ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

قوت عشق سے ہر پست کو با لا کر دے

محمد ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا                        پدر ، مادر ، برادر ،جا ں اولاد سے پیارا
اللہ رب العزت نے دنیا میں جب محبت کو پیدا فرمایا تو ہر شے کو اس کے تا بع کر دیا اور دنیا میں رب کی ربو بیت اور وحدا نیت کو پہنچا ننے کے لیے اپنی اصلیت اور اہمیت کو پنپنے کے لیے اور حقیقت سے آشنائی حاصل کر نے کے لیے ایک ہی را ستہ ہے وہ ہے محبت ، کچھ تو محبت مجازی معنو ں میں رکھتے ہیں ان کا بھی ایک دائرہ کار ہے لیکن جو حقیقی معنوی محبت کا راستہ اپنا لیتے ہیں تو وہ دنیا کی حقیقت کو پا لیتے ہیں انہیں صحرا بھی زرے برابر دکھنے لگتا ہے اور انہیں سمندر بھی قطرے کے برابر دکھنے لگتا ہے ۔ وہ سوتے ہیں تو ساری کا ئنات سمٹ جا تی ہے وہ اٹھتے ہیں تو ساری کا ئنات کا نظام رواں دواں ہو نا شروع ہو جا تا ہے لیکن یہ محبت چا ہنے سے یا اپنانے سے یا مانگنے سے یا خو اہشات اور احساسات و جذبات کے گہر وں میں غو طہ زن ہو نے سے نہیں ملتی ہے یہ تو عطا ہے یہ تو نعمت خدا وندی ہے اور یہ حسن کا ئنات اور وجہ کا ئنات ہے یہ وہ عطیہ خدا وندی ہے جو ہر ایک کو حاصل نہیں ہو تا نصیبو ں والے ہیں جو اس کی رمز کو بھی پا لیتے ہیں یہ وہ پھول ہے جو ہر ایک با غ میں نہیں کھلتا ۔ جب انسان کو کسی سے محبت ہو تی ہے تو اس کی کا ئنا ت بدل جا تی ہے اس کے ماہ و سال بد ل جا تے ہیں اس کا چلنا پھرنا ، اسکا انداز تکلم اسکی شائستگی اسکی نزاکت اسکی چال ڈھال اسکا اوڑھنا بچھو نا ،اسکا ظا ہر و باطن سب کچھ تو بدل جا تا ہے غرض یہ کہ اسکی کا ئنات بدل جا تی ہے ۔محبت میں گرویدہ انسان عقل ، فہم و فراست اور دلا ئل سے بے خبر حقیقت کی ان بلند یو ں پر پہنچ جا تا ہے کہ جہا ں سے محبوب کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے اور اسے ہر موسم سہا نا لگتا ہے اسکا ہر غم خو شی میں تبدیل ہو جا تا ہے اسے اندھیری رات میں بھی چراغا ں دکھا ئی دینے لگتا ہے اسے صحراا و ریگستا ن میں بھی سبز ہ زار دکھا ئی دینے لگتا ہے اسے ہر سمت محبوب کی شخصیت اور صورت دکھائی دینے لگتی ہے اور اسکی کل کائنات محبوب کی ذات میں گم ہو کر رہ جا تی ہے ۔ جب انسان اپنی خو شیو ں اپنے مفادات اور اپنی خواہشات کو کسی ایک ذات کے لیے قربان کردے تو وہ محبت کی پہلی سیڑھی پر جا پہنچتا ہے جنا ب حضرت واصف علی واصف فرما تے ہیں عقید وں اور نظریا ت سے محبت نہیں ہو سکتی محبت انسان سے ہو تی ہے اگر پیغمبر سے محبت نہ ہو تو خدا سے محبت یا اسلام سے محبت نہیں ہو سکتی ۔ ڈ اکٹر علا مہ محمد اقبال ؒ فرما تے ہیں۔
وہ دا نائے سبل ختم رسل مو لا ئے کل جس نے غبا ر راہ کو بخشا فر وغ وادی سینا
نگا ہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآں وہی فرقا ں وہی یسیں ٰ وہی طحہٰ
آپﷺ کو اللہ رب العزت نے اس کا ئنات کی جان بنا کر بھیجا ہے ان سے محبت و الفت اور عقید ت و وابستگی ہما رے ایمان کا حصہ ہے ۔ آج کا انسان جد ت پسندی میں کھو کر نا جا نے کیو ں اپنے اصل اور حقیقت کو بھلا بیٹھا ہے سیٹلا ئیٹ کے نظام ، شا رٹ کٹ اور ٹیکنا لو جی نے اس قدر تبدیلی اس کی روح و جسم اور قلوب و اذہا ن میں پیدا کردی ہے کہ اسے اپنی اصل ذمہ داری اور فرض یا د ہی نہیں رہا ہے ۔ ہما را اذلی دشمن امریکہ اسی گھا ت میں بیٹھا رہتا ہے کہ کس طرح سے مسلمانو ں کے جذبا ت کو ٹھیس پہنچانی ہے کیسے ان کے وقار اور امتیاز کو گرانا ہے کیسے انہیں عروج اور بلندی سے پستی و تنزلی کی طرف گرانا ہے اور المختصر کہ امریکہ درحقیقت اہل ایمان کے وجود کو ہی ختم کرنے کے لیے شب و روز محو جستجوہے ۔ انسانیت کو معراج اور حقیقی بلندی اور اشرف المخلوقات کا لقب ہی آپ ﷺ کے صدقے ملا ہے اور آج اس مقدس اور رحمت اللعالمین ذات پر کبھی خا کے بنا کر اور کبھی قرآن مقدس کو جلا کر تو ہین اور شر انگیزی پھیلا نے والے آزاد اور شتر بے مہا ر دکھا ئی دیتے ہیں انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے وہ چا ہے تو کسی بھی مذہب کی تذلیل کریں مسلمانو ں کو اپنے ایمان اور ایقان کا جا ئزہ لینا ہو گا آج امریکہ کے اندر پھر مسلمانوں کے خلا ف چھپی نفرت کا اظہا ر کھلے عام کیا گیا ہے آج پھر مسلمانو ں کی غیرت اور عفت کو للکا را گیا ہے یہو دی لا بی کے اشتراک اور مدد و معاونت سے بننے والی تو ہین رسالت پر مبنی شر انگیز فلم کیا پیغام دے رہی ہے ۔ امریکی کفا ر و مشرکین کے دل میں جو بغض اور نفاق مسلمانو ں کے خلا ف کو ٹ کو ٹ کر بھرا پڑا ہے وہ کھل کر سامنے آگیا ہے اگر اب بھی مسلم حکمرانو ں نے ہو ش سے کام نہ لیا تو ان کی غیرت و حمیت کا جنازہ نکل جا ئے گا اب وقت آگیا ہے جس ہستی کی خا طر ہمیں یہ نظام کا ئنات نصیب ہوا ہے جس کے صدقے ہمیں زندگی ملی ہے جس کے قدمو ں کی خاک سے دنیا میں جہالت اور لا شعور ی کے گھپ اندھیرے روشن ہو ئے ہیں جس کی آمد پر دنیا میں رحمتو ں کی بر سات ہو ئی ہے جس کے وجود سے دنیا میں حق و با طل کی پہچان ملی ہے جس کے آنے سے مسلمانو ں کو عروج اور وقار ملا ہے جس کی ذات نے جھو ٹ اور صدا قت کی تفریق کر دی ہے ۔ جس کے دم سے عورت کے قدمو ں میں جنت عطا کردی گئی ہے ۔ جس کے وجود سے بے سہا روں کو سہارا ملا ہے جس کی آمد نے کفر و شرق کے برج ہلا کر رکھ دیے ہیں جس کے کرم کی تجلی سے پو ری کا ئنات کو مسجد بنا دیا گیا ہے جس ہستی کی بدولت مخلو ق کو فرشتوں پر فوقیت عطا کی گئی جس کے آنے سے امر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا نظام قائم ہوا ہے جس نے دنیا میں عدل و انصاف ، صبر و استقا مت ، بردباری ، برداشت ، اتحاد و اتفاق اور مو اخا ت کا درس دیا ہے ۔ اس ذات پر تنقید کر نے والے اس ذات پر انگلی اٹھا نے والو ں اور آقا ﷺ کے دشمنو ں کو سبق سیکھانا ہو گا یہ غیر مسلم امریکی با شندے کبھی بھی امن اور آشتی کے علمبردار نہیں ہو سکتے ہیں دنیا میں شر اور فساد پھیلا نے والے گما شقوں کو اب پہچان لینا چا ہیے ان کی گو د میں بیٹھ کر اپنوں کو برا بھلا کہنے کی بجا ئے ان سے اتنا ہی تعلق رکھا جا ئے جتنا ہما را مذہب اور ہما را وطن اجا زت دیتا ہے آج ہر غیرت مند مسلمان کا سینہ زخمو ں سے چو ر چو ر ہے اور کلیجہ منہ کو آیا ہوا ہے اس ذات کو نشانہ بنا یا گیا ہے جو ہما ری محبت کا محور و منبع ہیں پہلے پیغمبر اسلام حضرت یو سف ؑ کی ذات پر فلم بنائی گئی پھر حضرت محمد ﷺ کے صحا بہؓ پر فلم تیا ر کی گئی اور اس وقت بھی مسلمانو ں نے اتنی تو جہ نہیں دی کئی دفعہ انٹرنیٹ اور مختلف میڈیا کے زریعہ سے تو ہین رسالت کا ارتکا ب کیا جا تا رہا لیکن اس وقت بھی اتنی زیا دہ تو جہ اور گر م جو شی سے جواب یا رد عمل کا اظہا ر نہ کیا گیا نو بت یہا ں تک آن پہنچی کے آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخانہ فلم تیا ر کردی گئی جس میں صحا بہ کرامؓ اور امہا ت المومنینؓ کی گستاخیا ں کی گئی ہیں مردود و ملعون فلم ساز اسرائیلی نثر اد امریکی یہو دی ہے اسکی عمر با ون سال ہے اور اسکا نام سام با سل بتایا جا تا ہے۔ اب ہر مسلم امہ کے فر د کا یہ فریضہ اسکے ایمان اور محبت رسول ﷺ کا تقا ضا ہے کہ امریکی دشمنو ں کو منہ توڑ جواب دیں اور انکے ساتھ سفارتی ، معاشی اور دوستا نہ تعلقا ت کا مکمل طور پر با ئیکا ٹ کر دیا جا ئے اور اپنے دل میں اس با ت کو ہمیشہ کے لیے ڈال لیں کے یہ امریکی کتے ہما رے یا ر نہیں ہو سکتے ہیں نہ ہی کوئی ہما رے ہمدرد اور ساتھی ہیں ان کے دلو ں میں مسلمانو ں کے خلا ف سخت نفرت اور عدا وت بھری ہے انکے لیے خد ما ت پیش کر نے والا بے ایمان اور غدار وطن ہے اور جو شخص مسلمان ہو کر انکی طرف دیکھتا اور انکے لیے خفیہ طور پر خدما ت سرانجام دیتا اور انکے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے اسے ایک بار یہ ضرور سو چنا چا ہیے کہ جو ہما رے ایمان ، ہما ری کتاب اور ہما رے پیغمبر ؑ کی عزت و تو قیر اور حثیت کا خیال نہیں رکھتے وہ ہما رے کیسے سگے ہو سکتے ہیں اور وہ ہمیں کیو نکر برداشت کر سکتے ہیں یہ بے ایمان لو گ شروع سے لیکر اب تک ہما رے مخالف ہیں اور ہما رے دشمن ہی رہیں گے ان سے خیر کی توقع ہما ری خام خیالی ہے ۔ یہ منا فق اور بد کردار لو گ ہیں جو مو قع ملنے پر کسی بھی وقت ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ہما رے سخت دشمن ہیں اپنے نبی ﷺ کی ناموس اور ان سے محبت و عقیدت کی خا طر یہ عزم کریں کے امریکی ملعو نو ں کی غلا می ہر گز نہ کریں گے ان کے ساتھ اپنے تعلقا ت اپنے ملکی مفادت اور اپنے دین کی تعلیمات کے مطا بق رکھے جائیں اور ان کی پیروی اور نقل سے مکمل اجتنا ب کیا جا ئے اور حکمران طبقے کو بھی غیرت ایمانی کا مظا ہرہ کرت
ے ہو ئے اپنے تحفظ اور حفاظت ایمان کی خا طر ان لو گو ں کی زبان بو لنے اور انکی حما یت کر نے کی بجا ئے ملک کے لیے قدم بڑھا نے چاہیں اور ملکی سا لمیت اور حفاظت و سلامتی کی خاطر ہمہ وقت اپنی ذمہ داریا ں پو ری کرنی چا ہیے کیو نکہ اس ملک نے ہمیں شناخت دی ہے اس ملک نے ہمیں آزادی عطا کی ہے اس کے وجود سے ہما ری سانسیں وا بستہ ہیں ۔اسلا می جمہوریہ پاکستان کی قیادت کو چا ہیے کہ مسلمان ہو نے کا ثبوت د یتے ہو ئے امریکہ سے سمجھو تہ اس گستا خی پر سام با سل کا سر لیکر کریں کیو نکہ گستا خ رسول کی ایک ہی سزا سر تن سے جد ا۔
کمزور ہیں ہم لو گ مگر اتنا بتا دیں میراث ہے دار پہ انکا ر نہ کرنا
آزادی رائے کا احساس ہے لیکن تم ذات محمد پہ کبھی وار نہ کرنا

یہ بھی پڑھیں  آف شور کمپنی کیس: عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker