تازہ ترینساحر قریشیکالم

رمضان المبارک ،مبارک ہو

رب کریم کی طرف سے تمام مسلمانوں کے لئے رمضان المبارک کا مہینہ باعث رحمت ،باعث مغفرت اور باعث نجات کا سامان لے کرآتا ہے۔یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن پاک کا نزول ہوا۔سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۱۸۵میں ارشاد فرمایا گیا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں قرآن نازل ہوا ۔قرآن حکیم نازل تو ۲۳سال کی مدت میں مکمل ہوا۔اور پھر اس کی تفصیر اور تشریح میں بات یہاں تک پہنچی ہے کہ لیلتہ القدر کی ایک رات میں یہ نازل ہوا۔لیلتہ القدر کی رات جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ یہ رات ہزار راتوں کی عبادت سے بہتر ہے۔قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا ذاتی کلام ہے۔ایسا کلام جو غیر مخلوق ہے اور غیر فانی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مبار ک مہینے میں اپنے اس کلام کو اپنی ذات سے ایک ایسے مقام پر نازل فرمایا ہے۔جہاں سے جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا تھا اتنا حضرت جبرائیل علیہ اسلام حاصل کرلیتے تھے اور تاجدار مدینہ کی خدمت عالیٰ میں پہنچا دیتے تھے۔اس مقام سے حضور اکرم(ص) تک پہنچے میں ۲۳سال صرف ہوئے۔ذات باری تعالیٰ سے اس مقام تک پہنچنے میں جووقت لگا وہ لمحہ رمضان المبارک میں تھا۔کلام الٰہی کو پڑھنے اور سننے کے لئے بھی تقدس کی وہ عظمت چاہیے تھی جو کلام الٰہی میں موجود ہے ۔اس کلام اللہ کو رسول اللہ نے وصول کرکے مکمل کیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک(ص) کے ارشاد پاک سننے کیلئے مخلوق میں اہلیت پیدا کی اور اپنے کلام کے تقدس کے لئے اسے مقدص مہینے یعنی رمضان المبارک میں نازل فرمایا۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں رمضان المبارک آتا ہے ۔اور بد قسمت ہیں وہ لوگ جورمضان المبارک میںنیکیوں کا خزانہ سمیٹنے میں محروم رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے صرف نماز ،روزہ،زکوۃ اور حج کی اطاعت نہیں ہے انسان کاتقدس یہ ہے کہ وہ حلال کاموں کواختیار کرے اور حرام کاموں سے رک جائے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اسے چھوڑ دے اور جہاں اجازت دی ہے اسے اختیار کرے ۔آج ہم لوگوں نے مذہب کوبڑی آسانی سے مسجد تک محدود کردیا ہے کہ آئے وضوکیا نماز ادا کی دعامانگی اور چلے گئے ۔مسجد سے باہر نکلتے ہی اکثر کولوگاپنے کاروبار کے سلسلے میں جھوٹ بولتے ہیں ۔ناجائز منافع خوری کرتے ہیں خصوصا رمضان المبارک میں اشیائ خوردنوش میں ملاوٹ بھی کرتے ہیں اور مہنگے داموں فروخت بھی کرتے ہیںبڑی آسانی سے لوگوں کو دھوکہ دیا جاتا ہے ۔اپنے میں غیرحاضر لوگو کی چغلی کو اپنا مشغلہ سمجھتے ہیں ۔لین دین میں غلط بیانی کرکے دوسروں کی حق تلفی کرتے ہیں ۔یہ سب کچھ کرنے کے بعد اگلی اذان سنی اور پھر نماز کے لئت مسجد میں آگئے ۔بہت سے صاحب اسطاعت لوگ حج وعمرہ کی سعادت بھی حاصل کرتے ہیں اور پانچ وقت کی نماز پڑھنے کے لئے سر پر ٹوپی پہنے ہاتھ میں تسبیح پکڑی اورآتے جاتے دوسروں کوباآوازبلند نماز کی ادائیگی کے بارے میں کہتے ہیں۔لیکن فراغت کے بعد وہی دنیاوی دندھے میں ہیرا پھیری شروع کر دیتے ہیں۔میرا یہ سب کچھ کہنے کا مقصد تو بہ نعوذبااللہ نماز سے روکنا نہیں ہے۔بلکہ کہنے کا مقصد تو یہ ہے کہ نماز تو تمام برے کاموں سے روکتی ہے ۔مگر کیا ہم چوبیس گھنٹے میں صرف ایک گھنٹے کے لئے مسلمان ہوجاتے ہیں؟کیونکہ پانچ وقت کی نماز وں کی ادائیگی میں تقریبا ایک گھنٹہ ہی لگتا ہے ۔باقی 23گھنٹے اپنے ذاتی کاروبار اور گھریلوذمہ داریوں میں بڑی بے دردی سے استعمال کرکے صرف نام کے ہی مسلمان ہوتے جا رہے ہیں ۔اللہ کریم نے مسلمانوں پر ایک بہت بڑے احسان کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے کہ میں﴿اللہ تعالیٰ﴾تجھے اپنے اور قریب کرتا ہوں ،میں تمھاری مشکلیں آسان کرتا ہوں ۔رمضان المبارک کا چاند نمودار ہونے سے لے کراگلے چاند کے نمودارہونے تک پورا مہینہ چھوٹے بڑے تمام شیطانوں کوقید کردیتا ہوں۔پھر یہ تم شیطانی کام کیوں کرتے ہو۔بعض انسان اپنے آپکوشیطانوں کے درجے تک پہنچا لیتے ہیںاور شیطان کے ساتھ اپنی نسبت پیدا کرلیتے ہیں۔پھر انہیں رمضان المبارک کا بھی احترام نہیں ہوتا۔نیکی ان کے مزاج میں نہیں رہتی وہ خود بھی بڑائی کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی کرواتے ہیں ۔یاد رکھئے رمضان کے مہینے میں ہرنیکی کا ثواب کم ازکم ستر 70گنازیادہ ہوتا ہے۔یعنی تم ایک رکعت پڑھوگے توستررکعتوں کا ثواب ملے گا۔رمضان المبارک کے مہینے میں تمام عبادات کے درجے بڑھا دئیے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کاارشاد پاک ہے کہ رمضان المبارک میں طلوع فجر سے لے کرغروب آفتاب تک میں ہوں اور تم ہوتمام دن بھوک اور پیاس میں اور تمام حلال نفسانی خواہشات کے ضبط کا اجر میرے پاس ہے ۔آج تمام مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ اس رمضان المبارک کواپنی زندگی میں پاکر اپنی خوش نصیبی سمجھیں اور ان تمام برائیوں سے توبہ کریں جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول نے منع فرمایا ہے۔ہوسکے تو اپنے مسلمان بہن بھائیوںسے پیار محبت سے رہیں اور ان کا دل نہ دکھائیں اورمبار ک مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کریںاوربرائی کے کاموں سے بچنے کے لئے اللہ کے حضور سجدہ ریزرہیں۔کیا پتہ ہماری زندگی میںاگلی بار رمضان کا مہینہ آتا ہے یا نہیں جیسے کچھ ہمارے عزیز رشتہ دار اور دوست احباب اس بار رمضان کے مہینے میں ہم میں نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے اعمال کے ذریعے اپنی اگلی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کریں ۔اگر ہماری مغفرت ہوجاتی ہے تو اس دنیا میں آنے کا مقصد بھی پورا ہوجائے گا۔اور حضور اکرم (ص)کے وسیلہ سے جنت میں بھی پہنچ جائ

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:مساجد اور مدارس اسلام کے قلعے ہیں ۔ سلمان حنیف ایم این اے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker