تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

میڈیا فحاشی پھیلانے سے باز رہے

آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی کی اہلیہ اور بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کی چیئر پرسن سونیا گاندھی نے چند برس قبل ’’جدید جنگ اور ہم ‘‘کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری ثقافتی یلغار نے پاکستا ن کی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں ۔بھارت نے اس یلغار کے ذریعے ایک ایسی جنگ جیت لی ہے جو ہتھیاروں سے جیتنی ناممکن تھی۔پی ٹی وی ہمارے مذہبی رقص دکھا کر ہمارا کام آسان کر رہا ہے ۔پاکستانی بچہ بچہ بھارتی ثقافت کا دلدادہ ہو کر رہ گیا ہے۔جنگوں کی حکمت عملی تبدیل ہو چکی ہے۔اب سرحدوں پر لڑائی نہیں ہوتی بلکہ یہ نظریاتی جنگوں کا دور ہے۔اب ہمیں پاکستان کو ہتھیاروں کا نشانہ نہیں بنانا پڑے گا بلکہ کچھ عرصہ بعد ایک دھکے سے ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔بلاشبہ ہمارے ٹی وی چینلوں پر جس قسم کے پروگرامز پیش کیے جا رہے ہیں اور جس کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے۔یہ ہماری نوجوان نسل کو تباہ و برباد کر کے رکھ دے گا۔۔پرنٹ میڈیا بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا۔چھوٹا بڑا اخبار ایسی ایسی تصاویر شائع کرتا ہے جس کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ بعض ٹی وی چینلوں نے حد مکا دی ہے وہ بھارتی ٹی وی چینلوں کو بھی مات کرتے جا رہے ہیں ۔حالت جہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب بوڑھے خواتین و مرد بھی اخلاق بافتہ پروگرامز بڑے انہماک سے دیکھتے ہیں اور ٹی وی انتظامیہ کو داد دیتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا ہے کہ بھارتی فنکار اب انہیں ہیچ نظر آنے لگے ہیں۔
یقین جانیے کہ زیادہ تر پروگرامز ایسے ہیں کہ بھائی بہنوں کے ساتھ اور باپ بیٹیوں کے ہمراہ نہیں دیکھ سکتے لیکن اب یہ زہر بڑی سرعت سے ان میں بھی سرائت کرتا نظر آرہا ہے ۔سابق صدر ضیاء الحق شہید کے دور اقتدار کے سوا سب نے اعتدال پسندی کی آڑ میں فحاشی کو فروغ دیا ہے۔جنرل ضیاء الحق مرحوم کے گیارہ سالوں میں ٹی وی چینلوں پر فلمی پروگرامز بالکل بند کر دیے گئے تھے اور تاریخی ڈرامے پیش کیے جاتے تھے۔جو نئی نسل کے خون کو گرماتے تھے۔جس سے دشمن اور دوست کی تمیز اجاگر ہوتی تھی۔مزید یہ کہ لیڈی اینکرز کے سروں پر دوپٹے پہنا دیے گئے تھے اور ایسے پروگرامزجس سے کردار میں کج آنے کا اندیشہ ہو پیش نہیں کیے جاتے تھے۔اب تو غدر مچ گیا ہے جہاں نہ صرف روز بروز ٹی وی چینلوں ،اخبارات اور ریڈیو اسٹیشنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔وہاں فحاشی کی شرح بھی بڑھتی ہوئی نظر آنے لگی ہے۔ایسے ایسے گیت،گانے اور غزلیں سننے کو ملتی ہیں کہ اس بارے کیا کیا نہ کہاجائے۔میڈیائی اداروں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے پروگرامز پیش نہ کریں تو عوام کی تشفی ہی نہیں ہوتی اور وہ تنقید کرتے نہیں تھکتے ہر ٹیلی فون کالز میں کہا جاتا ہے کہ فلاں پروگرام میں فلاں فلاں کی کمی رہ گئی ہے اس کو مزید بہتر بنانے کی سعی و کوشش کی جائے۔سامعین و ناظرین کی زیادہ ترتعداد اخلاق بافتہ پروگرامزکو پسند کرتی ہے ۔لہٰذا انہیں بھی اپنے اداروں کی بلے بلے کرانے کے لیے مرچ مصالحہ لگا کرپروگرامز پیش کرنا پڑتے ہیں ۔ہمارے بعض ٹی وی چینلوں پر بھارتی چینلوں سے بڑھ کر لچر قسم کے پروگرامزپیش کر کے اپنے وقار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
یہ ٹھوس حقیقت ہے کہ ہماری نوجوان نسل کے طور اطوار بدلے بدلے سے لگتے ہیں ان میں غیرت ماند پڑتی جا رہی ہے جو چند دوہائیوں پہلے کے نوجوانوں میں تھی۔سونیا گاندھی کا یہ کہنا بر حقیقت ہے کہ اب انہیں پاکستان کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے جنگی ہتھیاروں سے کام نہیں لینا پڑے گا۔بلکہ ان کا کلچر ہی انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دے گا۔نہ جانے ہمارے علمائے کرام،مذہبی دانشور ،مفکرین اور مذہبی اور اسلامی تنظیمیں کہاں سو گئی ہیں ۔ایک دور ایسا بھی تھا جب کبھی بھولے سے ٹی وی پر کوئی غیر معمولی پروگرام جس میں ڈانس اور غیر اخلاقی حرکات شامل ہوتیں۔ٹی وی اسٹیشن کا گھیراؤ کر لیا جاتا اور انتظامیہ مجبور ہو کر اپنا قبلہ درست کر لیتی ۔بعض لچر قسم کے ڈانسروں اور اداکاراؤں کا قتل بھی ہوا۔اب لگتا ہے جیسے ہمارے مذہبی اسلامی اور فکری طبقے کو سانپ سونگھ گیا ہے کہ وہ اپنا احتجاج بھی ریکارڈ نہیں کرواتے۔ہمارے حکمران تو ویسے ہی اس قسم کے کلچر کے دلدادہ ہیں ان کے ہوتے ہوئے ہمارا بلبلانا بھی بے سود ہو گا۔پرویز مشرف نے ابتداء کی اور آصف علی زرداری نے انتہا کر دی۔اب معاملہ گڑ بڑ ہو چکا ہے۔کیونکہ ان کے منشور میں شہری آزادی کے معاملات میں ہر نوع کی آزادی ہے۔اب بھی ہمارے علمائے دین اسلامی مفکرین ،دانشور اور محب وطن صحافیوں نے اس بارے میں آواز بلند نہ کی تو ہمارا کل بڑا ہی تشویشناک ،ہولناک اور خطرناک ہو گا۔جواہر لال نہرو کی روح خوشی سے کھلکھلائے گی۔جب کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی روح سٹپٹائے گی۔ہماری مسلم لیگ ن کے سربراہ کے خیالات تو یہ ہیں کہ رائیونڈ کے عمرہ جاتی کو بھارتی جاتی عمرہ کے ساتھ اس طرح ملا دیا جائے کہ پاک بھارت ایک ہو جائے چونکہ انہیں بھی بھارتی حسینائیں پسند ہیں۔
’’کون بنے گا میرا پتی‘‘ یہ سب سے بڑا بے حیائی و بے شرمی کا پروگرام جس پر حکومت وقت نے خوش ہو کر حکومتی اعزاز سے نوازا ہے۔اس سے اندازہ کر لیجیے کہ ہم سیدھے دوزخ میں جانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  بھارتی سپریم کورٹ نے سلمان خان کی سزا بحال کر دی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker