تازہ ترینعلاقائی

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کایونیورسٹی ملازمین کےاحتجاج کی حمایت کااعلان

کوئٹہ ﴿بیورو رپورٹ ﴾ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں بلوچستان یونیورسٹی کے جوائنٹ الیکشن کمیٹی یونیورسٹی ٹیچر، آفیسرز اینڈ ایمپلائز ایسو سی ایشن کی طرف سے اپنے مطالبات کے حق میں 20 مارچ سے جاری احتجاج کی بھر پور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے یونیورسٹی کے چانسلر ، صوبائی حکومت اور متعلقہ مجاز اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے ملازمین کے مطالبات فوری طور پر منظور کرکے انہیں دیگر صوبوں کے مطابق مراعات دی جائے ۔ بیان میں کہا گیا کہ ستم ظریفی کا مقام ہے کہ ملک میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا طبقہ اپنے حقوق کے دفاع اور حکومت کے ناقص طرز حکمرانی کے باعث احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ مگر ہڑتالوں ، مظاہروں ، دھرنوں کے باوجود کسی بھی ریاستی ادارے کوعوامی مسائل و مشکلات کا احساس نہیں ہوتا۔ زندگی کے تمام طبقے سے رکھنے والے افراد بدترین مشکلات سے دوچار ہے ۔ حکومت اور حکومتی ادارے مسلسل انکے مسائل میں اضافہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یونیورسٹی کے تمام ملازمین 12 اپریل سے احتجاجی کیمپوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ حکمران کیلئے شرم کا مقام ہے کہ زندگی کے مقدس ترین شعبے کے افراد سڑکوں پر اپنے حقوق کے حصول کیلئے مظاہروں کا انعقاد کرتے ہیں۔ اساتذہ اور دیگر ملازمین کو سہولیات کی فراہمی انکے دروازوں پر ملنی چاہئے مگر انہیں عدالتی بھوک ہڑتال اور شوکاز نوٹس کے ذریعے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ درس و تدریس کی بجائے عدالتوں کا چکر لگاتے رہیں۔ بیان میں کہا گیاکہ اساتذہ کو مراعات دیکر انہیں سیکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اور اس ذمہ داری کے ذریعے اساتذہ کو اطمینان دلاکر انہیں سیکیورٹی فراہم کیا جاسکتاہے ۔ جس کے بعد وہ طلبائ کو دلچسبی کے ساتھ توجہ دے سکتے ہیں۔بیان میں یونیورسٹی کے ملازمین کے مطالبات کی فوری منظوری کا مطالبہ کیا ۔درایں اثنائ پارٹی کے مرکزی نائب چئیرمین دوم مرزا حسین کی قیادت میں ایک وفد نے پولیس کی ہاتھوں شہید ہونیوالے سید اصغر کی شہادت واقعہ پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے ساتھ گورنر ہاوس کے سامنے اظہار یکجہتی کیا اور سید اصغر کے بہیمانہ قتل کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فورہ کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے سوموار کے روز شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ شہر اور صوبے میں جاری فرقہ واریت ، اغوا برائے تاوان کے واقعات ، قانون کے محافظوں کی غنڈہ گردی ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے ۔ہزار ہ ٹاؤن میں پولیس کی دہشت گردی کے بعد معصوم طالبعلم سید اصغر کی بہیمانہ قتل پولیس کے بے لگام ہونے کی نشاندہی کرتا ہے ۔انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے صورتحال کے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ۔

یہ بھی پڑھیں  رینالہ خورد:تین موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر پرویژن سٹور اور وکیل سے لاکھوں روپے لوٹ لیے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker