تازہ ترینکالممحمد علی رانا

رمضان آ رہا ہے

aliگوداموں کی صاف ستھرائی کے ساتھ ساتھ انہیں کشادہ کرنے کے دن آگئے ۔یورپ کے رہنے والوں میں عقل اور شعور نام کے جراثیم ذرا برابر بھی نہیں وہ لوگ اپنے تہواروں خصوصی طور پر کرسمس کے موقع پر اشیائے خوردو نوش اور ضروریاتِ زندگی کی تمام اشیاء میں نمایا ں کمی کر دیتے ہیں جو کِسی صورت عقلمندانہ فیصلہ نہیں۔۔۔ مشتری ہو شیار باش ! مالِ غنیمت جمع کرنے کیلئے خاص قسم کی حکمتِ عملی اپنالی جائے۔ہم اپنی قسمت ہر سال کی طرح اِمسال بھی خوب چمکائیں گے۔سر پر سفید نیل سے چمکتی اور عطر سے معطر ٹوپی ہوگی ،لباس بھی خوب اجلا اور بے داغ زیبِ تن ہوگا،پانچوں وقت جبیں بھی سجدہ ریز کریں گے ،منہ میں روزہ تو ہوگا ہی’’ہاتھ میں تسبیح بگل میں مُصَلّیٰ‘‘جہاں سامانِ آخرت جمع کر رہے ہوں گے وہاں اگر چند ماہ کا سامانِ دنیا(مالِ غنیمت) بھی سمیٹ کر جمع کر لیں گے تو اِس میں حرج ہی کیا ہے۔
ماہِ رمضان میں ایک منافع بخش کاروبار گدا گری(بھیک مانگنا )بھی ہے ۔جتنا جلدی ہو سکتا ہے اپنے اثرو رسوخ کے ذریعے جلد از جلد اپنی جگہ بُک کر وا لیں قبل اِس کے ، کہ تمام سگنل، فوٹ پاتھ ،مارکٹیں،پارکوں وغیرہ پر بیرونِ شہر سے آنے والوں کا قبضہ ہو مقامی لوگوں کا پہلے حق بنتا ہے۔’’گزشتہ سال گدا گری ایکٹ کے تحت بھیک مانگتے ہوئے گرفتار ہونے والے خواجہ سرا بھکاری نے عدالت میں جج کو بتا یا تھا کہ رمضان المبارک میں دیگر تقریبات، فنکشن ،شادی بیاہ کی پارٹیاں وغیرہ نہیں ہوتیں اِس لیے مجبوراً ہمیں بھیک مانگنا پڑتی ہے‘‘۔اگر خدا نہ خواستہ آپ کو اپنا بھیک مانگنے کا ذاتی کاروبار کرنے کیلئے کوئی ٹھکانہ نہ ملے تو آپ کو ماہِ رمضان میں ہر نماز دوسری یا تیسری صف میں پڑھنی ہوگی اور نماز کے اختتام پر فوراً قبل از دعا کھڑے ہو کر چند مجبوریاں گنوائیں اللہ عزوجل کے گھر میں کھڑے ہو کر اللہ سے نہیں اللہ کے بندوں سے مانگیں ،دنیاوی کاروبار میں ترقی ہوگی ، بس آپ کے پاس بھی خواجہ سرا جیسے پختہ دلائل ہونے چاہیں۔
امسال بھی بیشمار دردِ دِل رکھنے والے گمنام سخی لاکھوں کے راشن کے ہمراہ کئی زاویوں سے مختلف خوش رنگ لباس زیبِ تن کر کے تصاویر بنوا ئیں گے اورپورے رمضان مختلف اخبارات میں یہی رنگین تصاویر شائع ہوتی رہیں گیں ۔بلاشبہ ماہِ رمضان میں شیطان قید ہوجا تاہے مگر اپنے تربیت یافتہ چیلوں جنہیں پورے گیارہ ماہ کی ٹریننگ بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ دی جاتی ہے اپنا نائب بنا کر چھوڑ جاتا ہے۔ بچت بازار کے اسٹال مالکان کو سستی اشیاء فراہم کی جائیں گیں ۔یقیناًاِن اسٹال مالکان کی ایک آدھ پرچون یا فروٹ کی ذاتی دوکان بھی ہوگی۔ اب اگر وہاں بھی یہ سستا سامان پہنچا یا جاتا ہے تو اِس میں کوئی حرج تو نہیں ۔
وقتِ افطار کیلئے کثیر تعداد میں لیمن جوس کےArtificial Flavor مجبوری کے تحت مارکیٹ میں آ چکے ہیں کیونکہ اصل اور خالص لیموں کا رس ڈش واش سوپ میں استعمال ہونا ہے۔ بات ماہِ رمضان کی ہو رہی ہے تو اِس حوالے سے ایک اور اہم بات گوش گزار کر تا چلوں کے رات عشاء کے بعد اللہ والے جب نمازِ تراویح میں مشغول سر سے پاؤں تک پسینے میں تر قرآن پاک کی تلاوت کا میٹھا میٹھا رس کانوں میں گھول چکے ہوں گے تو سارے دن کی گئی عین وِتروں کے وقت اچانک لائٹ آئے گی تو پسینے سے نچڑتے ہوئے کپڑوں سے ہوتی ہوئی بھیگے جسموں کو جب پنکھوں کی ACسے بھی ٹھنڈی ہوا چھوئے گی تو سارے دِن کے کام کی تکان اور روزے کی شدت کا احساس سیکنڈوں میں دھواں ہو جائے گا۔
یہ کریڈٹ بھی واپڈا( نیپرا)کو ہی جائے گا کے اِس ہی کی بدولت ماہِ رمضان کی ہر بابرکت رات میں غریب عوام کا رت جگا ہوگا اور صبح روزے کی حالت میں محنت مزدوری کیلے جائیں گے۔بے شک کِسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ اِس کی رات دِن کی محنت سے با خوبی لگایا جاسکتا ہے۔
حدیثِ مبارکہ ہے کہ تاجدارِ مدینہ منورہ ؛سلطانِ مکہ مکرمہ ﷺنے صحابہ اکرامؓ سے استفسارکیا:’’کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟‘‘صحابہ اکرام نے عرض کی ’’یا رسول اللہ ﷺ! ہم میں سے مفلس وہ ہے جِس کے پاس درہم دنیاوی سامان نہ ہو‘‘تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’میری اُمت میں مفلس ترین وہ شخص ہے جو قیامت کے دِن نماز ،روزہ ،زکواۃ تو لے کر آئے گا مگر ساتھ ہی کِسی کو گالی بھی دی ہوگی،کِسی کو تہمت لگائی ہوگی،اُس کا مال نا حق کھایا ہوگا،اُس کا خون بہایا ہوگا،اُس کو مارا ہوگا،پس اِن سب گناہوں کے بدلے میں اِس کی نیکیاں لی جائیں گی ،پس اگر اُس کی نیکیاں ختم ہو جائیں اور مزید حقدار باقی ہوں تو ان (مظلوموں ) کے گناہ لے کر بدلے میں اس (ظالم) پر ڈالے جائیں گے ، پھر اس شخص (ظالم) کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ صحیح مسلم شریف حوالہ (ص۱۴۹۳؛حدیث :۲۵۸۱)

 

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button