شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / کوئٹہ میں دہشت گردوں کا پھرخونی وار

کوئٹہ میں دہشت گردوں کا پھرخونی وار

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود احمد خان کی کوئٹہ آمد پر شہر میں سیکورٹی ہائی الرٹ تھی کہ اس روز(منگل کی شام) کوئٹہ شہر یکے بعد دیگرے ہونے والے دھماکوں سے گونج اٹھاصرف ایک گھنٹے میں تین خود کش حملے ہوئے ، پولیس اہلکاروں کا ایک ٹرک جو سیکیورٹی پر مامور تھا جب یہ ٹرک ائیر پورٹ روڈ پر الحمد یونیورسٹی کے گیٹ کے قریب پہنچے تو ٹرک کے پیچھے سے آنے والے خود کش حملہ آورنے ٹرک کو ہٹ کیا جس کے نتیجے میں ایک خوفناک دھماکہ ہوا یہ دھماکہ ااس قدر شدید تھا کہ زمین لرز اٹھی اس دھماکے میں 15/20کلوگرام دھماکہ خیز مواد بمعہ بال بیرنگ اور نٹ بولٹ استعمال کئے گئے ،پولیس ٹرک مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ اس میں سوار 6پولیس اہلکارکریم بخش،علی نواز ،عبدالمجید،عبدالرشید،نذر محمد اور رشید احمد شہید جبکہ نثار احمد،جمال خان،شاہ نواز،احمد علی ،عیدن خان ،عاشق علی اور ظہور احمد شہید زخمی ہو گئے ،شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اعضاء دور دور تک پھیل گئے ،شہید ہونے والے اہلکاروں کو شدید زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال اور ٹراما سنٹر منتقل کیا گیا جہاں وزیرصحت صالح ظافر،ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر ارباب کامران اور ٹراما سنٹر کے ایم ڈی فہیم خان نے اپنی نگرانی میں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی ،پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دو خود کش حملہ آوروں نے کوئٹہ کے جنوب میں ہزار گنجی کے قریب میاں غنڈی میں دشت کمیلا کے علاقے میں فرنٹئیر کور(ایف سی)کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جسے ایف سی اہلکاروں نے ناکام بنا دیا یہ دونوں حملے بھی یکے بعد دیگرے ہوئے،چیک پوسٹ پر حملہ آوروں نے ٹارگٹ تک نہ پہنچنے پر فائرنگ کا سہارا لیا مگر وہ اسی فائرنگ کے تبادلے میں جہنم واصل ہوئے بعض ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آوروں کے جسم پر بندھے دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ایف سی کے آٹھ اہلکار زخمی ہوئے تاہم آئی ایس پی آر نے اس کی تردید کی ہے،ائیر پورٹ روڈ پر دھماکے کے بعد آی جی بلوچستان معظم آصف جاہ اور ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق نے دھماکے کی جگہ کا معانہ کیا ان کا کہنا تھا کہ خود کش حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا جس کا ٹاگٹ ہی پولیس اہلکار تھے نے ٹرک کو پیچھے سے ہٹ کیا یہ دہشت گردی سرحد پار سے ہو رہی ہے،ڈی آئی جی عبدالرزاق نے کہا کہ پورا کوئٹہ شہر حساس اور ہم حالت جنگ میں ہیں روان برس 85تھریٹ اٹس موصول ہوئے جن میں سے 6دہشت گرد اپنی کاروائیوں میں کامیاب رہے،دھماکے کے بعد پولیس،ایف ای اہلکار اور بم ڈسپوزل اہلکار بڑی تعداد میں جائے وقع پر پہنچ گئے جبکہ شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی،تمام اہم مقامات ،سرکاری عمارات اور رش والی جگہوں پر سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار تعینات کر کے مشکوک افراد پر نظر رکھنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی، ،ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام عملہ بلا لیا گیا،پولیس اور فورسز نے ائیر پورٹ اور میاں غنڈی روڈ کو بلاک کر کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا مگر ٹاحال کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے،کوئٹہ دھماکوں کے بعد لاہور سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں میں بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کی گئی اور تمام داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی گئی ،دہشت گردی کی اس لہر سے دہشت گردون نے ثابت کیا ہے کہ وہ اور ان کے سہولت کار ابھی تک موجود ہے انہوں نے ایک ہی گھنٹے میں تین دھماکے کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے،عرصہ دراز سے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ٹاگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی کاروائیاں تواترسے جاری ہیں ملک اور انسانیت دشمن عناصرنے بلوچستان مین اپنا بیس کیمپ قائم کر رکھا ہے،کوئٹہ میں دہشت گردوں کی جانب سے سیکیورٹ فورسز کو اکثر نشانہ بنایا گیا جن میں پولیس کے اعلیٰ افسران بھی شامل تھے،رواں سال جنوری میں زرغون روڈ پر خود کش حملے کے نتیجے میں 5پولئس اہلکاروں سمیت7افراد شہیدجبکہ پولیس اہلکاروں سمیت 18 افراد زخمی ہوئے،17دسمبر کو زرغون روڈ پر ہی واقع میتھل میموریل میتھو ڈسٹ چرچ میں خود کش حملے میں (دھماکے اور فائرنگ)کے نتیجے میں تین خواتین سمیت9افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے،صدر مملکت ممنون حسین نے اس سانحہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ میں دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاملزمان کا جلد سراغ لگا کر انہیں قانون کے شکنجے میں لایا جائے ،وزیرا علی بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو،گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی اور پنجاب میاں شہباز شریف نے دھماکے میں شہید ہونے والوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا،سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا بم دھماکے پاکستان کے خلاف گیرہ سازش ہیں جس کا تسلسل ااور اس کے تانت بانے افغانستان اور بھارت سے جا ملتے ہیں،صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہاکہ پولیس اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ایسے واقعات فورسز کو کمزور نہیں بلکہ بنائیں گے ،جماعت الدعواۃ کے سربراہ حافظ سعید احمد نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے بھارت اور افغانستان دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے یہاں بھیجتے ہیں،ُی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے کہایہ حملہ شر پسندی کی مربوط کاروائی ہے دشمن ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلانے کا خواہاں ہے،آپریشن ردالفساد کے بعد صوبہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کئے گئے سینکڑوں شدت پسند گرفتار مگر پھر بھی کوئٹہ سمیت بلوچستان سے خوف و ہراس کی فضا مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکی ہماری فورسز ملک دشمن عناصر کے ناپاک عازئم ملانے کی خاطر اپنء جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ان کے خلاف بر سر پیکار ہیں تاہم بلوچستان میں ابھی مزید کاروائی کی ضرورت ہے باالخصوص افغانستان سے ملحقہ علاقوں پر گہری نظر رکھتے ہوئے انہیں کچلا جائے،اس المناک سانحہ میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کرنے کی بعد ان کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں جہاں انہیں پورے اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا،کوئٹہ کی فضا شہیدوں سے لہو سے بہت سوگوار ہے،

error: Content is Protected!!