نسلوں کے لئے بہتر ہو۔یہ اس اقتداری کھیل میں تمام اقدار او رروایات کو فراموش کر جاتے ہیں،مفادات یکساں ہونے یا ان پر زد پہنچنے کے ڈر سے یہ سبھی ۔ایک ۔ہوتے ہیں،حال ہی میں ایم کیو ایم نے قومی اور سندھ اسمبلی اور سینٹ سے استعفے دئیے ہیں ،سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے فوری طور پر ان کی تصدیق بھی کر دی،شام تک حسب توقع حالات میں تبدیلی کے آثار نظر آنے لگے۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان وجہہ الدین اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر سید ظفر علی شاہ کے مطابق پی ٹی آئی کا اسمبلیوں میں بیٹھنا غیر قانونی ہے۔ان کا کوئی ایک غیر قانونی کام ہو تو بندہ اپنا سر بھی پیٹے یہاں تو سوائے آئین اور قانون کے سب کچھ ہے۔اس اشرافیہ نے آج تک کسی بھی یوم آزادی پر۔یوم پاکستان پریا عیدین پر عوام کو کبھی ریلیف دیا؟صرف یہ ہوتا ہے کہ عید کے موقع پر قیدیوں کی سزا میں تخفیف کر دی جاتی ہے،آئین اور قانون کی طرح قومی پرچم بھی بے حد مقدس ہے۔اگر یہی پرچم یا اس پرچم کی جھنڈیاں کوڑے دانوں پر نظر آئیں تو ڈوب مرنا چاہئے،موجودہ حکومت نے مہم جوئی کو ہمیشہ اہمیت دی ،یہ نئی مہم جوئی بھی بہت بڑے گٹھ جوڑ کی نشاندہی کر رہی ہے جب پیپلز پارٹی کے پاؤں جلے تو ان دو پارٹیوں نے سر جوڑے اور بالآخر ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر ۔استعفوں۔کا کھیل کھیلنے کا فیصلہ ہوا لیکن ایک عام آدمی اس سازش کو سمجھ سکتا ہے تو کیا وطن کے وہ اعلیٰ ترین ۔دماغ۔جو اس وقت ناسوروں کا قلع قمع کرنے کا عزم لئے ہوئے ہیں انہیں کچھ خبر نہ ہوگی؟ ان کی اسی کارستانیوں سے ان عزائم کبھی پورے نہیں ہوں گے بلکہ یہ اپنی کھودی گہری کھائی میں خود گر جائیں گے ،ان کے نزدیک یوم آزادی واقعی بہت بڑی ۔چیز ۔ہے کیونکہ اس کی بدولت یہ دنیا جہان کی نعمتوں سے لفط اندوز ہو رہے ہیں اور عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔انہیں کون سمجھائے کہ ۔یوم آزادی کا اصل مفہوم کیا ہوتا ہے،آزادی صرف ان کے لئے نہیں تھی بلکہ اس دھرتی پر بسنے والے بلا تمیز ہر رنگ و نسل اور مذہب کے سب کے لئے تھی مگر انہوں نے تو اسے بھی گھر کی لونڈی سمجھ لیاہے

یہ بھی پڑھیں  بلوچستان میں مزید خون خرابہ برداشت نہیں کریں گے،نواز شریف

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker