بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

سانحہ کوئٹہ ۔۔اور ہماری ذمہ داریاں ۔۔

bashir ahmad mir16فروری کی شام نے ایک المناک تاریکی کا سماں باندھا،کوئٹہ میں خون کی ہولی کھیلی گئی ،85سے زائد بے گناہ انسانوں کا خون ہوا اور ایک سو سے زائد زخمی ہوئے ۔آخر یہ کون سا اسلام اور اخلاقی اقدار ہیں کہ راہ گذر بچے ،خواتین اور محنت کش طبقہ سے تعلق رکھنے والے قاتلوں کی بھینٹ چڑھے ۔قاتل بھی اپنے اور مقتول بھی اپنے ،عجب کارستانی کا سماں ہے ۔اگر ہم نے یہی کچھ بونا ہے تو یقینی طور پر اگنے والی کونپل خون آلود ہی ہو گی۔
اسلام امن ،محبت ،بھائی چارے اور اخلاق حسنہ کا درس دیتا ہے ،ایک دوسرے سے بھائی بندی سیکھتا ہے ،ایک دوسرے کے مال ،جان اور عزت کی حفاظت کا درس دیتا ہے ،پھر آخر کیوں ہم ایک دوسرے کے پیاسے ہوتے جا رہے ہیں ،زمانہ جہالت میں بھی ایسے مظالم نہیں ہوا کرتے تھے ،ہم امت مسلمہ سے اپنا تعلق ظاہر کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ہماری تعلیم و تربیت ،قول و فعل اور واعظ و نصیحت کیوں تضادات کا شکار ہوتی جا رہی ہے ۔دراصل ہماری صفوں میں اغیار نے گھیرا ڈالا ہوا ہے جس کے سبب ہماری زندگی بے رنگ و بو ہوتی دکھائی جارہی ہے ۔یہ ایک واقعہ نہیں ہر روز کہیں نہ کہیں ایسے المناک واقعات کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے ۔
دہشتگردی نے ہمارا ملک انتہائی مشکل حالات کا شکار کر رکھا ہے ،9/11کے بعد ایک طرف مسلمان ایک طویل جنگ میں جونک دئیے گے وہیں ہر مسلم ملک میں دہشتگردوں نے ایسا بسیرا ڈال رکھا ہے جسے اب تک کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں ،اس جنگ کا دشمن بھی نظر نہ آنا ہمارے لئے لمحہ فکریہ بنا ہوا ہے ،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے درست کہا یھا کہ ’’ ہمارا مقابلہ ایسے دشمن سے پڑا ہے جس کی کوئی شناخت نہیں‘‘ واقعی یہی بات ہے کہ اب تک ہمیں دہشتگردوں کی نسل کا علم ہی نہیں ہو رہا ہے کہ یہ کون سے مذہب ،ملک اور نسل سے ہیں ؟؟ان بد بختوں نے نہ مساجد کی حرمت کا لحاظ رکھا ،مدارس کو انہوں نے تباہ کیا ،مزارات کی بحرمتی کی گئی ،امام بارہ گاہیں ،چرچ اور عوامی اجتماعات کو نشانہ بنایا ،ملک کی حفاظت پر مامور جوانوں کو ہدف بناکر ہمارے محافظ وطن شہید کئے گے ،ان تمام واقعات کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جو انتہائی ابل تشویش منظر نامہ پیش کرتا ہے ۔
معاشی طور پر ملک روز بروز تنزل کی جانب بڑھتا جا رہا ہے ،بے روز گاری ،مہنگائی اور افراط زر نے ہمارے معاشرے کو ناقابل تلافی صورت حال میں لا کھڑا کر دیا ہے ۔زندگی اور موت کے اس دو راہرے پر ہر شہری ساکت و جامد نظروں سے کسی مسیحا کی جانب دیکھ رہا ہے کہ کون اس مصیبت سے نکالے گا۔۔۔؟؟ْ کراچی میں روزانہ درجنوں انسان ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوتے جارہے ہیں ،قبائلی علاقوں میں خود کش اور بم حملوں میں تسلسل سے روزانہ بے شمار شہری لقمہ اجل بن رہے ہیں ،چوری ،ڈکیتی،قاتل ،اغواء جیسے جرائم ہر گلی کوچہ میں زندگی کو اجیرن بنا رہے ہیں ۔راہ چلتے مسافروں کو لوٹنا معمول بنتا جا رہا ہے ،وارداتوں میں ہوشربا اضافہ خوفناک حدوں کو چھو رہا ہے ۔
ان پیچیدہ حالات میں ہمیں آخر کیا کرنا چاہئے کہ ہم امن و سکون کی زندگی بسر کر سکیں گے،کیا ان حالات کو کنٹرول کرنا مشکل ہے ، کیا گورنر راج بھی اس مسئلہ کا حل نہیں ثابت ہو سکا، کیاحکومت اس بارے ناکام تصور کی جائے ،کیا ان حالات کے ذمہ دار دہشتگرد ہیں ۔۔۔؟؟؟یہ ایسے سوال ہیں جن پر سوچنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں کچھ تو کرنا پڑے گا اگر یوں ہی معاملات بگڑتے گے تو پھر ملک کی سلامتی کا کون ذمہ دار ہوگا۔۔؟؟؟
ہماری قومی بد خصلتی ہے کہ ہم جذبات میں آ کر’’گرما گرم ‘‘بیانات ،تقاریر اور دھمکی آمیز رویہ اپناتے ہیں جس سے اس قدر پیچیدہ مسئلہ کا حل نکلنا محال ہے ،ریلیاں ،ہڑتالیں ،توڑ پھوڑ اور گھراؤ جلاؤ سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوتے جاتے ہیں ،ہمارے مذہبی اکابرین کی یہ خوبی ہے کہ وہ سامعین کو اپنی پر اثر تقاریر سے ان کی سمت کو منفی طرز پر ڈھالنے کے ماہر ہیں ۔اب ہزارہ کمونٹی کے اوپر دوسرا حملہ ہوا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے مگر غور و فکر کا تقاضا ہے کہ اس جذباتی ماحول کو فرقہ ورانہ تعصب کی بھینٹ نہ چڑ ھایا جائے ۔ایسے انسانیت سوز واقعاتکی مذمت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشتگردوں کے سامنے صرف شیعہ برادری ہی نہیں انہوں نے ہر مکتبہ فکر کو نشانہ بنانے کی مذموم کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں ۔
صحافیوں کو انہوں نے دھمکیاں دے رکھی ہیں مگر ہم نے حق کا پرچم بلند کرنے کے لئے بے نیام کھلے عام اپنا فرض ادا کر رہے ہیں ،کئی صحافیوں کو شہید بھی کیا گیا ،ابھی حالیہ دنوں میں ملک کے شہرت یافتہ اینکر حامد میر پر قاتلانہ حملہ ناکام ہوا ،ہم صحافی اپنی عاقبت خراب نہیں کرنا چاہتئے،ہم نے جس انداز سے اپنے آپ کو اس مقتل گاہ میں زند رکھا ہے یہ سب اللہ کا کرم ہے مگر کسی صحافی کی شہادت پر کسی نے آج تک ملک گیر ہڑتال نہیں کی کیونکہ ہڑتالوں سے ملک کی معیشت پر بڑا اثر پڑتا ہے اور براہ راست عوام متاثر ہوتی ہے ۔
ہمیں ملکر دہشتگردی کے اسباب کا جائیزہ لینا ہو گا ،ایسے اسباب جو دہشتگردوں کو آکسیجن مہیا کرتے ہیں ان کے تدارک کے لئے اتحاد امت کی دعوت عام کرنا ہو گی ۔اشتعال آمیز تقاریر ،منفی سرگرمیاں اور بے معنی بحث و مباحثہ کسی طور بھی باہمی اعتماد بحال نہیں کر سکتا۔سچی بات کی جائے تو معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ہمارے تمام مکاتب فکر کے علماء کی یہ بڑی خامی ہے کہ وہ اپنی روزی روٹی کے لئے نت نئے انداز سے عوام کو گمراہ کر کے اشتعال پیدا کرنے میں ملوث ہیں جن کے اس طرز عمل سے دہشتگرد فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔اخلاقیات کی تعلیمات بنیادی شرط ہے جو فرقوں کے درمیان پید کی جانی چاہئیے ۔یہ بھی علم میں آیا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بارے بھی اپنی ذمہ داریوں کو بروئے کار لائے ۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button