تازہ ترینکالم

رمضان اور فنکار…..؟

zubairآج سے کچھ سال قبل رمضان المبارک کامہینہ آتاتھاتومیڈیاپربڑے بڑ ے علماسے علم حاصل کرنے کا موقع ملتاتھا اور بچے اوربڑوں کے علم اور دین میں اضافہ ہوتاتھا.میڈیانے جوں جوں
ترقی کی ہے علم اور علماء میڈیاسے غائب ہوتے جارہے ہیں ان علماء کی جگہ اب فنکارنذرآتے ہیں بلکہ اس سال تویکم رمضان سے ٹی وی چینلزپرایک دوسرے سے آگے جانے اوراپنی اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکرمیں علماء کوٹی وی اسکرین سے آوٹ کر دیا گیاہے اور اب علماء کی جگہ بڑے بڑے سیٹوں اور فنکاروں نے لے لی ہے۔اب توجب رمضان کی سحری یاافطار کی ٹراسمیشن کا آغاز ہوتاہے توسیٹ دیکھ کراندازہ ہی نہیں ہوتاکہ یہ سیٹ رمضان کی ٹراسمیشن کے سلسلے میں لگایاگیاہے یا عیدکی نشریات کیلے پروگرام کی میزبانی کیلے خاص طور پرگلوکاروں اور اداکاروں کاانتخاب کیاگیاہے۔جو ٹی وی پراسے بات کر رہے ہوتے ہیں جسے وہ فنکار یا اداکار نہیں بلکہ بہت بڑے عا لم ہوں۔ ان میں اکثر فنکاروں کادین سے علم نہ ہونے کے برابر ہے مگر وہ انتہائی ڈھٹائی سے دین کے متعلق گفتگو کر تے رہتے ہیں۔جس کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ذہنو ں میں دین کے حوالے سے غلط باتیں بھی صحیح سمجھ کر نقش ہورہی ہیں۔ کیو نکہ جہاں دین کا معاملہ آتا ہے وہاں بڑے بڑے علماء بھی تحقیق کے بغیر کسی سوال کا جواب نہیں دیتے مگر میزبان فنکار کے منہ جو آتاہے وہ بغیر تحقیق کے بول دیتا ہے مگر اس میں ان فنکاروں کاقصور ہر گزنہیں ہے بلکہ یہ قصور تو ان لوگوں کاہے جنہوں نے اداکاروں و فنکاروں کو عالم بنا کر ٹی وی پربٹھادیا ہے۔اب ایک اداکارکسی بھی فلم میں عالم کا کردارتوکرسکتاہے مگرحقیقت میں کبھی عالم نہیں بن سکتا.ایک مقامی چینل نے گلوکار کورمضان ٹرانسمیشنن کا میزبان بنادیادوسرے چینل نے ایک اداکارکے لیے ایک سیٹ لگا کے افطارٹرانسمیشن کا آگازکیابہت سے ڈانسر بھی اس دوڑمیں پیچھے نہں رہے وہ بھی کافی رمضان کے پروگرام کررہے ہیں.ایک ٹی وی چینل پرمذہبی اسکالرکوبھی فنکاروں کی ضرورت پرگئی پہلے فنکاروں کو سیاسی پروگراموں میں بھٹاکے سیاست کا مزاق بنایااوراب رمضان کا مزاق بنارہے ہیں ایک چینل پررمضان کی نشریات پر ایک ماڈل کو بلاکررمضان اوررمضان کے پروگرام کامزاق بنایا گیا.پیمرا کواس بات کا نوٹس لیناچاہیے تاکہ رمضان کے پروگراموں کا مزاق نہ اڑایا جاہے تاکہ علماء کو انکی اپنی جگہ ملے

یہ بھی پڑھیں  نااہل ہوں اس لئے الیکشن نہیں لڑ سکتا ، یوسف رضا گیلانی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker