پاکستانتازہ ترین

جمہوریت ہی پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے اسی میں ہی ملک کی بقا ہے ،وزیراعظم

اسلام آباد﴿بیورو رپورٹ﴾ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ جمہوریت ہی پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے اور اسی میں ہی ملک کی بقا ہے بلوچستان کا مسئلہ سابق حکومتوں کی غلط پالیسیوںکا شاخسانہ ہے ، مسئلے کو افہام وتفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں ،بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں ان کی محرومیوں کا ازالہ کرینگے ، آئندہ انتخابات میں ہماری خواہش ہے کہ آئندہ انتخابات میں بلوچستان کے تمام سیاسی جماعتیں حصہ لیں جلد ہی جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا ، نگران حکومت کے قیام اور اہم قومی معاملات پر اپوزیشن سے مذاکرات کے قائل ہیں ، توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں ڈرون حملوں کو ملکی خود مختاری کیخلاف سمجھتے ہیں ، امریکہ پر واضح کردیا ہے کہ ملک کی سلامتی کیخلاف کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا ، نیٹو سپلائی کی بندش سے دہشتگردی کیخلاف جنگ متاثر ہونے کا خدشہ تھا ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے کنونشن سنٹر اسلام آباد میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہو ں نے کہا کہ میں وطن عزیز کے 66ویں یوم آزادی کے پرمسرت موقع پر تمام اہل وطن اور سمندر پار پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔یہ وہ دن ہے جب برصغیر کے مسلمان قائداعظم کی رہنمائی میں آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔تحریک آزادی جمہوری اور آئینی جدوجہد کی ایک عمدہ اور عظیم مثال ہے جس نے اقوام عالم پر ثابت کردیا کہ جمہوریت مسلمانوں کے خون میں رچی بسی ہے۔ جمہوریت بہترین طرز حکومت ہے اور پاکستان کے تمام مسائل کا حل اور ملک کی بقائ اسی سے ہی وابستہ ہے۔ ہمارے قائدین شہید ذوالفقار علی بھٹو اورمحترمہ بے نظیر بھٹوشہید نے پاکستان میں جمہوریت اور عوامی حقوق کی بحالی کے لئے بے مثال جدوجہد کی اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک میںجمہوریت کی شمع روشن کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے گذشتہ چار سالوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور خداکے فضل و کرم سے آج ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہیں۔اس کامیابی کا سہراصدر  آصف علی زرداری کی بصیرت افروز قیادت کو دینا بے جا نہ ہوگا انہوں نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ موجودہ جمہوری حکومت نے وطن عزیز میں سیاسی، معاشی اورمعاشرتی ترقی کے کئی اہم اہداف حاصل کئے ہیں جن کی بدولت ملک کی معیشت کو سہارا ملا ۔ پچھلے چار سالوں میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کاحجم416  ارب روپے سے بڑھ کر 873 ارب روپے کی سطح پرپہنچ گیا اور بیرونی ممالک سے ترسیلات زر 13 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق ایک متوسط طبقے سے ہے۔ میں پیپلز پارٹی کا ایک ادنیٰ کارکن ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور پیپلز پارٹی کی مہربانی کہ انہوں نے مجھ جیسے ٰکارکن کو وزیراعظم کے اعلیٰ منصب کیلئے منتخب کیا۔ میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا اورمجھے اس منصب کے قابل سمجھا۔میں نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالتے ہی اپنے لئے چند ترجیحات متعین کیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان ترجیحات پر عمل درآمد سے ملک میں پائیدار ترقی کی بنیادیں استوار ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ پچھلی حکومتوں کی غیردانشمندانہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔بلوچستان کے عوام امن پسند اورمحب وطن پاکستانی ہیں۔ چند مٹھی بھر ملک دشمن عناصر اور بیرونی قوتوں کی ریشہ دوانیوںکی وجہ سے صوبے میں کشمکش کی فضائ پیدا ہوگئی ہے جو باعث تشویش ہے۔ صدر آصف علی زرداری بلوچ عوام سے پہلے ہی معافی مانگ چکے ہیں۔ ہم نے بلوچستان کا احساسِ محرومی ختم کرنے کے لئے آغاز حقوق بلوچستان متعارف کروایا اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبے کے مالی وسائل میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔نیز بلوچی نوجوانوں کی پانچ ہزار نوکریوں کے مالی اخراجات تین سال کی بجائے  5 سال تک وفاقی حکومت برداشت کرے گی اور ڈیرہ بگٹی سے بے گھرہونے والے افراد کی بحالی کیلئے ایک ارب روپے کی رقم بھی مختص کی گئی ہے۔ بلوچستان کا ڈومیسائل رکھنے والوں کی وفاقی ملازمتوں میںبھرتی پر پابندی اٹھا لی گئی ہے اور بلوچستان کے ذہین طلبائ کیلئے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم کا اہتمام کیا گیاہے۔ گوادر بندرگاہ کو چلانے کیلئے گوادر، رتو ڈیرو ہائی وے کو ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کرنے کے انتظامات کئے گئے۔ میں نے کچھی کینال کے لئے 6 ارب روپے کی فوری فراہمی کا حکم دیا ہے اورحکومت نے ایک کورین کمپنی سے کوئٹہ میں 300 میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ بلوچستان کی انتظامی استعداد کو مزید فعال بنانے کے لئے حکومت نے حال ہی میں اہل اور قابل افسران کی بلوچستان میں تعیناتی کے لئے ایک جامع پالیسی مرتب کی ہے۔حکومت نے ایک 5رکنی کابینہ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے قابل عمل تجاویز دے گیئیںہم نے ناراض بلوچوں کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے تاکہ تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکے۔ ہماری خواہش ہے کہ آئندہ انتخابات میں بلوچستان کی تمام سیاسی پارٹیاں بھرپور طریقے سے حصہ لیں۔ دہشت گردی ایک چیلنج ہے اور ہم نے اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ
نے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ہم نے اپنی مضبوط قوت ارادی سے دہشت گردوں کو پسپائی پر مجبور کیا اور   انشا ئ اللہ بہت جلد اس برائی کو مکمل طور پر ختم کر کے ملک میں امن و امان کو یقینی بنائیں گے۔میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج اور قانون نافد کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوںجنہوں نے مشکل حالات میں بے مثال جرات کا مظاہرہ کیا اور بے پناہ قربانیاں دے کر ملک و قوم کی سا لمیت کے لئے غیر معمولی خدمات سر انجام دیں۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے حالات سے حکومت بخوبی آگاہ ہے اور وہاں پر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے نہایت سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تمام محب وطن قوتیں اس مسئلے کے حل میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں گی۔ خلوص نیت سے کی گئی کوششیں یقیناً بارآور ثابت ہوں گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کاعہدہ سنبھالتے ہی پہلے ہی دن توانائی بحران پر میٹنگ کی اور ملک میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کا جائزہ لیا۔ موجودہ حکومت نے ورثے میں ملے ہوئے اس بحران کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کیں اور اب تک3500 میگاواٹ سے زیادہ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو چکی ہے۔حکومت نے صارفین کے بوجھ کو کم کرنے کیلئے گزشتہ چار سالوں میں مجموعی طور پربجلی کی مد میں 1200 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے۔ہم نے بجلی کی کھپت اور پیداوار کے درمیان موجودہ فرق کو دور کرنے کے لئے قلیل ، وسط اور طویل مدتی منصوبے متعارف کروائے ہیںجن کی تکمیل سے صارفین کو ارزاں نرخوں پر مناسب مقدار میں بجلی میسر آئے گی۔ہم غیر روایتی ذرائع جیسے شمسی توانائی اور ہوا وغیرہ سے بجلی پیدا کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔حال ہی میں مشترکہ مفادات کی کونسل کی میٹنگ میں ایک خصوصی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے جو ہر صوبے سے ایک ٹیکنیکل ماہر اور چیف سیکریٹری پر مشتمل ہو گی ۔یہ کمیٹی تمام صوبوں میںبجلی کی منصفانہ تقسیم اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں تجاویز مرتب کرے گی تاکہ اس سلسلے میں صوبوں کی شکایات کا ازالہ ہوسکے۔میں نے حال ہی میں تھرکول پرا جیکٹ کا دورہ کیا اور وہاں پر کوئلے کے وسیع ذخائر کو استعمال میں لانے کے انتظامات کا بذات خود جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ماضی میں اس قومی دولت کو نظر انداز کر کے مجرمانہ غفلت برتی گئی ہے۔پاکستان میں تھر کے علاقے میں 175 ارب ٹن کوئلہ کے ذخائر ہیںجن کو استعمال میں لانے کی ترجیحی بنیادوں پر منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔تجویز ہے کہ کوئلے کی کانوں کے دہانوں پر ہی مختلف پیداواری صلاحیت کے حامل پاور پلانٹ لگائے جائیں ۔ تھر کے ذخائرکو ترقی دینے سے پاکستان معاشی خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گا اور بیرونی دنیا کیلئے ایک قابل تقلید مثال بن جائے گا جہاں سرمایہ کاری اور روزگارکی فراوانی ہوگی۔تھر کوئلے کے ذخائر کی ترقی سے ہی پاکستان کامعاشی مستقبل وابستہ ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کئی اہم اقدامات کئے ہیں جن میں قومی اسمبلی سے اقلیتوں کے بارے میں بل کی منظوری، قومی اسمبلی اورسینٹ میں اقلیتوں کی موثر نمائندگی، 11 اگست کو اقلیتوں کا دن منانا، اقلیتوں کیلئے سرکاری ملازمتوں میں خصوصی کوٹہ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحالی ایکٹ 2010ئ کے ذریعے برخاست شدہ ملازمین کی بحالی کو یقینی بنایا۔ اسی طرح ہم نے صنعتی تعلقات ایکٹ 2012ئ نافذ کیا اور اولڈ ایج پنشن میں اضافہ کیا۔ اسرکاری اداروں میں مزدوروں کو حصہ دار بنایا گیا اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں نامزدگی جیسے اقدامات سے مزدور طبقے کی فلاح و بہبود اور ان کو بااختیار بنانے میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔حکومت نے اب تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مجموعی طور پر 150 فیصد کے قریب اضافہ کرکے ان کی مالی حالت کو مستحکم کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی کامیاب زرعی پالیسیوں کی بدولت ملک نے گندم کی پیداوار میں خود کفالت کی منزل حاصل کی ہے اور پاکستان آج ایک گندم درآمد کرنے کے بجائے گندم برآمد کرنے والا ملک بن چکاہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کو بااختیار بنانے میں یقین رکھتی ہے۔ حکومت نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کو یکساں مواقع فراہم کرنے کیلئے اہم اقدامات کئے ہیں اور ان کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کیا ہے۔ قائد اعظم کا ارشاد ہے کہ ’’کوئی بھی قوم عظمت کی بلندیوں کو اس وقت تک نہیں چھو سکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ نہ کھڑی ہوں‘‘۔انہو ن نین کہا کہ عوام اپنے فیصلوں میں خودمختار نہیں ہوتے ملک میںعوامی حقوق کی بحالی اور حقیقی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کا آغاز کیا۔ کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ کیا اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعہ صوبوں کے مالی وسائل میں خاطر خواہ اضافہ کیا ۔ خیبرپختونخوا کے عوام کو شناخت اور گلگت بلتستان کو داخلی خودمختاری دی ۔ ہم نے ایف سی آر میںبھی اصلاحات کیںاور قبائلی علاقوں میں پولیٹکل پارٹیز ایکٹ نافد کیا تاکہ قبائلی عوام بھی قومی دھارے میں شامل ہو کر جمہوری انداز میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کسی بھی جمہوری نظام میں اپوزیشن کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ہم اپوزیشن کے مثبت کردار کو اہمیت دیتے ہیں۔ آئندہ انتخابات کو غیرجانبدار اور ش
فاف انداز میں منعقد کرنے کیلئے ہم اپوزیشن کو اعتماد میں لے رہے ہیںجس کی ابتدائ ہم نے غیرجانبدار الیکشن کمشنر کی متفقہ تقرری سے کی ہے۔ ہم غیرجانبدار اور شفاف الیکشن چاہتے ہیں تاکہ اقتدار جمہوری انداز میں منتقل ہو جو ملک میں جمہوریت کے تسلسل کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ انشائ اللہ آئندہ انتخابات میں ملک کی تمام سیاسی جماعتیں بھرپور انداز میں حصہ لیں گی اور جمہوری عمل کے تسلسل کیلئے اپنا کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہاکہ چین ہمارا قریبی اور بااعتماد دوست ہے اور اس سے تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں۔ ہم خطے میں امن اور خوشحالی کی خاطر بھارت کے ساتھ خوشگوارتعلقات چاہتے ہیں اور تمام متنازعہ امور بشمول مسئلہ کشمیر بات چیت اور افہام تفہیم سے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ ہمارے نزدیک مذاکرات ہی مسائل کے حل کابہترین ذریعہ ہیں۔ ہم نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کاآغاز کیاہے تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے مستفید ہوں۔اس اہم پیشرفت سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان پائیدار دوستی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔تقریب میں چودھری شجاعت حسین، ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزرا، اعلی سول و فوجی حکام اور غیر ملکی سفارت کار بھی موجود تھے۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ وزیر اعظم کی تقریر کے بعد یوم آزادی کے حوالے سے طلبا و طالبات نے وحدت ملی سے بھر پور رنگا رنگ پروگرام پیش کئے۔ علاقائی لباس میں ملبوس طلبا و طالبات نے ملکی وحدت، اخوت، اور بھائی چارے کے حوالے سے دلوں کو گرما دینے والے ملی نغمے پیش کیے۔ تقریب کے آخر میں وزیر اعظم نے غیر ملکی سفارت کاروں، اعلی سول و فوجی حکام اور دیگر مہمانوں کے ساتھ مصافحہ کیا اور انہیں یوم آزادی کی مبارکبار دی۔

یہ بھی پڑھیں  سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا امریکہ کو پیغام

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker