اعجاز راناتازہ ترینکالم

’’ قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستان۔۔۔ مگر ‘‘

rana aijazگذشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں چنیوٹ میں دریافت خام لوہے کے ذخائر کے منصوبے پر پیش رفت کاتفصیلی جائزہ لیاگیا۔ اس اجلاس میں موجود چین، جرمنی، کینیڈا اورآئرلینڈ کے سائنسدانوں نے سرزمین چنیوٹ میں موجود خام لوہے کی مقدار اورکوالٹی کے بارے میں اپنی رائے دی۔ اجلاس کے دوران چینی،جرمن،کینیڈین اورآئرش سائنسدانوں نے وزیراعلیٰ کو منصوبے پر اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں ابتدائی رپورٹ پیش کی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق چنیوٹ میں تقریباً 15 کروڑ ٹن عمدہ کوالٹی کے خام لوہے کے ذخائر کی پیمائش کی تصدیق ہوگئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے خام لوہے کے ذخائر کے تخمینے کی پیمائش و تصدیق کی ابتدائی رپورٹ پر اطمینان اورخوشی کااظہار کیا۔وزیراعلیٰ کو بتایاگیا کہ خام لوہے کے ذخائرکی مقدار کی ابتدائی پیمائش اور تصدیق پنجاب میں ایک ملین ٹن سالانہ پیداوارکی سٹیل مل کو 30برس تک چلانے کیلئے کافی ہے ۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایسی فزیبلٹی مرتب کی جائے جس سے ملک کی سٹیل کی صنعت کو فروغ ملے ۔
یہ خالق کائنات ، مالک عرض وسماں اللہ عزو جل کا خاص احسان ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے سرزمین پاکستان کو بے شمار قدرتی و سائل و معدنیات سے مالامال کیا ہے ۔ سر زمین پاکستان کی دبیز تہوں میں قیمتی دھاتیں اور غیر دھاتی معدنیات کثیر مقدار میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس لا محدود خزانے کو نکالنے کیلئے بنیادی ادارے، ٹیکنالوجی، ماہر انجینئر اور تربیت یافتہ افرادی قوت ملک کے اندر بھی موجود ہے مگر حکمرانوں میں ان خزانوں کو نکال کر استعمال کرنے کی قوت ارادی نہیں ہے۔ یہاں برسر اقتدار آنے والوں کو ملک و قوم کی حقیقی خدمت کا جذبہ نہیں بلکہ صرف ذاتی مفادات عزیز رہے ہیں۔ حالانکہ صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں جولیان اور دالبندین ضلع چاغی اور پنجاب میں کالا باغ میں کروڑوں ٹن خام لوہے کے ذخائر ہیں۔ بلوچستان میں سیندک، ریکوڈک ،زوق اور بگٹی مری کے علاقہ میں سونا چاندی ، تانبہ کے وسیع ذخائر ہیں اس کے علاوہ بلوچستان میں کئی مقامات پر کرومیٹ، بارینیٹ کوارٹرائیٹ کے ذخائر ہیں۔ صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں ۔ صوبہ سندھ کے تھر میں کوئلہ کے ذخائر ہیں اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے اس خشک صحراء میں قیمتی و نایاب چیزیں چھپا رکھی ہیں۔ جبکہ چین کی کمپنی میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنہ کے مطابق چنیوٹ میں اب تک کی تحقیقات کے مطابق بہترین سونا ، چاندی، تامبے اور لوہے سمیت قیمتی دھاتوں کے 610 ملین ٹن سے زائد کے ذخائر دریافت ہوچکے ہیں۔ میٹا جیالوجیکل سروے کے مطابق یہاں پائے جانے والا خام لوہا برازیل اور روس میں ملنے والے لوہے کے ہم پلہ ہے جسے عالمی سطح پر بہترین لوہا قرار دیا جاتا ہے۔
حکومت پاکستان دھات اور معدنیات کے ماہر انجینئرز، ٹیکنیشننزز اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے ذریعے کان کنی کروا کر، سونا چاندی تانبہ اور لوہے وغیرہ کے ذخائر حاصل کرکے ان کو پراسیس کرکے ملکی ضروریات کے علاوہ برآمد بھی کرسکتی ہے۔ یاد رہے کہ 1974ء میں حکومت کینیڈا نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کراچی نیو کلیئر پاور پلانٹKANUPP کیلئے یورینیم ایندھن کی فراہمی روک دی تھی۔ تب پاکستان کے ماہر انجینئر ز نے اپنے تربیت یافتہ ٹیکنیشن اور افرادی قوت کی مدد سے کان کنی کرکے خام یورینیم کو پراسس کرکے یورینیم ایندھن تیار کیا تھا اور ملک کے موجودہ تمام ایٹمی بجلی گھر اندرون ملک تیار کردہ یورینیم ایندھن سے چلائے تھے ۔ یہی ماہر انجینئر ملک کے اندر ہر قسم کی خام دھات کو پراسس کرکے قابل استعمال کرسکتے ہیں لہٰذا پاکستان میں موجود خام سونا ، چاندی، تانبہ، لوہا اور دیگر دھاتی معدنیات ان ماہر افرادی قوت کے ذریعے نکالی جائیں اور ان کو پراسس کرکے مصنوعات بنائی جائیں اور انکو فروخت کرکے ملک کی معیشت کومستحکم کیاجائے۔
مگر ریاست پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں برسر اقتدار آنے والے حاکموں نے ملکی دولت کو بے دردی سے لوٹا ، جس کے باعث ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود انہتر سال میں بھی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکا۔اگر عالمی مالیاتی اداروں سے سخت شرائط پر قرض لینے کی بجائے ملک میں دستیاب وسائل سے استفادہ کیا جاتا تو آج یقیناًملک خوشحال ہوتا۔ بد قسمتی سے پاکستان میں 20 فیصد لوگوں کے پاس80 فیصد وسائل ہیں جبکہ 80 فیصد لوگ معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔80 فیصد وسائل رکھنے والے جن میں اکثریت سیاسی قائدین ، جاگیرداروں کی ہے کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اوربیرون ملکوں میں موجوداپنا سرمایہ واپس لاکر ملک کو خود کفیل ہونے میں کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کبھی بھی آئی ایم ایف کے قرضوں اور ملکی اداروں کی نجکاری کے بل بوتے پر پھل پھول نہیں سکتے۔ اگر حکومت پاکستان پاکستان کے عوام اور اداروں سے مخلص ہے تو حکومت کو چاہیے کہ آئی ایم ایف سے مشکل ترین شرائط پر مذید قرض لینے سے اجتناب کرتے ہوئے ملک کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرے کیونکہ غربت اور مفلسی میں پسے عوام پاکستان مذید مہنگائی کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
آج ملک میں پڑھے لکھے اور ہنر مند نوجوانوں کو بیروزگاری کا سامنا ہے۔ قدرتی وسائل سے استفادہ کرکے ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ اور ملکی معیشت کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ چنیوٹ میں لوہے کے ذخائر کافی عرصہ سے دریافت ہو چکے ہیں لیکن گزشتہ حکومتیں بہترین پلاننگ کر کے ان سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہیں۔ ملک میں موجود قدرتی وسائل کی تحقیق اور ان سے استفادے کا فیصلہ موجودہ حکومت کا ایک مثبت قدم ہے۔ حکومت کو اس منصوبے پر پیش رفت میں تیزی لانی چاہئے تاکہ عوام ملکی وسائل کے ثمرات سے مستفید ہو اور ملک میں خوشحالی آئے۔ اور ملک کو بیرونی قرضوں اور ان سے سبب ملنے والی بے روزگاری اور مہنگائی سے نجات میسر آ سکے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!