تازہ ترینکالممرزا عارف رشید

رمضان بازار‘وزیروں اور مشیروں کی دوڑ

رمضان شریف کے آدھے روزے گذرنے کو ہیں ہم ابھی تک رمضان بازار کے ریٹ چیک کررہے ہیں۔جب پورا رمضان شریف گذر جائیگا تو ریٹ خود بہ خود ٹھیک ہو جائیں گے کہ اس وقت غریب رمضان بازار میں جانا جو چھوڑ جائیگا۔پورے پنجاب کے افسران اس وقت رمضان بازار کے چکر کاٹ رہے ہیں اور یہ چیک کررہے ہیں کہ کہیں غریب کوکوئی چیز سستی تو نہیں مل رہی۔اگرکسی دوکاندار نے ریٹ کم کیا ہوا ہوتو اسے بھاری جرمانہ اور گرفتار کرلیا جاتا ہے۔دوسری طرف پورے پنجاب کے وزیرومشیر بیچارے شدید گرمی میں بہت زیادہ محنت کررہے ہیں رمضان بازاروں میں جاکر ایک ایک دکاندار سے ملنا اور پھر ہر چیز کا ریٹ معلوم کرنا اور ان کو یہ بتانا کہ پنجاب حکومت نے اس دفعہ چار ارب روپے کی سبسڈی دی ہے ۔ہمیں تو یوں محسوس ہورہا ہے کہ پنجاب حکومت کے وزیر ومشیر اپنی جماعت کی پبلسٹی کے لئے رمضان بازاروں کا دورہ کررہے ہیں اور اپنا ووٹ بینک بنارہے ہیں۔اس سبسڈی کا غریب کو بھی فائدہ ہورہا ہے یا نہیں ؟ اگر کسی نے ہماری بات پر عمل نہ کیا تو اسے جیل جانا پڑے گا۔وزیروں اور مشیروں کے مارکیٹ کمیٹی کا عملہ بھی ساتھ ہوتا ہے جو پورا سال ہمیں نظر بھی نہیں آتا۔جس ضلع میں وزیروں مشیروں نے ہوتا ہے وہاں ہر ضلع کا ڈی سی او اور اسسٹنٹ کمشنر اور ان کا پورا عملہ بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے مارکیٹ کمیٹی کا چیئرمین جو کہ حکومت کی طرف سے بنایا جاتا ہے وہ بھی ساتھ ہوتا ہے اور یہ ان کو بتاتا ہے کہ کن کن چیزوں پر سبسڈی دی گئی ہے اور کن چیزوں پر ہم عملدرآمد کرارہے ہیں یہ سن کا وزیرومشیر خوش ہو جاتے ہیں اور چیئرمین مارکیٹ کمیٹی کو یہ کہتے ہیں کہ خادم اعلیٰ کو رپورٹ کرنی ہوتی ہے آپ اپنے ضلع کے ڈی سی او کو کہو کے اوپر رپورٹ بنا کر روانہ کردے کہ سب اوکے ہیں۔جس رمضان بازاروں میں وزیروں مشیروں نے آنا ہوتا ہے انکی اچھی طرح صفائیاں کی جاتی ہیں چونے کی لمبی لمبی لائنیں کھینچی جاتی ہیں اور چھڑکائو بھی کیا جاتا ہے کہ کہیں آئے مہمان ناراض نہ ہو جائیں۔اب تو پورے پنجاب میں رمضان بازاروں میں صرف اور صرف وزیر اور مشیر نظر آتے ہیں اگر کوئی شخص ایسے ہی آواز لگا دے ’’اوے وزیربات سن ‘‘ڈر لگتا ہے کہیں اصل ہی نہ آ گئے ہوں۔اس دفعہ رمضان بازار میں غریب بہت خوش نظر آتا ہے کیونکہ وہ پھل خرید تو نہیں سکتا ہاتھ تو لگا سکتا ہے اسے یہی خوشی ہے کہ میں ہاتھ تو لگا سکتا ہے رمضان بازار میں مہنگائی کچھ اس طرح سے ہے کہ کھجور 300روپے ،انگور250روپے،سیب 500کلو،عام سیب 300روپے کلو،آڑو300روپے کلو،آم100روپے کلواسی طرح سبزیوں کے ریٹ بھی کچھ آسمانوں کو چھو رہے ہیں۔تین سو دیہاڑ کمانے والا شخص اپنے بچوں کے لئے کیا لے سکتا ہے اگر تھوڑی تھوڑی چیزیں بھی لے لے تو200 سے 300روپے لگ جاتے ہیں ۔یہ آدمی سو روپے سے اپنا گھر تو نہیں چلاسکتااور ان وقت پنجاب میں جن چیزوں پر سبسڈی دی جارہی ہے ان کی ٹوکریاں خالی نظر آتی ہیں جب بھی دکاندار سے پوچھو تو کہتا ہے ان ٹوکریوں میں پڑافروٹ فروخت ہوچکا ہے۔مجبورا مہنگا فروٹ لینا پڑتا ہے۔وہ چیزیں بھی لینی پڑتی ہیں جن کا ریٹ زیادہ ہوتا ہے فرق بس اتنا ہوتا ہے کہ گھر کے افراد گن کا اشیائ لینی پڑتی ہیں۔انگورکا ریٹ دیکھ انگور گن کر لینے پڑتے ہیں اسی طرح آم،آڑو،سیب بھی گن کر لینے پڑتے ہیں۔کیوں نہ روزہ داروں کیلئے کچھ نہ کچھ تو لے کر جانا پڑتا ہے اگر دوکاندار سے رعایت مانگو تو وہ ایسے دیکھتا ہے جیسے وہ کیلو والا بٹہ اٹھا کر ہمارے سر میں دے مارے گا۔غریب صرف اور صرف دورسے فروٹ دیکھ کر آسکتا ہے۔مگر اپنے بچوں کے لئے لے نہیں سکتا اسے چاہئے کہ وہ پانی سے روزہ رکھ لے اور پانی سے ہی کھول لے کیوںکہ اس کا ثواب تو اللہ تعالیٰ نے دینا ہوتا ہے۔کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں۔پاکستان میں سب سیاستدان اس وقت مصروف ہیں کہ ان کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ غریب عوام کے پاس نظر اٹھا کر دیکھ سکیں اب جب الیکشن نزدیک ہیں اور سب جماعتوں کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں ہر جماعت یہ چاہتی ہے کہ اس دفعہ ہماری حکومت آجائے اور پھرہم مزے کرسکیں۔اس ملک کی 70فیصد غریب آبادی کیلئے کوئی نہیں سوچتا سب سیاست چمکانے میں لگے ہوئے ہیں۔ہر کسی کی زبان پر ایک ہی سوال ہے میں آئو گا اور لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔کچھ سیاسی جماعتیں بھی ہیں جو 9دنوں میں کرپشن ختم کرنے کادعویٰ کرتی ہیں۔ان کے پاس کون سا الہ دین کا چراغ ہے جس سے وہ 9دنوں میں کرپشن ختم کرسکتے ہیں۔اگر پڑھا لکھا سیاستدان ایسی باتیں کریگا تو اس کی سوچ کیا اس کا علم خود ہی ہو جائے گا غریب کو کوئی سروکار نہیں کے کوئی بھی جماعت حکومت کرے۔ایسے تو اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی مل جائے غنیمت ہے۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ: بجلی کی ہائی وولٹیج کی تاروں سے کرنٹ لگنے سے نوجوان ہلاک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker