تازہ ترینکالممحمداعظم عظیم اعظم

کوئٹہ کے تین المناک سانحات

Azam Azim Azamآج بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں، راکٹوں اور خودکش بم حملوں کے نتیجے میں قائداعظم ریزیڈنسی ، ویمن یونیورسٹی اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں پیش آنے والے واقعات نے ساری پاکستانی قوم کو غمزدہ کردیاہے تو وہیں میری قوم کے اِس جذبے کو بھی ضروربیدارکردیاہے کہ آج اگر اِسے اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کی بقا و سا لیمت چاہئے تو اِسے اپنے تمام فروعی ، ذاتی و سیاسی اور رنگ ومذہب کے اختلافات کو بھولاکر ہر صورت میں یک دل اوریک جان ہوناپڑے گا اوراپنی آستینوں میں چھپے اور اپنے اردگرد موجود اُن دہشت گردوں اور اغیار کے ڈالر خریدقاتلوں اور سَرکشوں کا ضرورپتالگاناہوگاجو اپنی انسانیت سُوزاور گھناؤنی کارروائیاں کرکے میرے جنت نظیر وطن کو تباہ اور اِس کے باسیوں کو مارکر اپنے آقاؤں کی خوشنودیاں حاصل کرکے اِن کے عزائم کی تکمیل کررہے ہیں اور جواَب ہمیں بھی مجبور کررہے ہیں کہ اِنہیں باتوں کے بجائے لاتوں سے سمجھایاجائے جن کے بارے میں شاعر نے کیا خُوب کہاہے کہ:-
تعریف غاصبَانِ زمانہ کی ہے یہی اِنصاف کو، وفا کو، وہ پہنچانتے نہیں
اِن سَرکشوں کا دَہر میں زنداں علاج ہے لاتوں کے بُھوت، بات کبھی مُانتے نہیں
جبکہ یہاں یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ موجودہ حالات میں میرے مُلک پر عذاب بن کر پھیلے ہوئے سَرکشوں نے اپنی ناپاک کارروائی سے بلوچستان کے علاقے زیارت میں میرے بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناح کی رہائش گاہ قائداعظم ریذیڈنسی کو بھی نہیں چھوڑا ،لکڑی کی بنی ہوئی اِس خُوبصورت عمارت جس میں قائد اعظم کے نوادرات موجود تھے اِس بنا پر یہ عمارت ہماری قومی ورثے کا درجہ رکھتی تھی اِس قومی عمارت پر مُلک دشمن دہشت گردوں نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات ایک بج کر سترہ منٹ پر پانچ بموں سے حملے کئے ، حملے سے کانسٹیبل محمدطاہر شہید اورعمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی، یہ ہماری وہی تاریخی عمارت تھی جس میں بانئی پاکستان حضرت قائد اعظم محمدعلی جناح نے اپنی زندگی کے انتہائی اہم اور آخری ایام گزرے تھے،لکڑی سے بنی اِس خوبصورت عمارت کے کئی کمروں میں قائد اعظم محمد علی جناح کے آخری ایاّم میں زیراستعمال رہنے والی اشیاء کے علاوہ ایسی کئی نادر تصاویرآویزاں تھیں جو بانئی پاکستان محمد علی جناح نے اپنی بہن ، بلوچستان کے قبائلی عمائدین اور اِس وقت کی کئی سیاسی و سماجی سرکردہ شخصیات کے ساتھ کھنچوائی تھیں ،ہمارے اس تاریخی ورثے کو قائد اعظم اور اِن کے پاکستان سے شاید نفرت کرنے والوں نے راکٹ حملوں سے اِس عمارت اور اِس میں موجود قومی ورثے کو جلا کر خاکستر کر دیا،ابھی میری ساری پاکستانی قوم بلارنگ ونسل، سرحد ومذہب کے اپنی ملی یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے اِس عمارت کے خاکستر ہوجانے اور اپنے قومی ورثے کو کھوجانے کے غم میں سراپااحتجاج تھی اور اپنے قائد کی اِس یاد گار اور قومی ورثیکی تباہی پر حکمرانوں سے یہ مطالبہ کررہی ہے کہ اِس میں ملوث عناصر کو جلد گرفتارکرکے نشانِ عبرت بنادیاجائے کہ یہ اطلاعات آئیں کہ قائد اعظم ریزیڈنسی پر حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرلی ہے، جبکہ یہ خبر بھی سامنے آئی کہ یہ1892ء میں تعمیرہونے والی اِس خوبصورت اور پرقار عمارت کی تباہی کے بعد حملہ آوروں نے اِس عمارت سے پاکستان کا جھنڈااُتارااور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا جھنڈالگادیاجبکہ حکومتی سطح پر اِس واقع سے متعلق تحقیقات کی جارہی ہے اور اُمید کی جارہی کہ اِس واقع میں ملوث عناصر تک پہنچ کر آئین پاکستان کے حد سخت ترین سزا تجویز کی جائے گی۔
ابھی قوم زیارت میں قائد اعظم کی ریزیڈنسی کے تباہی کے سانحہ سے نکلنے بھی نہ پائی تھی کہ اِسی روز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دہشت گردوں نے شہر میں دودھماکے کرکے شہر کو لرزادیااور کئی معصوم انسانوں کی زندگیاں چھین لیں،جبکہ ایک روز بعد کوئٹہ انتظامیہ اور پولیس کی تحقیقات کے مطابق پہلادھماکہ بروری روڈ پر واقع سردار بہادرخان ویمن یونیورسٹی کی طالبات کی بس میں طالبہ کے لباس میں ایک عائشہ نامی خاتون نے خود کو اُڑاکر کیا اِس دھماکے کو کوئٹہ انتظامیہ اور پولیس ذرائع نے خودکش دھماکہ قراردیا جس کے نتیجے 15طالبات ہلاک اور کئی زخمی ہوگئیں ابھی بولان میڈیکل کمپلیکس میں بس حادثے میں زخمی ہوجانے والی طالبات کو طبی امداد دی جارہی تھی کہ اِسی دوران شعبہ حادثات میں ایک اور دھماکہ ہوگیاجِسے کوئٹہ انتظامیہ اور پولیس زرائع ریموٹ کنٹرول کے ذریعے خودکش ببم دھماکہ قرار دے رہے ہیں بولان میڈیکل اسپتال میں ہونے والے دوسرے دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں ابتدائی رپورت کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، ایک نرس، 4اہلکار، 2 راہ گیر اورڈاکٹرسمیت 32افرادشہید ہوئے اور دہشت گردوں نے بولان میڈیکل کالج کی ایمرجنسی میں ڈاکٹروں اور دیگر لوگوں کو جس طرح یرغمال بناکر گولیاں برسائیں اور دہشت گردی کی اِس سے یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں کہ بلوچستان میں دہشت گردوں نے بلوچستان کی تباہی اور اِنسانوں کو موت کی وادی میں دھکیلنے کا ٹھیکہ دے لیاہے، اگرچہ دہشت گردوں کے اِس وحشیانہ حملے پر فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں چار حملہ آور اغیار کے پٹھواور ڈالر خریدقائل واصلِ جہنم ہوئے اور ایک مُلک دشمن شیطان زندہ گرفتارکرلیاگیاجبکہ بس بم دھماکے اور اسپتال پر حملے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسندتنظیم لشکرجھنگوی نے دیدہ دلیر اور اپنی بدمعاشی سے ایسے قبول کرلی ہے جیسے یہ حکومت کو چیلنچ کررہی ہے کہ ہمیں ہماری دہشت گردی کے عزائم سے یہ روک سکتی ہے تو روک لے،اِس پر راقم الحرف کا خیال یہ ہے کہ حکومت کو اپنی رٹ ہر حالت میں قائم کرنے کے لئے ہر وہ اقدام ضروراُٹھاناچاہئے جس سے دہشت گردوں کا قلع قمع ہوسکے گا۔

یہ بھی پڑھیں  مسلم لیگ ن کے رہنماظفراقبال جھگڑاہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد منتقل

اَب خواہ اِس میں بی ایل اے اور کالعدم شدت پسندتنظیم لشکرجھنگوی سمیت کسی اور مُلک دشمن گروہ کے ہی دہشت گرد کیوں نہ شامل ہوں اِن سب کا سرتن سے ضرور علیحدہ کرناہوگا،اور ہمیں اپنے وطن کے مرجھائے ہوئے پھولوں اور خشک باغات میں دوبارہ سے تازگی لانی ہوگی ہمارایہ مُلک جس کے ماضی اور حال کے بارے میں شاعر نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اِس طرح سے کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  روپئے کی گرتی ہوئی ساکھ !

وہ گُل کدھ پاک، مہکتے تھے جہاں پھول سوُکھِی ہُوئی شاخوں کے نشاں دیکھ رہا ہُوں
ہر شاخ و شجر پر، جَہاں جنتّ کا گماں تھا مُرجھائے ہُوئے پُھول وہاں دیکھ رہاہُوں

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:جماعت اسلامی کے رہنما سردار نوراحمد ڈوگر کی والدہ قضائے الہی سے وفات پاگئیں

اللہ تعالیٰ نے میرے مُلک پاکستان کو کیا کچھ نہیں دیاہے ، ہم اپنے اللہ کی اِس رحمت پر اِس کا جتناشکراداکریں وہ بھی کم ہے،اَب یہ اور بات ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں اور نااہلی کی وجہ سے اپنے صوبوں سندھ، بلوچستان،پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی زمینوں میں چھپے قدرتی وسائل کا استعمال نہیں کرپارہے ہیں ، اور طرح طرح کے مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں ، مگر جن دُشمنوں کی میرے مُلک کی زمینوں میں چھپی معدنیات اور قدرتی وسائل پر گندی نظریں جمی ہوئیں ہیں وہ اپنی طرح طرح کی سازشوں سے اِن پر قبضہ کرنے کی چالیں چل رہے ہیں،اور بلوچستان کو ہم سے علیحدہ کرانے کے لئے ہمارے ہی لوگوں کو اِن میں احساس محرومی بھر کراِس سے اپنے لئے ہر وہ کام کرارہے ہیں جس میرے وطن کے اِنسانوں کا خون پانی کی طرح بہہ رہاہے اور جس سے اِن مُلک دُشمن عناصر کی سازشوں کو تقویت مل رہی ہے اِس صورت حال میں راقم الحرف کا قوی یقین یہ ہے کہ آج میرے مُلک میں کسی بھی تنظیم کے نام پر دہشت گردی کی جتنی بھی کارروائیاں ہورہی ہیں اِن سب کے پیچھے ہمارے دوست نماپڑوسی اور سات سمندر پار کے وہ ممالک شامل ہیں جو ہماری ترقی اور خوشحالی سے خائف ہیں اور جو میرے مُلک کی سا لمیت اور بقا کبھی نہیں چاہتے ہیں اورجو ایک دوسرے کے کاندھے پر چڑھ کر خطے میں اپنی چوہدراہٹ قائم کرکے ہمیں اپنے اشاروں پر ناچنے والا لٹوبناناچاہتے ہیں اور اِسی طرح ہماری ایٹمی صلاحیتوں کو ہوامیں اُڑاکر ہمیں اپناغلام بناناچاہتے ہیں جبکہ ایساکبھی نہیں ہوسکے گا جیسایہ چاہتے ہیں ، ہماری خاموشی کو زرخرید قاتل مجبوری نہ سمجھیں،مُلک کا ایک ایک بچہ اِن اغیار کے اِن زرخریددہشت گردوں کو واصلِ جہنم کے لئے حکومت کا ساتھ دے گا۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker