شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / استقبالِ رمضان المبارک

استقبالِ رمضان المبارک

قمری /اسلامی سال کا نواں مہینہ ’’ رمضان المبارک ‘‘ اہلِ ایمان کیلئے مبارک مہینہ ہے۔ کیونکہ یہ مہینہ خیر و برکت کا مہینہ ہے، شعبان المعظم کے مہینے سے ہی رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی دھوم مچ جاتی ہے۔ رحمتوں کی بارش شروع ہونے ہی کو ہے۔اب امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ اس بابرکت مہینے کی تمام فیوض و برکات کو سمیٹے ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم کا ارشادِ پاک ہے: ’’ رمضان صبر کا مہینہ ہے اور بے شک صبر کرنے والوں کو ہی ان کا ثواب بغیر گنتی کے بھرپور دیا جاتا ہے۔‘‘حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور ارشاد ہے ، فرمایا: ’’ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔‘‘
یہ تو ہر مسلمان کے علم میں ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ نزولِ قرآن کا مہینہ ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ،صبر کا مہینہ، ایک دوسرے سے خیر خواہی کا مہینہ ، جنت میں داخل اور جہنم سے آزادی کا مہینہ، ماہ صیام ساری دنیا کے مسلمانوں کیلئے ذکر و فکر، تلاوت قرآن پاک و نوافل، صدقہ و خیرات گویا ہر قسم کی عبادت کا ایک موسمِ بہار ہے جس سے دنیا کا ہر مسلمان اپنے اپنے ایمان و تقویٰ کے مطابق حصہ پاتا ہے۔
حضور انور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ میری اُمت کو رمضان المبارک میں پانچ باتیں عطا کی گئی ہیں جو پہلے کسی بھی اُمت کو عطا نہیں ہوئیں۔
۱۔ روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
۲۔ رمضان میں متکبر شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں۔
۳۔ فرشتے روزہ دار کے لیے افطار تک دعائے مغفرت کرتے ہیں۔
۴ رمضان میں ہر روز اللہ تبارک و تعالیٰ جنت کو آراستہ کرتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ جلد میرے بندوں پر سے تکلیف اور کمزوری دور ہو جائے گی۔
۵۔ رمضان کی آخری رات میں سب روزہ داروں کو بخش دیا جاتا ہے۔
اس مہینے کے استقبال کی بہتر صورت یہی ہے کہ ہم اس میںوہ عمل کریں جو ہمیں اللہ رب العزت اور حضورِ پُرنور صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم کے ذریعے ملا ہے۔ کیونکہ سرکارِ دو عالم احمد مصطفیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم روزوں کے ساتھ ساتھ نماز ، تراویح، اور دیگر عبادات کا بھی بے حد اہتمام کیا کرتے تھے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم نے فرمایا: جب رمضان شریف شروع ہوتا ہے تو آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ ایک اور روایت آپ ہی سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : روزہ کے سوا ابن آدم کا ہر عمل اس کیلئے ہوتا ہے اور روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دینے والا ہوں ، روزہ ڈھال ہوگا، اور جب تم میں سے کوئی بھی روزہ سے ہو تو وہ نہ شور و غل کرے اور نہ ہی برائی کی باتیں کرے ، اگر کوئی شخص یا منکر روزے دار کو گالی دے تو وہ اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے روزے دار کے منہ کی بدبو اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ محبوبیت کا حامل ہے ۔ روزہ دار کیلئے کئی خوشیاں ہیں جن میں سرفہرست ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت وہ اپنے روزہ کی وجہ سے ہوگا۔ ﴿بخاری شریف۱/۹۵۲﴾
سحری کرنا خود ایک سنت عمل ہے اور کھجور اور پانی سے سحری کرنا بھی سنتوں میں شامل ہے ۔ کیونکہ کھجور سے سحری کرنے کی تو ہمارے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم نے ترغیب بھی دلائی ہے۔ سیدنا صائب دین یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم کا ارشاد ہے :’’کہ کھجور بہترین سحری ہے‘‘۔ سحری میں تاخیر کرنا افضل ہے جیسا کہ حدیثِ مبارکہ سے ظاہر ہے کہ حضرت سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزوں کو اللہ عز و جل محبوب رکھتا ہے۔ اول یہ کہ افطار میں جلدی اور دوم یہ کہ سحری میں تاخیر اور سوئم یہ کہ نماز ﴿کے قیام﴾ میں ہاتھ پر ہاتھ رکھنا۔ ﴿الترغیب والترہیب ، ص /۱۸﴾
عربی کی مشہور کتاب ’’ قاموس میں ’’ سحر ‘‘ کے سلسلے میں لکھا ہے کہ سحر ایسے کھانے کو کہتے ہیں جو صبح کے وقت کھایا جائے۔ فقہ حنفی کے پیشوا حضرت مولانا ملا علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، بعضوں کے نزدیک سحری کا وقت آدھی رات سے شروع ہو جاتا ہے۔ ﴿مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، صفحہ ۷۷۴﴾
حضرت سہیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم کا ارشادِ پاک ہے کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام باب ریان ہے ، اور قیامت کے روز روزہ دار اسی دروازے سے داخل ہوں گے ۔ روزہ دار کے علاوہ کوئی دوسرا اس دروازے سے داخل نہ سکے گا۔ اعلان ہوگا کہ کہاں ہیں روزہ دار؟ پھر روزہ دار کھڑے ہو جائیں گے ۔ روزے داروں کے گزر جانے کے بعد اس دروازے کو بند کر دیا جائے گا۔ ﴿بخاری ۱/۴۵۲﴾
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ جو مسلمان رمضان شریف میں ایک نفلی نیکی کرے گا تو اسے فرض کا ثواب ملے گا اور ایک فرض ادا کرنے سے اسے ستر فرائض کی ادائیگی کا ثواب حاصل ہوگا۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کی جزا جنت ہی ہے ۔ یہ مہینہ غم خواری اور غربائ پروری کا بھی ہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بھی بڑھا دیا جاتا ہے ۔ جو رمضان المبارک میں کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرانے میں پہل کرے گا تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور آگِ جہنم سے آزاد کر دیا جائے گا۔ جو روزے دار کو پیٹ بھر کر روزہ افطار کرائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ اسے حوضِ کوثر سے پانی پلائے گا اور وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسہ نہ ہوگا۔
سحری میں اس قدر تاخیر بھی نہ کریں کہ صبح صادق کا شک ہو جائے جیسا کہ اکثر لوگ صبح صادق کے بعد فجر کی اذانیں ہو رہی ہوتی ہیں مگر کھاتے پیتے ہیں ۔ اس طرح روزہ ہوتا ہی نہیں ہے اور سارا دن بھوک پیاس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔ روزہ بند کا تعلق اذانِ فجر سے ہے صبح صادق سے پہلے پہلے کھانا پینا بند کرنا ضروری ہے۔
جب غروب آفتاب کا یقین ہو جائے تو افطار کرنے میں دیر نہیں کرنا چاہیے ۔ بہتر یہ ہوگا کہ کھجور یا چھوہارہ یا پانی سے افطار کریں کہ یہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ سحر سے روزے کا آغاز ہو جاتا ہے لہٰذا صبح صادق کا کوئی لمحہ بھی کھانے پینے میں بسر نہ ہو یہاں تک کہ اگر روزہ دار سحری کر رہا ہے اتنے میں انتہائے سحر آ پہنچا لقمہ منہ میں ہو کہ صبح صادق کی ابتدائ ہوجائے تو وہ منہ والا لقمہ باہر نکال دے ورنہ روزہ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ جانے کا احتمال ہوگا۔ روزہ کے آغاز اور اختتامِ روزہ کے بارے میں واضح حکم موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ترجمہ: صبح صادق کے نمودار ہونے سے پہلے تک سحری کھانے میں تاخیر کرنا درست ہے مگر یہ ہرگز جائز نہیں کہ صبح صادق کا کوئی حصہ سحری کھانے میں بسر ہو جائے۔ اس طرح روزہ ابتدائ ہی میں فاسد ہو جائے گا۔ اور روزہ پورا ہونے کا بھی ہے کہ جب دن کا یقینی اختتام ہو جائے اور سورج غروب ہو جائے ۔
یہاں پر میں علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال، پنجاب کی بیان کردہ چند باتیں و حقائق درج کر رہا ہوں جو مومنوں کیلئے ضروری ہے کہ پڑھ لیں: جو لوگ غیر ضروری تاخیر کرنے والے ہیں جو ستارے روشن ہو جانے پر روزہ افطار کرتے ہیں انہیں حدیث یاد رکھنی چاہیئے کہ جو لوگ سحری کرنے میں جلدی کرتے ہیں انہیں افطار بھی سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ہی کرلینا چاہیئے۔خواب میں احتلام کی صورت میں روزہ نہیں ٹوٹنا ، کان میں دوائی ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، بغیر قصد کے قے یا الٹی ہو، اگرچہ بہت زیادہ روزہ نہ ٹوٹے گالیکن جان بوجھ کر منہ بھر قے کی تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ رات کو احتلام ہو یا بیوی سے ہم بستری کی غسل کا موقع نہ ملا تو اسی حالت میں وضو کرکے روزہ رکھ لے۔ بعد ازاں غسل کر لے اگر سار دن غسل نہ کیا تو روزہ ہو جائے گا البتہ جنبی رہنے اور نمازیں ترک کرنے کا گناہ کبیرہ ضرور لازم آئے گا۔ دورانِ روزہ عورت کو حیض آگیا تو روزہ جاتا رہا۔ اس کے لئے مستحب ہے کہ بقیہ دن افطار تک کچھ نہ کھائے پیئے۔ اگر کھانا پینا ہی ہو تو چھپ کر کھا پی لے۔ ایّامِ حیض کے روزوں کی قضا لازم ہے ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس مضمون میں کہیں کوئی کوتاہی، غلطی سر زد ہو گئی ہو تومجھے معاف فرمائے ۔ اور اس مہینے کی برکتوں کو حاصل کرنے کا مجھ سمیت ہم سب کو توفیق عطا فرمائے، اللہ عز و جل اس ماہ کے تمام عبادات کو حاصل کرنے کا شرف بخش دے، اس ماہ کے تمام فیوض و برکات سے ہمیں بہرمند فرمائے۔اور سب سے بڑھ کر ہمارے روزے، ہمارے عبادات کو قبول و منظور فرمائے۔ ﴿آمین ثم آمین﴾

یہ بھی پڑھیں  آج بدقسمتی سے دوقومی نظریہ کو مٹانے کی ناپاک کو شش کی جا رہی ہے ۔جمعیت علما پاکستان