تازہ ترینطارق حسین بٹکالم

۔،۔قومی امنگوں کا ترجمان ۔،۔

tariqمیرے لئے یہ انتہائی خوشی کا مقام ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے خود احتسابی کا عمل اپنے گھر سے شروع کر کے سارے نکتہ چینوں کی بولتی بند کر دی ہے ۔مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ میڈیا پر بیٹھے ہوئے بہت ستے اینکرز اور سیاستدان اس بات کا شکوہ کرتے نہیں تھکتے تھے کہ صرف سیاستدان ہی احتسابی تلوار سے کیوں گھائل کئے جاتے ہیں اور انھیں قیدو بند کی صعوبتوں سے کیوں گزارا جاتا ہے جبکہ بہت سے دوسرے ادارے بھی کرپشن کی لعنت میں اسی طرح ڈوبے ہوئے ہیں جس طرح سیاسی جماعتیں ڈوبی ہوئی ہیں لہذا انھیں بھی احتسابی عمل کی گرفت میں لایا جانا ضروری ہے تا کہ سب کو یقین ہو جائے کہ احتساب کا عمل یکطرفہ نہیں ہے ۔ان کے بقول احتساب کا عمل سب کیلئے یکساں ہونا چائیے اور مقتدر حلقوں یا طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو اس میں کوئی استثنی نہیں ہونا چائیے بلکہ انھیں بھی دوسروں کی طرح احتساب کے عمل سے گزرنا چائیے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے لیکن یہ بات کہتے وقت وہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستانی خزانے کے سیاہ و سفید کے مالک دوسرے ادارے نہیں ہوتے بلکہ صرف سیاستدان ہوتے ہیں اور انہی کے ہاتھوں میں ملک کی زمامِ ااقتدار ہوتی ہے۔ان کے حکم پر اربوں روپوں کے اخراجات کی منظوری دی جاتی ہے اور ان کے قلم سے ہی سارے احکامات صادر ہوتے ہیں۔ان کی ذ ات کے ساتھ کرپشن کی جو کہانیاں زبان زدہ خا ص و عام بنتی ہیں اس کا کہیں حساب کتاب بھی تو ہونا ہے اور ان کا کہیں احتساب بھی ہونا ہے ۔ پچھلے چند سالوں میں کرپشن نے جس طرح پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔حکمرانوں کے ساتھ ساتھ وزرا اور با اثر افراد نے جس طرح کرپشن کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوئے ہیں وہ سب کیلئے حیران کن ہے۔پوری قوم کرپشن کے اس ناسور سے نجات چاہتی ہے لیکن انھیں اس کے سدِ باب کی کوئی سجھائی نہیں دے رہی کیونکہ حکمران کرپشن کے خاتمے کی جانب قم اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔وہ اربوں روپوں کو کیسے چھوڑ دیں جو ان کے دائرہِ اختیار میں ہیں۔کروڑوں روپے الیکشن مہم پر صرف کرنے والے کرپشن نہ کریں گئے تو پھر کیا کریں گئے؟۔حکمرانوں نے نیب کا ادارہ تشکیل دے کر عوام کو جن بھول بھلیوں میں گم کیا ہوا ہے عوام اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ساراعمل عوام کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ نیب کے معنی صرف مخالفین کی پکڑ دھکڑ کرنا ہو تا ہے ۔اپوزیشن لیڈر اور وزیرِ اعظم جس نیب چیرمین کا تقرر کریں گئے اس میں ا تنی جرات کہاں ہو گی کہ وہ ان کا ہی احتساب کر سکے لہذا بڑی مچھلیاں نیب کی دسترس سے باہر ہی رہتی ہیں ۔حکمرانوں کیلئے سیاست ایک منافع بخش کارو بار ہے لہذا وہ اسے ذا تی دولت بڑھانے اور اپنے کارو بار کو وسعت دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔دولت بڑھانے کی اس دوڑ میں ساری جماعتوں کے قائدین شامل ہو جاتے ہیں کیونکہ دولت کسی کو بھی بری نہیں لگتی۔در اصل ۱۹۸۵ ؁ کے غیر جماعتی انتخا بات کے بعد جب سیاست میں پیسے کا عمل دخل شروع ہوا تو تب کرپشن کی روش عام ہوئی ہے حالانکہ اس سے قبل سیاست اس طرح کی کرپشن کی آلودگیوں سے پاک تھی اور سیاست کو ایک عبادت کا درجہ حاصل تھا۔سیاستدان قومی خزانے کو قوم کی امانت سمجھتے تھے اور اس میں خرد برد کے کسی بھی تصور سے نا آشنا تھے۔ لیکن ایک دفعہ جب لوٹ مار نے سیاست میں ا پنے آپ کو متعارف کروا لیا تو پھر یہ معاشرے کا چلن ٹھہرا اور اب کرپشن پاکستانی معاشرے کی نس نس میں بس چکی ہے ۔ موٹر وے پراجیکٹ ہو،نندی پور کا پراجیکٹ ہو یا پھر میٹر وبس کا پراجیکٹ ہو ہر جگہ کرپشن اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہے۔سندھ حکومت تو شائد ساری ہی حد ود پھلانگ چکی ہے کیونکہ وہاں پر رینجرز جس ادارے پر بھی ہاتھ ڈالتی ہے وہاں پر کرپشن کے سوا کچھ بھی برّ آمد نہیں ہوتا ۔عوام مبہوت ہیں کہ اتنی زیادہ کرپشن کے باوجود بھی ملکِ خداد کس طرح قائم و دائم ہے؟ ہمارے اعمال تو اسے نیست و بنابود کرنے والے ہیں لیکن یہ کوئی غا ئبانہ قوت ہے جو اسے قائم رکھے ہوئے ہے۔،۔
یہ بات سب کے علم میں ہے کہ پاک فوج پاکستان کا سب سے طاقتور ادارہ ہے اور اس نے ہمیشہ دوسروں کا ا حتساب کیا ہے جبکہ اس کے اپنے احتساب کی کبھی باری نہیں آئی لیکن موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوجی جنرلوں کا احتساب کر کے اس مفروضے کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے لہذا حاضر سروس جنرلوں کو سزا سنانے کا منظر پاکستانی قوم نے پہلی بار دیکھا ہے۔میرے بہت سے دوست شائد اس پر بغلیں بجا رہے ہو ں گئے کہ آخرِ کار فوجی جنرلوں کو بھی ایک دن خود ان کے اپنے چیف کے ہاتھوں احتسابی شکنجے میں کس دیا گیا ہے ۔ مجھے اس وقت اس اونٹ کی کہانی یاد آری ہے جس میں کسی اونٹ کو ایک جگہ بیٹھنا تھا لیکن جہا ں اسے بیٹھنا تھا، اس کی ایک جانب شیشے کی دوکان تھی جبکہ دوسری طرف سبزیوں او پھلوں والا بیٹھ اہوا تھا۔اونٹ کے بارے میں تو مشہور ہے کہ وہ کس کروٹ بیٹھے گا کسی کو کوئی علم نہیں ہوتا ۔اس کے بیٹھنے کا اپنا انداز ہے لہذا وہ بیٹھتے وقت کس کروٹ کو اختیار کریگا کوئی نہیں جانتا ۔ شیشے والا خوش تھا کہ سبزیوں والے کا ہی دھڑن تخت ہو گا کیونکہ اونٹ کو چارے سے خا ص رغبت ہوتی لہذا اس کا رخ بھی سبزیوں اور فروٹ والے کی جانب ہو گا لیکن اس وقت اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اونٹ نے سبزیوں والی سائڈ کی بجائے شیشے والی سائڈ پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔اونٹ کا بیٹھنا تھاکہ شیشے کے سارے برتن چکنا چور ہو گئے کیونکہ صحرائی جہاز کے بیٹھنے سے ایساہی ہونا تھا۔یہ سچ ہے کہ فوجی جنرلوں کا احتساب ہونا شروع ہو گیا ہے لیکن کیا کہانی یہی پر ختم ہو جائیگی ؟وہ سارے لوگ جو کسی نہ کسی انداز میں کرپشن میں ملوث ہیں فوجی جنر لوں کا احتساب ان کیلئے ننگی تلوار کی مانند ہے ۔انھیں جاگ جانا چائیے کہ اب احتساب سے کوئی فرد بھی بچ کر نکل نہیں سکے گا کیونکہ فوج نے اپنے جنرلوں کو بھی اس میں دھر لیا ہے۔اب اس ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے کیونکہ اگر کسی جنرل کا احتساب ہو سکتاہے تو پھر سیاستد انوں کا احتساب سے بچ جانا نا ممکنات میں سے ہے۔در اصل پاکستان جس مقام پر پنچا دیا گیاہے وہاں پر مزید کرپشن کی اب گنجائش باقی نہیں ہے کیونکہ مزید کرپشن اس کے وجود کو ہی ختم کر دیگی ۔ہر چیز کی حد ہوتی ہے اور جب کوئی چیز اس حد سے تجاوز کر جائے تو پھر اسے خیر باد کہنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہوتا ۔کرپشن اب ایک ایسے مقام تک پہنچ گئی ہے جہاں سے اس کا مزید جاری رہنا کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا ملک کے ساتھ کھلی دشمنی کے مترادف ہے ۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دھشت گردوں کے خلاف جس طرح با جرات موقف اختیار کیا ہے اور ان کے ٹھکانوں کو جس طرح نیست و نابود کیا ہے پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے ۔وہی ایک ایسی شخصیت ہیں جو اس قوم کو دھشت گردی کی طرح کرپشن سے بھی نجات دلوا سکتے ہیں۔سیاسی جماعتوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور وہ با اثر حلقوں، مخصوص خاندانوں اور اپنے ووٹرز کو ناراض کرنے کا رسک نہیں لے سکتیں لہذا کرپشن کے خلاف وہ کوئی موثر پالیسی بھی وضع نہیں کر سکتیں۔ یہ کام فوج جیسا غیر سیاسی ادار ہ ہی کر سکتا تھا اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا اس سمت میں ہر قدم قوم کی امنگوں کا ترجمان ہے۔وہ کرپشن جیسے قبیح فعل کو ہمیشہ کیلئے ختم دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کے ہوتے ہوئے ملک ترقی کی جانب نہیں بڑھ سکتا۔کرپشن اور ترقی ایک ساتھ نہیں چل سکتے لہذا اگر ہمیں پاکستان کو اقوامِ عالم میں باوقارمقام عطا کرناہے تو ہمیں کرپشن سے جان چھڑوانی ہوگی۔یہ پاکستانی قوم کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ایک ایسا آرمی چیف ملا ہے جو اس سمت میں قوم کی راہنمائی کرنے کی مکمل صلا حیت ر کھتا ہے ۔اب جو جماعت اور فرد آرمی چیف کی راہ میں آئیگا ملیا میٹ ہو جائیگا کیونکہ قوم اب مزید کرپشن کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔اگر آرمی چیف نے کرپٹ عناصر کے خلا ف اعلانِ جہاد کر دیا تو لوگ کرپٹ عناصر کو ان کے گھروں سے نکال کر نذرِ آتش کر دیں گئے لیکن فی الحال وہ مقام نہیں آیا لیکن اگر حکومت یا سیاسی جماعتوں کے کرپٹ عناصر نے اس عمل کو روکنے کی کوشش کی تو پھر انقلابِ فرانس کی طرح ان کا لہو پاکستان کی سڑکوں پر بہے گا ۔کیا وہ اس کیلئے تیار ہیں ؟۔

یہ بھی پڑھیں  کائنات کی حقیقت

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker