ایڈیٹر کے قلم سےکالم

قرآن کس لیے؟

قرآن وہ مقدس کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد ö کے ذریعے انسان کی تربیت کے لیے نازل کی ۔ یہ آخری الہامی کتاب ہونے کے ساتھ ساتھ مکمل ضابطہ حیات بھی ہے۔ قرآن مجید کا ایک حرف پڑھنے کے بدلے میں دس نیکیاں ملتی ہیں۔ قرآن پاک بائیس سال اور پانچ ماہ میں نازل ہوا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے زندگی کی ابتدا ئ سے موت اور موت سے قیامت تک رہنمائی دی ہے ۔ قرآن کی بے حرمتی کو مسلمان کبھی برداشت نہیں کرتاخواہ وہ کسی بھی ملک میں رہتا ہو۔ اس کی بے حرمتی پر دنیا کے تمام مسلمان احتجاج کرتے ہیں مگر جب کوئی مسلمان خود اس کی عزت نہ کرے تو اس کو کوئی مسلمان محسوس نہیں کرتا۔ یہ تو اس لطیفہ کے مترادف ہوگیا کہ ’’ ایک غیر مسلم خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کررہا تھا ۔ وہاں سے ایک مسلمان گزر ا۔ جب اس کی نظر اس غیر مسلم پرپڑی تو اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور بولا کے ہمارے کعبہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کرتا ہے، اس غیر مسلم نے معذرت کی اور چلا گیا ۔ کچھ عرصہ بعد وہ ہی مسلمان کعبہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کررہا تھا اور اس غیر مسلم کا گزر ادھر سے ہوا ۔ اس نے دیکھا کہ مسلمان بھی کعبہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کررہا ہے تو اس نے بھی اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور بولا کہ کعبہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کرتا ہے ۔ کچھ دیر تو مسلمان نے سوچا اورپھر پلٹ کر اس کو طمانچہ مارا اور بولا کہ کعبہ ہمارا اور ہم کعبہ کے تو کون ہوتا ہے؟اگر مسلمان ایسے ہونگے تو پھر غیر مسلموں کو تو موقع ملے گا کہ وہ ہماری مقدس ہستیوں ، مقامات اور کتاب کی بے حرمتی کریں۔ اب تو ہمارے مسلمانوں نے جھوٹ کے لیے بھی قرآن کا سہارا لینا شروع کردیا ہے۔ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے ذرا ذرا سی بات پر قرآن کی قسم اٹھا لیتے ہیں۔ جھوٹ بہت بڑی لعنت ہے۔ جھوٹ بولنے پر قرآن اور احادیث میں سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ جھوٹ بولنے والے کو اللہ تعالیٰ بالکل پسند نہیں کرتے مگر ہمارے مسلمان تو جھوٹ کو ایسا سمجھتے ہیں جیسے یہ کوئی گناہ ہی نہیں ہے۔ ہمارے مسلمان چھوٹی چھوٹی باتوں پر خدا کی قسم اور قرآن کی قسم ایسا اٹھالیتے ہیں جیسے یہ تو معمولی سی بات ہے۔ایک دن میں اور میرے چند دوست ٹی وی پر نیوز دیکھ رہے تھے کہ اچانک نیوز کاسٹر نے کہا کہ کراچی میں ایک وزیر صاحب پریس کانفرنس کررہے ہیں آئیے ہم آپ کو وہا ں لیے چلتے ہیںتو ہم نے دیکھا کہ ان صاحب نے قرآن ہاتھ میں اٹھا رکھا ہے اور وہ بار بار قسمیں کھا کر اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے بعد سے یہ ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ اب ہر شخص اس کو قرآن کوجیب میں یا ہاتھ میں لیا پھرتا ہے اور جب ضرورت پڑے اسکو ہاتھ میں لے کر قسم کھا اٹھا لے۔مسلمانوں کے نزدیک جس نے قرآن کی قسم اٹھا لی تو سچا ثابت ہوگیا۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر قرآن اٹھانے والے شخص نے سچی بات کی ہے تو پھر اس نے جس کیخلاف قسم اٹھائی تو پھر اس شخص کے خلاف حاکم وقت نے ایکشن کیوں نہیں لیا؟ اور اگر قرآن اٹھانے والا شخص جھوٹا ہے تو پھر اس کو ڈبل سزا ملنی چاہیے ایک جھوٹ کی اور دوسری اس نے قرآن پاک کی توہین کی ہے مگر ہم اس کے خلاف کچھ بھی نہیں کرتے کیونکہ قرآن ہمارا بھی ہے اور اس کابھی۔ اگر اس کی قسم کوئی غیر مسلم اٹھاتا تو پھر ہم کو ایک ایشو مل جاتا احتجاج کرنے کا اور میڈیا پر آنے کا۔ اگر ہم مسلمان ہیں تو پھر سب سے پہلے جھوٹ ہمیں زیب ہی نہیں دیتا اور دوسرے ہمیں اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے کوئی اور دلیل نہیں جو ہم قرآن اٹھا کر سچ ثابت کریں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ باآسانی ہرمسلمان کے گھر سے مل جاتا ہے اورتو اور ہماری عدالتوں میں سب سے پہلے قرآن پر حلف لیا جاتا ہے کہ جو کہوں گا سچ کہوں گا مگر اس کے باوجود ہم جھوٹ بول جاتے ہیں۔ کیا یہ توہین قرآن نہیں ؟
جھوٹ بولنا تو ویسے بھی اسلام میں جائز نہیں اور ہم جھوٹ تو بولتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اب اپنی الہامی کتاب یعنی قرآن پاک کو ساتھ لیکر چلتے ہیں تاکہ جب بھی کہیں ضرورت پڑے تو فوراًاس کی قسم اٹھا کر اپنے آپ کو سچا ثابت کردیں اور یہ بھی نا سوچا کہ اب تو میں اس دنیا میں سچا ہوگیا ہوں مگر جب اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گا اس وقت کیا کروں گا۔ جب تو تیری اس جھوٹ کی گواہی زبان ہاتھ الگ الگ دے گی۔ان قرآن اٹھانے والوں سے پوچھو جس کو تم ہاتھ میںلے کر قسم اٹھاتے ہوکیاکبھی اس کو کھول کر بھی پڑھتے ہو؟ قرآن قسم اٹھانے کے لیے نہیں اتاراگیا یہ پڑھنے کے لیے اتارا ہے اور پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنا بھی فرض ہے مگر ہم پڑھنے اور عمل کرنے کے بجائے اس کو قسمیں اٹھا نے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اگرایسی قسم کوئی غیر مسلم اٹھائے تو و ہ قرآن کی بے حرمتی ہے اور اگر مسلمان اٹھائے تو پھرگھر کی بات ہے۔قرآن تو پوری دنیا کے لیے نازل کیاگیا ہے اور یہ ان لوگوں کی بد بختی ہے جو اس پر ایمان نہ لائے۔ مگر یہ قرآن ان کے لیے لوگوں کے لیے بھی ہے اور مسلمانو ں کے لیے بھی۔ابھی حال ہی میں ایک شخص نے قرآن ہاتھ میں لے کر میڈیا کے سامنے قسمیں کھائیں ابھی اس کی پریس کانفرنس کی دھول بیٹھی بھی نہیں تھی کہ اُسی میڈیا نے اس کے تمام راز کھول دیے اور اس کی جھوٹ سب کے سامنے آگئی مگر ابھی تک کسی نے اس پر قرآن کی توہین کی رٹ دائر نہیںکی۔ کسی نے اس کے جھوٹا قرآن اٹھانے پر احتجاج نہیں کیا کیوں؟مسلمانوں قرآن اللہ تعالیٰ نے تمہاری رہنمائی کے لیے نازل کیا ہے ، اس کا احترام ہر مسلما ن پر لازم ہے ۔اس کو پرْْھنے اور اس پر عمل کرنے میں ہم سب کی بھلائی ہے ۔اس کے ذریعے ہی ہم جنت میں جاسکتے اور اگر اس کی بے حرمتی یا توہین کی تو ہمارے مقدر میں دوزخ لکھ دی جائے گی۔ اب بھی وقت ہے آنکھیں کھولو اور ایسی حرکتوں سے باز آجاؤ جس سے ہم غیر مسلموں کے سامنے منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہیں اور آخرت میں بھی اپنے رب کے سامنے بھی سرخرو نہ ہوسکیں۔

یہ بھی پڑھیں  سیاست کے میدان میں ن لیگ کا نمبر1

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker