تازہ ترینکالممحمد افضل شاغف

قائد اعظم محمد علی جناح ۔۔۔۔۔۔ ایک عظیم لیڈر

afzalمثل مشہور ہے کہ ہر فرعون کے لیے ایک موسٰی ہوتا ہے۔ جب کوئی بھی کام حدِ اعتدال سے بڑھ جاتا ہے تو اس کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔اسی طرح انسان کا انسان کے اوپر ظلم ، استبداد اور استحصال جب اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو بالآخر مٹ کر رہ جاتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں مسلمان ہندوؤ ں کے ہاتھوں کس طرح سے کھلونا بنے ہوئے تھے۔ ہاتھوں میں انگریز کے ناروا سلوک کی ہتھکڑیاں تھیں تو پاوٗں میں ہندو کی مکارانہ چالوں کی بیڑیاں۔ مسلمانوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا اور کسی قسم کی مذہبی آزادی نہ تھی۔ ایک خدا اور ایک رسولﷺ کے ماننے والے صبرو استقلال کا دامن تھامے ہوئے سب کچھ سہ رہے تھے۔ ایسے حالات میں کراچی جیسے خوبصورت شہر میں ’’وزیرمینشن ‘‘ کی بالائی منزل پر ایک خوبصورت بچے کی ولادت ہوئی جس کا نام محمد علی جناح رکھا گیا۔ یہی محمد علی جناح مسلمان قوم کے لیے ایک مسیحا ثابت ہوا جس نے ہندووٗں کی مسلمان دشمنی کو بہت جلد بھانپ لیا اور اپنی ذہانت کے بل بوتے پر مسلمانوں کو نہ صرف ہندووٗں کے ظلم سے آزادی دلوائی بلکہ انگریز سے پاکستان جیسا پیارا ملک چھین کر یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان ایک غیور قوم ہیں جو اپنے حق کے لیے مشکل سے مشکل حالات کا مقابلہ تو کر سکتے ہیں لیکن کسی کی غلامی میں رہ کر سکون تلاش نہیں کرتے۔
قائد اعظم محمد علی جناح عزم و استقلال کا ایک پہاڑ تھے۔ آپ کے غیر معمولی اور صاحبِ کردار شخصیت ہونے کا اعتراف ان کے دشمنوں نے بھی کیا۔ آپ استقامت اور عظمت کے پیکر تھے۔آپ کے والدین پونجا بھائی جناح اور مٹھی بائی جناح کے سات بچے تھے جن کے نام: محمد علی جناح، احمد علی جناح ، بندے علی جناح، رحمت بائی، مریم بائی ، فاطمہ جناح اور شیریں بائی تھے۔ آپ کی ذات کے بارے میں جو معلومات ملتی ہیں ان کے مطابق آپ راجپوت تھے۔ آپ ابھی کم سِنی میں ہی تھے جب آپ کی والدہ کے اصرار پر آپ کی پہلی شادی1892میں ’’ایمی بائی ‘‘ کے ساتھ ہوئی جب قائد اعظم کی عمر 16سال اور ایمی بائی کی عمر 14سال تھی۔سادہ طرز پر نکاح ہوا اور رخصتی بعد میں انجام پائی۔اس شادی کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح انگلینڈ روانہ ہو گئے ۔ جب وہ واپس لوٹے تو ان کی غیر موجودگی میں ان کی زوجہ کا انتقال ہو چکا تھا۔آپ نے اس غم میں ایک لمبے عرصے تک شادی نہ کروائی۔ عوام الناس میں یہ خیال مضبوطی پکڑ چکا تھا کہ شاید اب قائد اعظم کبھی بھی شادی نہیں کروائیں گے۔ شریک حیات کی جدائی میں 42برس گزر جانے کے بعد1916میں ان کی ملاقات بمبئی کے ایک متمول پارسی خاندان کی لڑکی ’’رتن بائی پٹیٹ ‘‘ سے ہوئی جو ایک مشہور پارسی بینکر ’’سر دِنشا پٹیٹ‘‘ کی بیٹی تھیں۔ عمر میں ان سے 24سال چھوٹی تھیں لیکن وہ قائد اعظم کی ذہانت، کردار، شخصیت اور قابلیت سے اس قدر متاثر تھیں کہ انہوں نے اپنے خاندان کی مخالفت کے باوجود اسلام قبول کرکے قائد کی بیوی بننا پسند کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام ’’ مریم جناح‘‘ رکھ لیا۔ مریم نے ایک بچی ’’دینہ جناح ‘‘ کو جنم دیا۔ شروع میں قائد اعظم اس شادی کے بارے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے لیکن جب انہوں نے فیصلہ کر لیا تو اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے۔ شادی کے ٹھیک 11سال بعد مریم جناح اپنے پیٹ کے کینسر کے علاج کے لیے ایک دافع درد دوا کی زیادہ مقدار میں خوراک لینے کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔ رتن بائی جو کہ رتی بائی کے نام سے بھی مشہور تھیں،اپنے حسن و جمال کی وجہ سے’’ بمبئی کی بلبل‘‘ کہلواتی تھیں، اپنی 19ویں سالگرہ پر 20فروری1929کو انتقال کر گئیں۔رتی بائی کو قائد اعظم سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ اپنے خطوط میں ، جو کہ قائد اعظم کو لکھے گئے، والہانہ محبت کا اظہار کرتی تھیں۔
قائد اعظم کو اپنے ذاتی کردار میں عزت نفس بہت عزیز تھی۔آپ نے کبھی عزت نفس کو مجروح نہ ہونے دیا خواہ اس کے لیے کتنا ہی بڑا نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ اس سلسلے میں ان کی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ ’’لارڈ ولنگڈن‘‘ سے ( جو اس زمانے میں بمبئی کو گورنر تھا اور آگے چل کر ہندوستان کا گورنر بنا) قائد اعظم کے تعلقات بہت اچھے تھے اور دونوں ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے۔ ایک دفعہ اس کے گھر قائد اپنی بیگم کے ہمراہ مدعو تھے۔ لارڈ ولنگڈن کی بیگم نے، جو حاکم طبقے کا اہم فرد ہونے کے حوالے سے ایک طرح کے تہذیبی خبطِ عظمت کا شکار تھی، نے مسز جناح کے لباس پر اپنی نا پسندیدگی اور اعتراض کا اظہار کرنے کے لیے اے ڈی سی سے کہا کہ وہ مسز جناح کے لیے ایک شال لے آئیں، شاید انہیں سردی محسوس ہو۔ قائد اس بد تہذیبی پرً مبنی طنز کو فورا سمجھ گئے اور اپنی جگہ سے اٹھ کر بولے:
’’ جب مسز جناح کو سردی لگے گی تو وہ خود ہی شال مانگ لیں گی ۔‘‘
پھر وہ اپنی بیوی کو ڈائننگ ہال سے باہر لے گئے اور کبھی دوبارہ گورنمنٹ ہاؤس میں قدم نہ رکھا۔
اسی اصول پسندی اور عزت نفس کا مظاہرہ انہوں نے اس واقعے کے6دن بعد لارڈ ولنگڈن کی اس تقریر کے جواب میں کیا جس میں ہندوستانیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ فوج میں بھرتی ہو کر حکومت سے اپنی وفا داری کا ثبوت دیں۔ قائد نے کہا:
’’ اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ ہم حکومت کی مدد کریں اور بھرتی مہم میں جان ڈال دیں اور اس کے لیے راہ ہموار کریں تو آپ کا فرض ہے کہ ہندوستان کے تعلیم یافتہ لوگوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا کریں کہ وہ سلطنت برطانیہ کے مکمل شہری ہیں اور بادشاہ کی دوسری رعایا کے برابر درجہ رکھتے ہیں۔‘‘
قائد اعظم جیسے عظیم لیڈر نے کبھی بھی ہندوستان میں رہنے والوں کو ایک قوم تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ آپ کا فرمان تھا کہ ’’ ہندوستان ایک ایسی سرزمین ہے جس میں مختلف قومیں آباد ہیں جن میں سے ہندو اورمسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ قائد اعظم کا یہی خیال اور تصور آگے چل کر دو قومی نظریے کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ گاندھی جیسے آستین کے سانپ بھی قائد اعظم کی سیاسی بصیرت میں خلل پیدا نہ کر سکے اور اپنی ہزار ہا کاوشوں اور سازشوں کے باوجود قائد اعظم محمد علی جناح کے پائے استقلال میں لرزش پیدا نہ کرسکے بلکہ انہیں اس بات کا اعتراف کرنا ہی پڑا کہ قائد اعظم محمد علی جناح واقعی ایک عظیم لیڈر تھے۔ یہ آپ کی ذہانت اور سیاسی بصیرت ہی تھی کہ آپ نے پنڈت جواہر لعل نہرو کی 1928میں پیش کردہ بدنامِ زمانہ نہرو رپورٹ کے مدِ مقابل 1929میں اپنے شہرہ آفاق 14نکات پیش کرکے مسلمانوں کو نہرو رپورٹ کے شر سے نجات دلائی۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے دن رات کی محنت سے ہمارا پیارا وطن پاکستان ہمارے حوالے کیا اور اسی لگا تار محنت کے ردعمل کے طور پرآپ کی صحت آپ کا ساتھ نہ دے سکی اور آ پ اپنی قوم کو آہوں اور سسکیوں میں مبتلا چھوڑ کر راہیٗ ملکِ عدم ہوگئے۔ نزاع کے عالم میں بھی قائد اعظم کی زبان پر پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے ’’ اللہ پاکستان رہے‘‘ کے الفاظ تھے۔ اپنی وفات سے چند لمحے قبل آپ نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنی بہن فاطمہ جناح سے مخاطب ہو کر کہا:
فاطی! گڈ بائے۔ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ.
؂ سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایا ں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

یہ بھی پڑھیں  تحریک طالبان نے حکومت سے مذاکرات کیلئے چار مطالبات کردیئے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker