تازہ ترینصابرمغلکالم

رمضان،شیطان اور حکمران

sabirماہ رمضان کا با برکت مہینہ تمام تر رحمتوں،برکتوں اور فضیلتوں کے ساتھ جاری ہے ،تمام مہینوں سے افضل اس ماہ میں نیک عمل کا ثواب دس سے 700گنا تک بڑھ جاتا ہے،ایک نماز کا ثواب ستر فرض نمازوں کے برابر ہے ۔حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ۔رمضان تمام مہینوں کا سردار ہے:۔رمضان المبارک کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس مہینے میں دنیا کی سب سے مقدس کتاب ۔قرآن مجید فرقان حمید نازل ہوئی،اس مہینے کی ایک رات (لیلۃ القدر )ہزار مہینے سے بہتر ہے اس مہینے میں روزہ جس کا اجر رب کریم نے اپنے ذمہ لیا ہے اس روزہ کا مطلب یہ ہرگز نہیں صرف بھوکا رہا جائے ،فاْقہ کشی کی جائے ،محض دکھاوا کیا جائے،حدیث مبارکہ ہے۔اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ اور غلط کاریوں سے نہیں بچتا تواس کا کھانا پینا چھوڑنے سے اللہ کو کوئی دلچسپی نہیں۔اہل ،سچے اور پکے مسلمان کے بارے میں تصور تک نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس مہینے میں اور وہ بھی روزہ کی حالت میں ۔بے ایمانی ،ملاوٹ ،لوٹ کھسوٹ ،ہیرا پھیری ،گراں فروشی جیسا گھٹیا کام کرے گا،اس ماہ مبارک میں تو شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے ،مساجد آباد ہو جاتی ہیں،سحری اور افطاری کے وقت عجب منظر ہوتا ہے،بارہ ماہ میں سے صرف اسی مہینے میں شیطان کو قید کر نے کی بات کی جاتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے روزے رکھنے،نمازیں پڑھنے،تلاوت کرنے اور مساجد میں تل دھرنے کی جگہ نہ ہونے کے باوجود ۔شیطان مردود۔بڑے طمطراق سے نظر آ رہا ہوتا ہے،یہ شیطان مہنگائی کو عروج پر لے جاتا ہے،ملاوٹ کے ریکارڈ تڑوا دیتا ہے،گراں فروشی کو آسماں کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے،بے ایمانی اور جھوٹ کو انتہاؤں تک پہنچا دیتا ہے،کیا عجب مذاق ہے اور وہ بھی ۔خالق کائنات ۔ کے ساتھ کہ ہاتھ میں تسبیح ہر وقت باوضو ،ماتھے پر محراب مگر بے ایمانی سب سے بڑھ کر،یہ جتنے بھی تاجر ہیں کیا ان میں کوئی عام آدمی بھی شامل ہے؟(بعض تاجر یا دکاندار ایسی منافقانہ یا بے ایمانہ سوچ نہیں رکھتے )یہی وہ لوگ ہیں جو اسی ماہ لاکھوں روپے زکواۃ بھی دیتے ہیں اور غرباء کا خون بھی نچوڑتے ہیں،ہونا تو یہ چاہئے کہ اس ماہ تمام تر اشیاء کی قیمتوں میں بغیر کسی حکومتی ڈر اور خوف کے نمایاں ترین کمی ہو جائز منافع لیا جائے جو ان کا حق ہے،یہاں شیطان نے تو کیا قید ہونا ہے شیطان کے باپ میدان میں نکل آتے ہیں،ماہ رمضان سے قبل ہی اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے،رمضان کے آخری عشرے میں لوگ بچوں کی معصومانہ خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش میں قرضوں کا سہارا لیتے ہیں بلکہ بعض تو مایوسی کے عالم میں موت تک کو گلے لگا لیتے ہیں،ویسے کوئی بات ہو تو ہم سے بڑھ کر کوئی مسلمان نہیں،کوئی ہمارے دین پر بات کر دے حتیٰ کہ ہمارے مسلک کے منافی کچھ سننے کو مل جائے تو ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں مگر جہاں قوت ایمانی کو مضبوط ہونا چاہئے وہاں ہم سے بڑھ کر ۔بے ایمان ہی کوئی نہیں،اس میں جہاں ہمارے حکمرانوں کا بہت بڑا عمل دخل ہے وہیں پیشہ ور ملاں اور بے دین گدی نشین بھی کسی طور بری الذمہ نہیں۔ اس سے بڑھ کر ظلم،بے شرمی اور لا دینیت کیا ہو سکتی ہے کہ ہمیں ماہ رمضان میں ۔رمضان بازار۔لگانے پڑتے ہیں جن پر چیک اینڈ بیلنس کے نام سے انتظامیہ کے درجنوں افراد کی تعیناتی،اربوں روپے کے سائن بورڈز اور اشتہاری مہم پر خرچ کرنے کے باوجود دنیا جہاں کی دو نمبر مصنوعات ہی وہاں فروخت ہوتی ہیں۔اگر ان نام نہاد رمضان بازاروں میں یہ عالم ہے تو ملک بھر کی باقی مارکیٹوں ،بازاروں اور تجارتی مراکز میں کیا حالت ہو گئی؟اسے گڈ گورنس کہتے ہیں یا اصل حکمرانی کا نام دیا جاتا ہے؟بانی پاکستان کے علاوہ آج تک ریاست پاکستان پر حکمرانی کرنے والے جتنے بھی افراد سامنے آئے سبھی نے عوام کی خدمت کے لئے بلند و باہنگ دعوے کئے مگر عوام کی حالت کو بدتر کرنے میں اس کا کردار شامل نہ ہو اس حوالے سے کسی ایک فرد کا نام بتا دیا جائے جس نے اسلامی اصولوں کے مطابق عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا ہو؟در حقیقت اس طبقے نے خود کو 95فیصد غریب طبقہ سے بالکل الگ کر رکھا ہے،ان کی منافقتوں،خباثتوں اور مقاصد کی سمت ۔ایک۔ہی ہے،ان شرفاء کے اذہان اور سوچ بہت آلودہ اور مکروہ ہے،لوگوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ جائے تو یہ افطار ڈنرز یا دہ یگر پارٹیوں میں مگن ہوتے ہیں،ستم یہ کہ ماتموں کے یہ ذمہ داران اور سوداگر ہر سانحہ کا ذمہ دار کسی دوسرے کو ٹھہرائیں گے اور جسے ٹھہرائیں گے خود ہو گے بھی اسی کے ساتھ ۔ان میں رتی برابر قرق نہیں یہ سب ایک ہیں شروع دن سے ایک ہیں اور ایک دوسرے کے مفادات کے اصل نگہبان اور رکھوالے،ویسے تو پاکستان میں انتخابات کے نام پر کھلواڑہ ہی کیا جاتا ہے مگر جو ووٹرز ہیں جن کے نام سے جن کی پرچی سے یہ محلات نشین ہوتے ہیں،انہیں سرکاری ہیلی کاپٹر اور جہاز ملتے ہیں،دنیا بھر کی مفت سیریں کرتے ہیں،ان کے کاروبار دنیا کے کونے کونے میں پھیل جاتے ہیں،ان کی اولادیں یورپ میں پلتی اور پڑھتی ہیں الیکشن کے وقت وہ لوگ ان کے ۔محرم ۔ہوتے ہیں اور جیسے ہی ان کے منتخب ہونے کی خبر سامنے آ تی ہیں وہی ۔محرم ۔ان کے منگوائے ہوئے ڈھولیچیوں کی تال پر ناچنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر ناچنا ہی ان کے نصیب میں کر دیا جا تا ہے اور جو نہ ناچے وہ ۔محرم سے مجرم۔بنا دیا جاتا ہے،ان حکمرانوں کی ترجیحات کیا ہیں؟آج تک کوئی نہیں سمجھ سکا،دنیا بھر میں پہلے مملکت کی آبادی کو جانچا جاتا ہے پھر ان کے مطابق بجٹ بنایا جاتا ہے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے نہ آبادی کا پتا ،نہ ان کی ضروریات کا علم،نہ ان کے دکھوں کا مداوا،نہ انہیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی کوشش،آئے روز بجٹ،آئے روز سرکاری طور مہنگائی کا اعلان،آئے روز طبقہ اشرافیہ کو مراعات کی خوشخبری،ہم نے ترقی کی کس میدان میں ہے؟کیا میٹرو یا موٹر ویز اور پلوں کی تعمیر سے ہماری تعلیمی حالت بہتر ہوئی؟نظام عدل درست ہوا؟غربت کا گراف نیچے آیا؟مہنگائی کو لگام دی جا سکی؟ہسپتال تمام سہولیات سے مزین ہیں؟ہماری سڑکیں اور شاہرائیں سفر کرنے کے قابل ہیں؟کیا ٹریفک حادثات کا تدارک کیا جا سکا؟ملاوٹ کا خاتمہ ہوا؟جعلی اور جاں لیواادویات کو ہم مارکیٹوں سے غائب کر پائے؟تھانہ کلچر بہتر ہوا؟ترقیاتی کاموں میں کمیشن ختم ہو گیا؟رشوت جیسی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا ہے؟کیمیکلز سے بنے دودھ اور مردہ گوشت کی فروخت بند ہو چکی ہے؟پبلک ٹرانسپورٹ اس قابل ہے کہ اس میں عام آدمی عزت سے سفر کر سکے؟پٹرول پمپس پر ملنے والے تیل کی کوالٹی اور پیمانہ ٹھیک ہے؟پولیس ناکوں پر با اثر افراد کی گاڑیوں کو چیک کیا جاتا ہے؟قومی اداروں کا گراف بہتر ہے؟سیلابی پانی سے عوام کو بچانے کے لئے اقدامات کر لئے گئے ہیں؟غربت کی شرح میں کتنی کمی واقع ہوئی ہے؟اندرونی گردشی قرضے ختم ہو گئے ہیں؟آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک سے سودی و غیر اسلامی قرضے حاصل کرنے کے لئے کشگول توڑ دیا گیا ہے یا اس کا سائز پہلے سے بھی بڑھ چکا ہے؟لوڈ شیڈنگ کا عذاب جس کے دعوے پر موجودہ حکومت قائم ہوئی تھی یہ آفت ہم سے ٹل گئی ہے؟تھرپارکر جہاں سینکڑوں انسان اورجانور موت کے منہ میں گئے وہاں کے بسنے والوں کو بنیادی سہولیات اب مہیا کر دی گی ہیں؟اب کراچی میں موت کا فرشتہ سایہ فگن ہے غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گرمی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث دو ہزار سے زائد افراد کو موت نگل چکی ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ،روشنیوں کے شہر کراچی کے قبرستانوں میں جگہ کم پڑچکی ہے ،جہاں جگہ ہے وہاں دفنانے کے لئے بھی ریٹس بڑھا دئے گئے ہیں،ایدھی سرد خانے کے ترجمان کے مطابق آج تک اتنی میتیں نہیں لائی گئیں ،یہاں بھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ جاری ہے،ہر سیاسی جماعت کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے ،اب اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے مطابق کراچی میں ہونے والی اموات کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے اور وفاقی حکومت نے ادائیگی نہ کرنے پر کے الیکٹرک کو نوٹس بھجوا دیا ہے،جہاں آج بے گناہ ،غریب ،لاچار،بے بس ،مجبور دفن ہو رہے ہیں وہاں تو ایسی حکومتوں کو دفن ہونا چاہئے جو عوام کو پانی تک فراہم کرنے میں ناکام رہیں،ماہ رمضان میں ایک طرف عبادت ہی عبادت دوسری طرف شیطان نما تاجروں کی شیطانیت اور تیسری جانب حکمرانوں کی شاہکاریاں ۔نہ جانے کیوں بد اعمال لوگوں کا عذاب غریب عوام پر کیوں ہے؟؟؟

یہ بھی پڑھیں  کیلیفورنیا : طیاروں کے حادثے میں تمام افراد ہلاک ہوگئے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker