بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راجہ کی بارات ۔۔۔عوام کی شب ِ عروسی!!!!

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

رفتارِ وقت بتا رہا ہے کہ چند روز بعد ’’خط‘‘ نہ لکھنے کی پاداش میں ہمارے وزیرا عظم راجہ پرویز اشرف کے ساتھ وہی کچھ ہونے والا ہے جو سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی بھگت چکے ہیں۔اگر چہ حکومت نے متوقع صورت حال سے نمٹنے کے لئے تدابیر کر رکھی ہیں مگر ہونا وہی ہے جو ملتان کے شہزادے سے ہوا۔یہ خبر قارئین کے لئے انہونی نہیں،کیونکہ قانون سب کے لئے برابر ہے ۔ہاں البتہ اب سزا 20سکینڈ کے بجائے ممکن ہے کچھ کم زیادہ ہو ،بہرحال عدلیہ کے معاملات میں مداخلت ہمارا ہر گز حق نہیں اور نہ ہی ہم ایسا جرم کرنے کا سوچ سکتے ہیں جس کی پاداش میں ہمیں مفت کی روٹیاں کھانی پڑیں۔اس مہنگائی کے دور میں ’’مفت کی روٹیاں‘‘ کسی غریب کی قسمت میں کہاں ہیں؟یہ مراعات بھی ’’اشرافیہ ‘‘ کے مقدر میں ہیں۔
عام شہری کو اس سے کیا لینا دینا کہ ’’سرکار‘‘ کا کیا ہو گا؟ہر ایک اپنے شب و روز میں ایسا مگن ہے کہ اسے اس کی کوئی ٹینشن نہیں۔مہنگائی نے ایسا مارا ہوا ہے کہ ’’گو گیلانی گو‘‘ کے بعد اب لب کشائی کرنا وقت کا ضیاع سمجھتا ہے۔کیونکہ جب ایک کے جانے کے بعد۔۔۔۔۔ اس سے بدتر حالات کا سامنا ہو تو پھر ایسا سوچنا عام آدمی کے لئے بے سود ہے۔مگر اہل رائے کے لئے ہوش مندی ،درد مندی اور فکر مندی کا مقام ہے۔ جان کی امان ہو ! عام شہری سوچ رہا ہے ۔۔۔۔۔ اور پوچھنے۔۔۔۔ کی اجازت چاہتاہے کہ صرف’’ صدر ‘‘کے بارے سوئس اکائونٹ کیوں؟جبکہ سوئس بنک کے ڈائریکٹر کے مطابق پاکستان کی اشرافیہ ﴿سیاست دانوں،سول اینڈ ملٹری بیوروکریٹس،صنعتکار،سرمایہ داراور اہم شخصیات﴾کے 140لاکھ کروڑ سوئس بنک میں ہیں ۔اگر ان کو پاکستان میں استعمال کیا جائے تو 1 نمبر ۔30سال تک ٹیکس فری بجٹ بن سکتا ہے 2۔مختلف اداروں میں 6کروڑ اسامیاں تخلیق کی جا سکتیں ہیں3۔ہر گائوں سے اسلام آباد تک چار لائینوں پر مشتعمل سڑکیں تعمیر ہو سکتی ہیں4۔بجلی ہمیشہ کے لئے فری ہو سکتی ہے 5۔ہر شہری 20ہزار روپے 60سال تک ماہوار لے سکے گا۔6۔ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے قر ضوں کی ہر گز ضرورت نہیں رہے گی ۔جناب ! اگر یہ سچ ہے تو ان سب اکائونٹ ہولڈرز کے بارے ’’خط ‘‘ کیوں نہیں لکھا جانا ضروری قرار دیا گیا ؟ مہر بانی کر کے آمدہ فیصلے میں اس بارے بھی قوم کو اعتماد میں لیاجائے ۔ہمارا پیارا وطن عالمی سطح پر اللہ نہ کرئے ’’ناکام ریاست ‘‘ کی فہرست میں شامل ہے۔امریکہ کے فوجی بیڑے 1971ئ میں ہمارے کام نہ آئے مگر اب وہ دستک دے رہے ہیں۔دہشت گردی نے ایک سو ارب ڈالرز سے زائد کا معاشی نقصان کر دیا ہے۔ہزاروں قیمتی جانیں دہشت گردی کے خلاف جنگ نے ہم سے جدا کر دی ہیں۔معاشی عدم استحکام روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔افرادی قوت انتہائی کمزور ہوتی جارہی ہے۔قوت ِ خریدکی گرتی ہوئی صورت حال نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں بے روز گار افراد کی تعداد ایک کروڑ سے تجاویز کر رہی ہے۔جو لوگ رزقِ معاش سے وابستہ ہیں وہ بھی ضروریات ِ زندگی پوری نہیں کر پا رہے ہیں۔سماجی ناہمواری کا یہ عالم ہے کہ قتل ،ڈکیتی،چوریاں،اغوائ جیسے جرائم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔خواندگی کا یہ حال ہے کہ 8000ہزار ماہوار تنخواہ لینے والا اپنے بچوں کو کیا تعلیم دے سکے گا۔جبکہ اسے ایک وقت کی روٹی بھی سکون سے میسر نہیں۔چائڈ لیبر کی تعداد میں حوصلہ شکن اضافہ ہونا باعث تشویش ہے۔توانائی کے بحران نے معاشی طور پر جھکڑ رکھا ہے۔سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں،انڈسٹری زوال کی جانب بڑھ رہی ہے۔ سفارش اور رشوت کے بغیر جائیز حق کا ملنا محال ہو چکا ہے۔کرپشن عام ہو چکی ہے۔کسی بھی محکمہ میں بھرتی ہونے کے لئے میرٹ کے بجائے کرنسی ہونا ضروری ہو گیا ہے۔دنیا بھر میں ائیر لائینز ،ریلوے اور انڈسٹریز منافع بخش ادارے گنے جاتے ہیں جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ اربوں روپے گھپلوں کی تحقیقات پر لگا تے جا رہے ہیں۔
یہ سب کچھ ایک دن ، ایک سال میں نہیں گزشتہ 65برسوں سے جاری و ساری ہے جو آج دیو کی شکل میں ہمارے سر پر سوار ہے۔ہر آنے والے کل کو تابناک سوچ کر بے بس ،بے کس ،بے زبان ذی روح تڑپ تڑپ کر اذیت ناک سفر ِ زندگانی گزارتا چلا جارہا ہے۔بد قسمتی سے ملک ِ خداداد کو اس قدر نقصان پہنچایا گیاکہ ملک دو لخت ہونے کے باوجود شبِ خوں مارنے والوں نے بھی رحم نہیں کیا۔آذادی ِاظہار پر ایسی قد غن لگائی کہ کسی کی جرات نہ ہو سکی کہ وہ کوئی بات کر سکے۔بد نصیبی سے ان آمروں کو ایسے نام نہاد سیاسی دم چھلے بھی مل گے جو اپنی زندگی تو سنوار گے مگر عوام کو ہمیشہ کے لئے امریکہ کا محکوم بنا دیا۔اسلام اور جمہوریت کے نام پر آمروں کی حمایت کرنے والے ملک دشمنوں نے عدلیہ کو بھی غلام ﴿ڈوگر کورٹ کی مثال ﴾بنا رکھا۔آج جن حالات کا ہم سامنا کر رہے ہیں یہ سب ورثہ میں ملے ہیں۔ہماری خوش نصیبی ہے کہ بے شمار قربانیوں کے بعد آئین و قانون کی حکمرانی ہمیں نصیب ہوئی ہے۔آج پارلیمنٹ عوام کے حقیقی نمائندوں کی ترجمان ہے۔عدلیہ آذاد اور صحافت بے باک ٍ کردار ادا کر رہی ہے لیکن عوام کو ابھی تک اس آذادانہ ماحول کے ثمرات میسر نہیں ہو سکے جس کی بنا پر مایوس کن صورت حال سے پوری قوم دوچار ہے۔دراصل جہاں نظام مملکت کئی دائیوں سے مخصوص مفادات کے سائے میں پروان چڑھتا رہا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمیں بڑے بڑے چیلنچز کا مقابلہ کرنا پڑا۔پارلیمنٹ کا جمہوری کردار لائقِ تحسین ہے کہ پہلی بار قانون سازی کرنے میں عوامی آرائ کو پیش نظر رکھا گیا۔آئینی اصلاحات میں اتفاق رائے ،معاشی طور پر طویل المعیاد منصوبہ بندی اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لئے کاوشیں نیک شگون ہیں۔عدلیہ کی آذادی سے انصاف کا حصول ممد و معاون اور صحافتی اداروں کا استحکام نظام مملکت کی بہتری کا موجب بنے گا۔
مسئلہ زیر عنوان یہ ہے کہ اس کے باوجود عام شہری تک بہتری کے اثرات کیوں نہیں پہنچ پا رہے ؟اس کے لئے فکر کی ضرورت ہے۔عوامی نمائندوں کو یہ احساس عملی طور پر اجاگر کرنا پڑے گا کہ وہ خلفائ راشدہ کے نقشِ قدم پر چل کر حقِ نمائندگی ادا کریں ،سرکار کے گریڈ 1سے 22تک ملازمین عوام کے خادم بن کر اپنے فرائض ادا کریںتویقینا اس فکری مہم سے وہ تمام خواہشات اور توقعات پوری ہو سکیں گی جن کا عوام بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔جمہوری قوتوں کوچاہئے کہ وہ نان ایشوز پر وقت ضائع کرنے کی بجائے عوام کے حقیقی مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔بلاشبہ جمہوری اداروں کے بقائ کے لئے جہاں اتحادی حکومت کی کاوشیں قابلِ ذکرہیں وہیں ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی جمہوری خدمات بھی ناقابلِ فراموش اور جمہوری تاریخ کا اہم کردار ہیں۔ با لخصوص پاک آرمی کی جمہوریت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تاریخی کردار لائق ِ تحسین ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کی بھلائی کے لئے سب ادارے تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔امن ،ترقی اور خوشحالی بنیادی اصول طے کر کے آگے بڑھیںبالخصوص اشیائ خورد و نوش پر سبسڈی دیکر عام شہری کو ریلیف دیا جائے۔نجی اداروں کے ملازمین کی جاب سیکیورٹی اور ٹائم اینڈ پے سکیل لاگو کیا جائے،تعلیم کو فروغ دینے کے لئے اصلاحات کی جائیں،جرائم کے خاتمے کے لئے پولیس کے نظام کوبہتر کیا جائے، فحاشی پر مبنی ٹی وی پروگرامز اور نا پسندیدہ چینلز بند کئے جائیں ،سوئس بنک اکائونٹس کے حوالے سے حکومت کو ایک قدم بڑھ کر کارروائی کرنا چاہئے عوام سوچتے ہیں کہ ہمارا صدر اگرسوئس اکائونٹ ہولڈر ہے تو اپنے اثاثوں کو ظاہر کرئے تاکہ خط لکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اب عوام خوش نما نعروں اور دل فریب وعدوں سے گمراہ نہیں کئے جا سکتے لہذا کسی بڑے سانحہ سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ حکومت سمیت صاحب ثروت ’’اشرافیہ‘‘ طبقہ مشترکہ طور پر عوامی فلاح و بہبود کے لئے جملہ وسائل کو بروئے کا ر لائیں ۔جہاں تک وزیر اعظم کے خط لکھنے کا معاملہ ہے اس ضمن میں حکومت اور عدلیہ کو آئین و قانون کے تحت آگے بڑھنا ہو گا۔کسی کے آنے اور جانے کا غم اور خوشی کے بجائے ذمینی حقائق پر توجہ دینی چاہئے۔ایسی سازشیں جو عوام کے خلاف ہو رہی ہیں ان کا متحد ہوکر مقابلہ کیا جانا اولین ترجیج ہونا چاہئے۔حکومت کی مفاہمتی پالیسی کامیاب اسی صورت کہلائے گی جب عوام کو بہتر ماحول دستیاب ہو گا۔عوام کہہ رہی ہے کہ ان کے سروں پر ’’اوگرا‘‘ مسلط ہے جو آئے روز مہنگائی کر کے عوام کی چمڑی ادھیڑ رہا ہے اس ضمن میں حکومت کو توجہ دینی چاہئے اگر یو نہی عوام کو رسوائ کرنا ہے تو پھر آمدہ انتخاب میں حساب کتاب برابر ہو جائے گا۔موجودہ حالات کے تناظر میں ایم کیو ایم کے قائد الظاف حسین کی جانب سے گول میز کانفرنس کی تجویز پر بھی سنجیدہ توجہ دی جائے،کیونکہ مسائل سڑکوں اور چوراہوں میں حل نہیں ہوتے ان کے لئے منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے ،ہر ایک بآسانی سے تنقید کر سکتا ہے مگر ان مسائل کے حل بارے منصوبہ عمل سے عاری ہے۔لہذا عالمی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سر جوڑ کر فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اگر چہ مسائل بہت زیادہ ہیں جو ایک دو روز میں حل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی کسی کے پاس الٰہ دین کا چراغ ہے کہ آناً فاناً ہر ایک دولت مند ہو جائے، رونے دھونے کی بجائے ملک کے وسیع تر مفاد میں ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ آنے والی نسلیں خوشحال ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker