تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

جرمن ریلوے کا ترقی کردہ نظام

جرمن کمپنی میفل ورک ہرسن ٹیک نیک کے ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی ڈویژن نے حال ہی میں بجلی سے چلنے والے ریل انجنوں کی نئی نسل کی ایک کھیپ جرمن ریلویز کے سپرد کر دی ہے۔نئی نسل کے یہ ریلوے انجن بین الایورپی ریلوے نظام کے لیے ڈیزائین کیے گئے ہیں۔تیاری اور تعمیر پر خرچ ہونے والے تقریباً 20ملین مارک مندرجہ بالا دونوں کمپنیوں نے اپنے فنڈز سے مہیا کیے ۔اس نئے انجن کو یورواسپرنٹر کا نام دیا گیا ہے ۔اس نئے انجن کو یورپین ریلوے نظام میںآزمائشی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔’’یورواسپرنٹر انجن کی ایک نمایاں خوبی اس کا معیاری ڈیزائن ہے جس میں بہترین ٹیکنالوجی اور بجلی کے جدید نظام سے استفادہ کیا گیا ہے۔اس نظام میں آسانی سے ردو بدل کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔اس طرح یورپ کے مختلف ملکوں میں ریلوے ٹریفک کے گیج کے علاوہ بجلی اور سگنل کے نظام میں فرق کے مطابق اس انجن میں پورا نظام تلپٹ کیے بغیر ردو بدل کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
یورو اسپرنٹر کے اس پہلے ماڈل میں برقی قوت 6400کلو واٹ﴿8500﴾ہارس پاور ہے۔ یہ انجن مسافر اور بھاری مال بردار دونوں طرح کی ریل گاڑیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔اور یہ 220کلو میٹر فی گھنٹہ تک کی رفتا سے دوڑ سکتا ہے۔اس انجن میں بجلی کے ACکرنٹ کا تین فیز کا ڈیجیٹل کنٹرول والا نظام نصب کیا گیا ہے۔جو نہ صرف قابل اعتماد اور باکفایت ہے بلکہ ماحول کے لیے بھی سازگار ہے۔کیونکہ یہ کوئی مضر صحت گیس اور دھواں خارج نہیں کرتا۔نیا انجن گوناگوں خوبیوں کا مجموعہ ہے۔ مثلاً کارکردگی کے لحاظ سے بہترین ہے مگر مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات نسبتاً بہت کم ہیں۔مجموعی طور پر انتہائی قابل اعتماد ہے۔یہ تمام خوبیوں سے مزین اور جدید ٹیکنالوجی کا کمال ہے۔ا س انجن میں جدید ترین جی ٹی او تھیر سسٹر پاور کنورٹر ز سباس 16مائیکرو کمپیوٹر کنٹرولر سسٹم لگائے گئے ہیں اور اس کی تعمیر میں کوئی فالتو شے استعمال نہیں کی گئی ۔جرمن اور جاپان جدید ریلوے انجنوں کے موجد ہیں اور اس فیلڈ میں دونوں کی کاوششیں قابل تحسین ہیں۔حال ہی میں چین کو بھی جوش آیا ہے اس نے معیشت کے بعد ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی تیز رفتار ترقی کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔چین نے دنیا کی سب سے تیز رفتا ٹرین تیار کی ہے۔جو 400کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ ٹرین 16بلین ڈالر کی لاگت سے تیار کی ہے۔ اس ٹرین کے لیے دنیا کا طویل ترین ایکسپریس ریلوے ٹریک بھی تیار کیا گیا ہے۔ امریکی صدر اوباما کے بھی جدید چینی ٹرین کو دیکھ کر جذبات اُبھرے ہیں او ر اُس نے ریلوے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ بھی ایک ایسی ہی جدید ٹرین تیار کریں ۔اُنہوں نے اس کے لیے آٹھ ارب ڈالر کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ تقریباً ہر ترقی یافتہ ملک میں ریلوے کا جدید نظام موجود ہے اور وہاں کے عوام اس سے بھر پور استفادہ کرتے ہیں۔افسوس کہ ہمارے ہاںابھی ریلوے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کیے جانے کی کاغذی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔کراچی سے لاہور تک ریلوے ٹریک کو دو رویہ کرنے کا کام ابھی ادھورا پڑا ہے۔حادثات کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات اُٹھائے نہیں جا سکے ۔ریلوے حادثات نے محکمہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔اس پر مستزادیہ کہ کرپشن نے ریلوے کو قرضوں کے بوجھ تلے دفن کر رکھا ہے۔کرپٹ افسران اور اہلکاران محکمہ کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہووہاں انصاف نہیں ملتا،جہاں انصاف نہ ہو وہاں امن نہیں ہوتا،جہاں امن نہ ہو وہاں خوشحالی اور ترقی کے در وا نہیں ہوتے ۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ابھی تک جمہوریت کو مستحکم نہیں کر سکے۔سازشوں کے جال بننے میں لگے رہتے ہیں۔حکمران دوروں اور تقریروں میں وقت اور دولت ضائع کرتے ہیں۔جبکہ اپوزیشن حکمرانوں کی ٹانگ کھینچنے کی منصوبہ بندی میں مصروف رہتی ہے۔سابق صدر پرویز مشرف کے جانے کے بعد امید تھی کہ اپوزیشن صبر اور حوصلے سے حکمرانوں کی حکمرانی کو برداشت کرے گی اور یوں جمہوریت کو استحکام ملے گا۔مگر افسوس صد افسوس کہ حکمرانوں کے سر پر اپوزیشن کا خوف مسلط رہتا ہے اور وہ بھی احتساب کے نظام کو مستحکم کرنے کے متمنی نہیں ہیں۔جب تک احتساب کا نظام مستحکم نہیں ہو تا جمہوریت کو بھی استحکام نصیب نہیںہو گا ۔ہم تو ان دونوں فریقوں کے لیے دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت کاملہ عطا فرمائے ﴿آمین﴾تاکہ جمہوری ملک میں جمہوری نظام چلتا رہے۔ورنہ پھر خطرات منڈلا رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے ،کہیں ویسا نہ ہو جائے ؟ہمیں نہیں امید کہ ہم اپنی زندگی میں ریل کے نظام کو جدید ہوتا دیکھ سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button