علاقائی

رائیونڈ:غیرمناسب انتظام ،پاکستان ریلوےٹریک ورکشاپ جنگل میں تبدیل

رائے ونڈ ﴿ کرائم رپورٹر ﴾ روشنی اور صفائی کے غیر مناسب انتظام کی وجہ سے پاکستان کی سب سے بڑی ٹریک ورکشاپ جنگل میں تبدیل ۔۔52ایکڑ اراضی پر مشتمل ریلوئے ٹریک ورکشاپ کی حفاظت پر صرف 6پولیس اہلکار ڈیوٹی دینے پر مجبور ۔سرکاری لوہا چوری کی وارداتوں میں اضافہ ۔ورکشاپ کی مناسب صفائی نہ ہونے اور کائیوں کی عدم تلفی سے ملازمین کو خوف آنے لگا ۔سانپ اور دیگر موذی حشرات الارض کی موجودگی سے جانی نقصان کا اندیشہ ۔ریلوئے حکام کو بارہا مرتبہ اطلاعات کے باجود عملہ کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا ۔ ورکشاپ پولیس چوکی انچارج کا موقف ۔تفصیلات کے مطابق کروڑوں روپے ماہانہ آمدن دینے والی پاکستان کی سب سے بڑی ریلوئے ٹریک ورکشاپ میں روشنی اور صفائی کے ناقص انتظام کی وجہ سے گھنے جنگل کا روپ دھار لیا ہے گزشتہ روز کئے گئے سروے میں معلوم ہوا کہ مذکورہ ورکشاپ قیام پاکستان سے قبل1912 میں قائم ہوئی جہاں سینکڑوں افراد کا روزگار منسلک ہے مذکورہ ورکشاپ کی اہمیت کے باجود ریلوئے حکام نے ورکشاپ کے بنیادی مسائل کو حل کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی 52ایکڑپر محیط ریلوئے ورکشاپ میں جگہ جگہ کائیاں پیدا ہونے سے ملازمین مختلف شعبہ جات میں کام کرنے سے گھبراتے ہیں سروے میں معلوم ہوا کہ ورکشاپ میں تعینات پولیس ملازمین کی تعداد 11ہے لیکن پانچ پولیس اہلکاروں کو ریلوئے افسران نے اپنے ذاتی کاموں پر لگایا ہوا ہے طویل رقبہ پر محیط ریلوئے ورکشاپ کی حفاظت پر صرف 6پولیس اہلکار اور ایک انچارج مامور ہیں جنہوں نے آج تک پوری ورکشاپ کا دورہ نہیں کیا پولیس ملازمین نے اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ریلوئے حکام نے ہماری شکایات کے باجود روشنی کا مناسب انتظام نہیں کروایا جس سے لوہا چوری کی وارداتیں مزید بڑھ گئی ہیں انہوں نے بتایا کہ کائیوں میں موجود کسی شخص کو کسی صورت نہیں پکڑا جاسکتا ریلوئے پولیس ملازمین نے اپنی مدد آپ کے تحت جو ٹارچ رکھے ہوئے ہیں ان کے سیل کا خرچہ بھی انکی پہنچ سے باہر ہے وہ کیا کریں چوکی انچارج ورکشاپ محمد اکرم اے ایس آئی نے بتایا کہ ہم تین شفٹوں میں کام کررہے ہیں دو کانسٹیبل حضرات پر مشتمل ایک شفٹ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی ادا کرتی ہے انہوں نے شعبہ برقیات پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی سالوں سے ریلوئے ورکشاپ میں ایک برقی قمقمہ نصب کرنے کی جسارت نہیں کی جس کی وجہ سے گھپ اندھیرے میں جرائم پیشہ افراد باآسانی وارادت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں چند ہزار روپے کے برقی قمقموں کی تنصیب کے بعد ورکشاپ میں روشنی کا نظام بہتر ہو سکتا ہے کائیوں کی تلفی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ورکشاپ میں خطرناک سانپ اور موذی حشرات الارض کی موجودگی کی وجہ سے جہاں ورکشاپ میں کام کرنے والے ملازمین عدم تحفظ کا شکا ر ہیں وہاں پولیس اہلکاروں کو انتظامی معاملات چلانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ روشنی کے مناسب انتظام کے ساتھ ساتھ ہمیں جدید اسلحہ سے لیس کیا جائے تاکہ ہم جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی کر سکیں ۔

یہ بھی پڑھیں  رائے ونڈ:عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد عطائی دوبارہ میدان میں اتر آئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker