تازہ ترینحافظ جاوید الرحمنکالم

احکام مسائل رمضان المبارک

رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ رمضان المبارک شروع ہو چکا اس رمضان کو کو اس طرح گزاریں کہ ہمارے سارے گناہ معاف ہو ں اس کے لیے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی اور پیارے ملک پاکستان اور تمام مسلمانوں کیلئے خیر و عافیت کی دعائیں مانگنی چاہیے۔

رمضان کی فرضیت:
رمضان بہت بابرکت مہینا ہے اور اس کے روزے مسلمانوں پر فرض کیے گئے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔
ترجمہ:’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے تا کہ تم بچ جائو‘‘ ﴿ البقرہ۳۸۱﴾
جو آدمی تندرست ہے اسے رمضان کے روزے رکھنے چاہیے۔
رسول اللہ ö نے پانچ چیزوں کو اسلام کی بنیاد قرار دیا ہے۔ سید نا عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے﴿ 1 ﴾ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبوہ حقیقی نہیں اور محمد ﴿ ö﴾ اللہ کے رسول ہیں۔ 2﴾ نماز قائم کرنا۔3﴾ زکوۃٰ ادا کرنا۔﴿4﴾ حج کرنا ۔﴿5﴾ اور رمضان کے روزے رکھنا﴿ بخاری﴾
رمضان کی فضیلت
رمضان کا مہینا مسلمانوں کے لیے گناہوں کی معافی اور جنت میں داخلہ کی خوشخبری لے کر آتا ہے سید نا ابو ہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ö نے فرمایا : جب رمضان کا مہینا آتا ہے تو آسمان ﴿یعنی جنت﴾ کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیرون میں جکڑ دیا جاتا ہے ﴿ بخاری﴾
رمضان اوردوسرے اسلامی شعائر کا احترام کرنے والے اور ان پر عمل پیرا ہونے والے کو رسول اللہ ö نے جنت کی بشارت دی ہے ۔ سیدناابو ہریرہ(رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم ö کے پاس آیا اور کہا ’ کسی ایسے عمل کے بارے میں میری رہنمائی کیجیے کہ جب میں وہ عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جائوں ؟ رسول اللہ ö نے فرمایا تو اللہ کی عبادت کر، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا ور فرض نماز قائم کر اور فرض زکوۃ ادا رکر اور رمضان کے روزے رکھ۔ اس آدمی نے کہا اس ذات کی قسم ، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان کاموں میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کروں گا ۔ تو جب وہ واپس چل دیا تو نبی اکرم ö نے فرمایا جسے یہ بات اچھی لگے کہ اہل جنت میں سے کسی آدمی کو دیکھے تو وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔
رمضان کی آمد پر ایک مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کرے اور خالص اللہ تعالیٰ رضامندی کے لیے روزے رکھے۔ سید نا ابو ہریرہ(رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ö نے فرمایا ’’ جس نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں اور خالص اللہ تعالیٰ رضا مندی کو حاصل کرنے کے لیے رکھے اس کے پہلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ ﴿ بخاری﴾
رمضان کا مہینہ اتنا با برکت ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ اس مہینے میں عمرہ کرنے کی توفیق دے تو اسے حج کو ثواب عطا فرماتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول للہ نے ایک انصاری عورت سے فرمایا ’’ تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روک دیاہے اس عورت نے کہا ہمارے پانی لانے کے لیے دو اونٹ تھے ایک اونٹ پر میرا خاوند اور میرا بیٹا حج کے لیے چلے گئے اور اونٹ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہم اس پر پانی لاتے ہیں ﴿ یعنی حج کے لیے سواری نہیں ہے﴾ تو آپ نے فرمایا جب رمضان آئے تو اس وقت عمرہ کر لینا ، بے شک اس میں عمرہ کرنا ایسے ہے جیسے میرے ساتھ حج کرنا۔۔۔۔۔﴿ مسلم﴾
رمضان المبارک کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالی اس مبارک مہینے میں جہنم سے لوگوں کو آزاد فرمایتے ہیں اس لیے انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے کمر کس لے۔ سیدنا ابو ہریرہ(رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہö نے فرمایا ’’ جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطان اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی دروازہ کھلانہیں رہتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ایک اعلان کرنے والے منادی کرتا ہے ۔ اے نیکی کے طلب گار! آگے بڑھ اور اسے برائی کے طلب گار! رک جا اور اللہ تعالی جہنم سے لوگوں کو آزاد کرتا ہے ۔
روزوں کی فضیلت:
روزے مسلمانوں کے لیے بڑا اجر وثواب کا باعث ہیں اور قیامت کے دن جب انسان ایک ایک نیکی کا محتاج ہو گا تو یہی روزے ہوں گئے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں انسان کے لیے سفارشی بن کر کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ سے آدمی کی بخشش کی سفارش کریں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہ ö نے فرمایا روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے سفارش کریں گئے روزہ کہے گا اے میرے رب ! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور خواہشات ﴿ پوری کرنے﴾ سے روکے رکھا ، لہذا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما، قرآن کہے گا میں نے اس بندے کو رات کو سونے سے روکے رکھا ﴿ یعنی رات کو جات جاگ کر میرے تلاوت کرتا رہا﴾ لہذا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما، سو دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔۔۔۔۔۔ ﴿ مسند احمد﴾
رمضان کے مہینے میں انسان عبادت میں توانائی کھپاتا ہے اور اس کی راتیں بھی جاگتی ہیں۔ لہذا ان میں قرآن کی تلاوت کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے تا کہ کل قیامت کے دن ہمیں روزوں کے ساتھ ساتھ قرآن کی بھی سفارش نصیب ہو۔
روزے کو اللہ تعالیٰ کے ہاں خصوصی مقام حاصل ہے۔ جو صرف وہی مسلمان حاصل کر سکتا ہے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر روزے رکھتا ہے بلکہ اللہ تعالی نے دوسری عبادات کے مقابلے میں روزے کے اجر کو اپنے ہاں خفیہ رکھا ہے۔ اس لیے روزہ دار کو روزے کے لوازمات اور رمضان میں روزے کے اجر کو اپنے ہاں خفیہ رکھا ہے اس لیے روزہ دار کو روزے کے لوازمات اور رمضان کے تقاضوں کا خصوصی خیال رکھا چاہیے تا کہ اپنے رب کے ہاں پورا پورا اجر وصول کر سکے۔
سید نا ابو ہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ö نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتا ہے ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے ، وہ میرے لیے ہیے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ اس ذات قسم، جس کے ہاتھ میں محمد ﴿ö﴾ کی جان ہے ! یقینا روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ اچھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔﴿ مسلم ﴾
سیدنا سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ö نے فرمایا یقینا جنت میں ایک دروازہ ہے جسے الریان کہا جاتا ہے اس دروازے سے قیامت کے دن صرف روزہ دار ہی گزریں گے ان کے علاوہ کوئی بھی اس سے داخل نہیں ہو سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔﴿بخاری﴾
روزہ نہ رکھنے والے کے لیے وعید
سیدناابو امامہ باہلی(رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ö نے فرمایا ’’ میں سویا ہوا تھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے۔ا نہوں نے مجھے بازوئوں سے پکڑا اور ایک مشکل چڑھائی والے پہاڑ پر لائے۔۔۔۔۔ پھر وہ میرے ساتھ آگے بڑھے جہاں میں نے کچھ لوگ الٹے لٹکے ہوئے دیکھے جن کے منہ کو چیرا گیا ہے اور خون بہ رہا ہے میں پوچھا یہ کو ن لوگ ہیں۔ انہوں نے جواب دیا یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ وقت سے پہلے افطار کر لیا کرتے تھے ﴿ یعنی روزہ نہیں رکھتے تھے اور جب چاہا کھا پی لیا کرتے تھے﴾
رمضان کے احکام و مسائل
استقبال رمضان کے نام پر یا اپنے جسم کو عادی بنانے کے لیے رمضان شروع ہونے سے ایک یادو دن پہلے روزے شروع کر دینے سے رسول اللہ ö نے منع فرمایا ۔ آپ ö نے فرمایا ’’ تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے ﴿ بخاری﴾
چاند دیکھ کر روزے رکھنے چاہیں۔ اور اسی طرح چاند دیکھ کر عید کرنی چاہیے۔ کیونکہ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ روزے مت رکھو، یہاں تک کہ ﴿رمضان کا﴾ چاند دیکھ اور روزے مت چھوڑو، یہاں تک ﴿ شوال کا ﴾ چاند دیکھ لو اور اگر تمہارے اوپر بادل چھا جائیں تو تیس دن پورے کر لو۔۔۔۔۔۔﴿ بخاری﴾
روزے کی نیت ضروری ہے ۔ رسول اللہ ö نے فرمایا ’’ جس شخص نے فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ درست نہ ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔﴿ ابو دائود﴾
رات کو نماز تراویح ادا کرنا اور فجر کے وقت سحری کھانا ہی روزے کی نیت ہے، نیت کے مروجہ الفاض کسی صیحح حدیث سے ثابت نہیں ۔
نماز تراویح کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ رسول اللہ ö نے فرمایا ’’ جس نے ایمان کی حالت میں اور خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کو حاصل کرنے کے لیے رمضان کا قیام کیا تو اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﴿ بخاری﴾
سحری کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ رسول اللہ ö نے فرمایا ’’ ہمارے اور اہل کتاب کے درمیات فرق کرنے والی چیز سحری کا کھا نا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﴿ مسلم﴾
رسول اللہ ö نے فرمایا’’ سحری کا کھانا کھایا کرو، یقینا سحریوں میں برکت ہے۔۔۔۔۔۔۔ ﴿ مسلم ﴾
روزہ سورج غروب ہونے پر افطار کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ö نے فرمایا ’’ جب ادھر سے رات آجائے اور ادھر سے دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کے لیے افطار کا وقت ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔﴿ ابو دائود﴾
جب وقت ہو جائے تو روزہ افطار کرنے میں جلدی کرنی چاہے۔ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ لوگ اس وقت تک ہمیشہ بھلائی میں رہیں گے جب تک روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔﴿ بخاری﴾
روزہ کھجور کے ساتھ افطار کرنا چاہے اگر کھجور میسر نہ ہو تو جو چیز میسر ہو اس سے روزہ افطار کر لینا چاہیے سید نا انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ö نماز مغرب سے پہلے تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے ،اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجور ﴿ چھوہارے﴾ سے افطار کرتے ، یہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کی چند گھونٹ پی لیا کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔﴿ ابو دائود﴾
روزہ افطار کرتے وقت دعا ضرور مانگنی چاہیے، کیونکہ یہ قبولیت کا وقت ہے۔ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ روزے دار کے لیے روزہ افطار کرتے وقت ایک دعا ایسی ہوتی ہے جو رد نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔
﴿ ابن ماجہ﴾
روزہ افطار کروانے کا بہت زیادہ اجر ہے۔ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ جس نے کسی روزہ دار کا روزہ افطار کروایا ، یا کسی غازی کو تیار کیا تو اس کے لیے بھی اس ﴿ اتناہی﴾ اجر ہے۔۔۔۔۔۔۔ ﴿ شرح السنۃ﴾
رمضان میں بہت زیادہ خیرات و صدقات دینے چاہییں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں۔ ’’ رسول اللہ ö لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور مضان کے مہینے میں جبریل (ع) کی ملاقات کے بعد آپ ö اور زیادہ سخی ہو جاتے ، جب جبریل (ع) آپ ö کے ساتھ ملاقات کر لیتے تو آپ ö صدقہ و خیرات میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﴿ نسائی﴾
روزے کی حالت میں سارا دن دعائیں مانگنی چاہییں۔ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی
1 ۔ انصاف کرنے والا حکمران
2 ۔ افطار کرنے تک روزہ دار
3 ۔ اور مظلوم کی دعا ۔۔۔۔۔۔۔﴿ ابن ماجہ﴾
٭ روزہ کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے۔ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ اگر بات نہ ہوتی کہ میں اپنی امت پر مشقت ڈال دوں گا تو میں ہر مرتبہ وضو کے ساتھ انہیں مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﴿ بخاری ، قبل الحدیث﴾
٭ قصداً قے کرنے سے روزہ ٹو ٹ جاتا ہے ۔ رسول اللہ ö نے فرمایا ’’ جب روزہ دار جان بوجھ کر قے کرے تو اس نے روزہ افطار کر دیا اور جب قے خودبخود آئے تو اس نے روزہ افطار نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔﴿ صحیح ابن خزیمۃ﴾
٭ بھول کر کھا پی لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ جب کوئی بھول جائے اور کھا پی لے تو اپنے روزے کو مکمل کرے، کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے۔ ۔۔۔۔۔﴿بخاری﴾
٭ روزے کی حالت میں سرمہ لگایا جاسکتا ہے۔ سید نا انس بن مالک (رض) روزے کی حالت میں سرمہ لگایا کرتے تھے۔
٭ سحری کے دوران میں فجر کی اذان ہو جائے تو اپنی حاجت پوری کر لینی چاہیے۔ رسول للہ ö نے فرمایا ’’ جب تم میں سے کوئی اذان ﴿ فجر﴾ سنے اور برتن ا س کے ہاتھ میں ہو تواسے اپنی ھاجت پوری کیے بغیر نہ رکھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔﴿ ابو دائود﴾
٭ پیاس یا گرمی کی وجہ سے روزہ دار اپنے اوپر پانی ڈال سکتا ہے۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ö کو مقام عروج میں دیکھا ،آپ ö روزے سے تھے اور پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے آپ پر پانی ڈال رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ ﴿ابودائود﴾
٭ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں اگر رمضان کا روزہ رکھنے میں تکلیف محسوس کریں تو وہ رمضان کے علاوہ دوسرے دنون میں روزے رکھ سکتی ہیں۔ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز معاف کر دی ہے اور مسافر، حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزہ یا روزے معاف کر دیے ہیں ﴿ ابن ماجہ﴾
٭ حائضہ عورت روزہ نہیں رکھے گی۔ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ کیا ایسا نہیں کہ جب وہ ﴿ عورت﴾ حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزے رکھتی ہے، یہ اس کے دین کے نقصان میں سے ہے ۔۔۔۔۔﴿ بخاری﴾
٭ سفر میں روزہ رکھا بھی جاسکتا ہے اور چھوڑا بھی جاسکتا ہے۔ سیدنا حمزہ بن عمر و الاسلمی (رض) نے رسول اللہ ö نے سے دریافت کیا’’کیا میں سفر میں روزہ رکھ سکتا ہوں؟ وہ روزے کثرت سے رکھا کرتے تھے ، تو آپ ö نے فرمایا’’ اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر تو چاہے تو چھوڑ دے۔۔۔۔۔۔۔ ﴿ بخاری﴾
٭ اگر کوئی فوت ہو جائے اور اس کے ذمے رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طر ف سے روزے رکھے جائیں گے ۔ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ کوئی بندہ اس حالت میں فوت ہو کہ اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کے طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا۔۔۔۔۔﴿ مسلم﴾
٭ اگر کسی وجہ سے رمضان کے روزے رہ جائیں تو پورے سال اگلا رمضان شروع ہونے سے پہلے قضا ادا کی جاسکتی ہے۔ سید ہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میرے ذمے رمضان کے کچھ روزے تھے تو میں ان کی قضا ئی صرف شعبان میں دے سکی۔۔۔۔۔۔۔۔ ﴿ بخاری﴾
٭ روزے کی حالت میں جھوٹ سے بچنا چاہیے۔ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ جس شخص نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ تعالی کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنے کھانا پینا چھوڑ دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﴿ بخاری﴾
٭ روزے کی حالت میں لغو و بے ہودہ کاموں اور لڑائی جھگڑوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کیونکہ رسول اللہ ö نے فرمایا’’ روزہ صرف کھانے پینے ہی سے ﴿ بچنا﴾ نہیں ہے ، بے شک روزہ تو لغو کاموں ور رفث ﴿ بے ہودہ و فحش﴾ باتوں سے ﴿ بچنا﴾ بھی ہے ۔ سو اگر کوئی تجھے گالی دے ، یا تو تیرے ساتھ جہالت سے پیش آئے تو تجھے کہنا چاہے کہ میں تو روزے سے ہوں، میں تو روزہ دار ہوں۔۔ ﴿ صحیح ابن خزیمۃ﴾
٭ عیدین کے دن روزہ رکھنا منع ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری(رض) بیان کرتے ہیںرسول اللہ öنے عیدالفطر اور قربانی کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ﴿بخاری﴾
٭ آخری عشرے میں عبادت کے لیے کمر کس لینی چاہیے۔ سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں ’’ جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو آپ ö اپنی چارد کس لیتے ﴿ یعنی عبادت کے لیے﴾ تیار ہو جاتے اور راتوں کو بیدار ہوتے اور پنے گھر والوں کو بھی بیدار کر تے ۔۔۔۔۔﴿ بخاری﴾
٭ اعتکاف رمضان کے آخری عشرے میں ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں
’’رسول اللہ ö رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے ہیں۔۔۔۔﴿ مسلم﴾
٭ اعتکاف صرف مسجد میں ہوتا ہے ۔ نافع(رح) بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) نے مسجد کی وہ جگہ دکھا ئی جہاں رسول اللہ ö اعتکاف کیا کرتے تھے۔۔۔۔۔﴿ مسلم﴾
٭ شب قدر کا قیام گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ö نے ارشاد فرمایا’’ جس شخص نے قدر کی رات قیام کیا ایمان کی حالت میں ااور اللہ کی رضا مندی کے حصول کے لیے ، تو اس کے سارے پہلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ﴿بخاری﴾
٭ صدقہ فطر کی بہت زیادہ فضیلت ہے ، اسے ضرور ادا کرنا چاہے۔ ، سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ö نے روزے کو لغو اور نامناسب باتوںسے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کو کھانا کھالنے کے لیے صدقہ فطر مقرر فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔﴿ ابن ماجہ﴾
٭ صدقہ فطر ادا کرنا ہر مسلمان پر الازم ہے ، چاہے بچہ یا غلام ہی کیوں نہ ہوں سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں ۔رسول اللہ ö نے مسلمانوں کے ہر آزاد و غلام ، مرد ،عورت ، اور بچے و بوڑھے پر کھجوروں یا جو میں سے ایک صاع صدقہ فطر دینا لازم کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔﴿ بخاری﴾
٭ صدقہ فطر نماز عید سے قبل ہر صورت ادا کردیناچاہیے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں ’’ رسول اللہ ö نے ہمیں صدقہ فطر کے بارے میں حکم دیا ہے کہ اسے لوگوں کے نماز عید کے لیے نکلنے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جاے۔۔۔۔۔﴿ابودائود﴾
٭ نماز عید کے بعد ادا کیا گیا فطرانہ عام صدقہ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ’’ رسول اللہ ö نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا ، تاکہ روزے کے لیے لغو اور بے ہودہ اقوال و افعال سے پاکیزگی حاصل ہو جائے اور مسکینوں کوطعام حاصل ہو۔ چنانچہ جس نے اسے نماز﴿ عید﴾ سے پہلے ادا کر دیا تو یہ ایسی زکوۃٰ ہے جو قبول کر لی گئی اور جس نے اسے نماز عید کے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے ۔۔۔۔۔۔﴿ ابودائود﴾
٭ صدقہ فطر کی مقدار ایک صاع ہے۔ سیدنا ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ ö نے رمضان میں صدقہ فطر فرض فرمایا، اس طرح کہ ہر مسلمان آزاد ، غلام ، مرد اور عورت کی طرف سے کھجور یا جو کا ایک صاع ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔ ﴿ ابودائود﴾
٭ بہتر یہی ہے کہ صدقہ فطر میں کوئی جنس دی جائے ۔ البتہ اس جنس کے عوض نقدی بھی دی جاسکتی ہے۔ 03334921132

یہ بھی پڑھیں  پشین:سی آئی اے کا غیر قانونی گاڑیوں کیخلاف مہم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker