تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

رمضان المبارک نیکیوں کا مو سمِ بہار

رمضان المبا رک کی آمد آمد ہے۔ اہل ایما ن کے دل خو شیوں سے لبر یز ہیں ۔ پو را سا ل اس ما ہ ِ مقد س کا انتظا ر کیا اور آ خر کا ر اللہ کر یم نے دوبارہ زندگی میں پھر نیکیوں کا یہ سیزن عطا کر ہی دیا۔ رمضا ن کا مہینہ رو زہ داروں کے لیے نیکیوں کا مو سم ِ بہا ر ہے۔ اس ما ہ مقد س میں ایک نیکی کا اجر کئی گنا زیا دہ کر دیا جا تاہے۔ اور روزہ کا اجر خو د اللہ پا ک عطا کر تے ہے۔مو من کا رزق اس ماہ بڑھا دیا جاتا ہے ۔روزہ کے روحا نی اجروفوائد کے سا تھ جسما نی فو ائد بھی بہت زیا دہ ہیں ۔ روزہ کئی امر اض سے بچا تا ہے ۔کئی مریض جو ادویا ت یا مختلف معا لجوں سے ما یو س ہو جا تے ہیں ۔ اس مقدس عمل یعنی روزہ رکھنے سے ان کے امر اض ختم ہو جا تے ہیں۔ان کا تذکرہ آگے چل کر کر و ں گا ۔
روزہ ایک اہم فرض ہے جس کا پورا کرنا ہر مسلمان بالغ پر لازم آتا ہے ۔اسلام کا ایک اہم رکن ہے ۔روزہ جسمانی عبادات میں سے ہے ۔اللہ پاک نے فرمایامومن کو دو موقع پر سب سے زیادہ خوشی ہوتی ہے ایک روزہ کی افطاری کے وقت اور دوسری جب جنتی لوگوں کو میں اپنا دیدار کرواوں گا ۔
قر آن مجید جیسا زندہ جا و ید معجزہ جو پندرہ سو سا ل گزرنے کے با و جو د دنیا بھر کے غیر مسلم اسکا لر وں، دانشوروں اور سا ئنسدانوںکے لیے چیلنچ بنا ہو ا ہے اور وہ اس کی کی صدا قت ما ننے پر مجبو ر ہیں۔ یہ قر آن مجید بھی اس ماہ مقد س میں نا زل ہوا ۔ ار شاد خدا وندی ہے۔
تر جمہ ۔ رمضا ن وہ مہینہ ہے جس میں قر آن اتا را گیا اس میں لو گوں کے لیے ہدا یت اور ﴿حق و با طل میں ﴾فر ق کر نے وا لی نشا نیا ں ہیں۔ پس جسے یہ مہینہ میسر آئے اس چا ہیے کہ اس میں روزے رکھے ۔ ﴿البقرۃ:۵۸۱﴾
اس ما ہ مقد س میں مسلمان رضا ئے الٰہی کے لیے تما م جا ئز خو ا ہشا ت اور حلا ل نعمتیں بھی طلو ع فجر سے لے کر غر وب آ فتا ب تک چھو ڑ دیتا ہے ۔ اسلا می اصطلاح میں اس چیز کا نا م روزہ ہے۔ ما لدا ر مسلما ن اس ما مقد س میں زکوٰۃ کے علا وہ صدا قا ت و خیر ات میں اپنا ما ل غر با ئ و مسا کین پر خر چ کر تے ہیں ۔ کو نین کے تا جدار تو اس مہینہ میں کسی آند ھی سے بھی بڑ ھ کر تیز ی سے خر چ کر تے تھے۔ آ پ اور آپ کے صحا بہ کر ا م کے صدقا ت و خیر ا ت اگر چہ عا م دنوں میں بھی اپنی مثا ل آ پ ہو ا کر تے تھے لیکن اس ما ہ میں ان میں بے پنا ہ اضا فہ ہو جا تا ہے۔ سا را دن بھو کے پیا سے رہ کر اپنا ما ل خر چ کر نے وا لے ، رات کو آرام کر نے کی بجا ئے نما ز تر وا یح کا اہتما م کر تے ہیں ۔ رات گئے تما م نما ز میں کھڑے ہو کر قر آ ن سنتے ہیں۔ اس ما ہ مقد س میں ہر نفل کا اجر فر ض کے بر ابر ہو جا تاہے۔ اسی طر ح ہر فر ض کا اجر ستر فر ا ئض کے بر ابر ہو جا تا ہے۔ یہ اسی ما ہ مقد س کی بر کت ہے کہ خدا وند قد و س مسلمانوں کے لیے نیکیوں کی لو ٹ سیل لگا دیتا ہے۔ اور مسلما ن اس سیل سے وا قعتا نیکیاں لو ٹ لے جا تے ہیں ۔ حد یث قد سی ہے۔
َِِْْْْْْْْ﴿انسان کے ہر عمل کا ایک مقر ر ثوا ب ہے لیکن رو زہ میر ے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا ﴾
ما لک کا ئنا ت اپنے فر شتوں کو رو زے کا ثو ا ب لکھنے سے منع فر ما دیتے ہیں ۔ ہم خا لق و ما لک سے اس کی اعلیٰ شا ن کے مطا بق عمدہ اجر کی تو قع رکھتے ہیں۔ اسی طر ح پیغمبر آخر الزما ں ار شا د فر تے ہیں۔ تر جمہ ۔ اے نیکیوں کو چا ہنے والے آگے بڑھ اور اے بر ا ئیو ں کے طلبگا ر رک جا ۔
ما ہ مقدس بخشش کا مہینہ ہے۔ اس میں جنت کے دروازے کھو ل دیئے جا تے ہیں۔ اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جا تے ہیں رمضا ن المبا ر ک کے بے پنا ہ فیو ض و بر کا ت اس کے عظیم مقصد کی نشا ندہی کر تے ہیں۔ خا لق کا ئنا ت اس کا مقصد حصو ل تقو یٰ ہی وہ بنیا دی اسا س ہے جسے اللہ تعا لیٰ جملہ اسلا می عبا دات کا ما حصل قر ا ر دیتے ہیں۔ ارشا د با ری تعا لیٰ ہے۔
تر جمہ، اے ایما ن وا لوں تم پر روزے فر ض کئے گئے ہیں جس طر ح کہ تم سے پہلی امتوں پر فر ض کئے گئے تا کہ تم پر ہیز گا ر بن جا ئو ۔
اسی طر ح ار شا د با ری تعا لیٰ ہے۔ تر جمہ ۔ یعنی اللہ تعا لیٰ کو تمہا ری قر با نیوں کے گو شت اور خو ن نہیں پہنچتے بلکہ اسے تو تمہا را تقو یٰ پہنچتا ہے۔
تقو یٰ اس خلو ص کو کہتے ہیں جس کے تحت کو ئی نیکی کی جا تی ہے۔ اللہ تعا لیٰ اسی خلو ص کا قد ردان ہے۔ حضر ت عمر (رض) تقویٰ کے با رے میں فر ما تے ہیں کہ تقو یٰ اس کیفیت کا نا م ہے جس میں ایک مسا فر تنگ اور دشوار گزار ، کا نٹو ں سے بھر پو ر راستہ سے گز ر تے ہو ئے اپنے کپڑوں کو بچا تا ہے۔ اس لحا ظ سے تقو یٰ دنیا میں بر ا ئیوں اور گنا ہوں کے کا نٹوں سے دامن ایما ن کو بچا کر گز ر نے کا نا م ہے۔ اس لیے ارشا د نبوی ہے۔ کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے سے سوا ئے بھو ک پیا س کے کچھ حا صل نہیں ہو تا اور کتنے ہی قیا م کر نے وا لے ایسے ہیں جنہیں ان کے قیا م سے سوا ئے تھکا و ٹ کے کچھ حا صل نہیں ہو تا ۔ روزہ کے مقصد کو نظر انداز کر کے روزے رکھنے وا لوں کے لیے کتنے نقصا ن کی با ت ہے کہ دن بھر کا روزہ اور رات کا قیا م بھی روزہ دار کو کچھ اجر نہ د لا سکے۔ رمضا ن المبا رک کا بنیا دی مقصد تقویٰ اور للہیت ہے۔ قر آن مجید میں اللہ تعا لیٰ متقین کی خصو صیا ت بیان فر ما تے ہیں۔ تر جمہ، یہ کتا ب وہ ہے کہ جس میں کو ئی شک و شبہ نہیں۔ اس میں متقی لو گو ں کے لیے ہدایت ہے جو غیب پر ایما ن لا تے ہیں اور نما ز قا ئم کر تے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خر چ کر تے ہیں اور جو کتاب آپ پر نا زل کی گئی ہے اور جو آپ سے پہلے نا زل کی گئیں ہیں ان پر ایما ن لا تے ہیں اور آ خر ت پر یقین رکھنے والے ہیں اس طر ح چھ بنیا دی خصو صیا ت سا منے آتی ہیں جنہیں انسان اپنے اندر پیدا کر کے رمضان المبا ک کے عظیم مقصد کو حا صل کر سکتا ہے۔ جو حسب ذیل ہیں۔
1۔غیب پر ایما ن ہیں 2۔نما ز کا قیا م 3۔دیئے گئے رزق میں سے خر چ 4۔خر چ پر ایما ن 5۔پہلی کتا بو ں پر ایمان 6۔آخر ت پر ایما ن ۔یعنی جا ایما ن ہیں اور دو اعما ل لیکن چا روں قسم کے ایما ن میسر آئے بغیر نما ز اور اتفاق فی سبیل اللہ میں مطلوبہ دینی روح کا ملنا نا ممکن ہے ۔ اسی طر ح اللہ تعا لیٰ جنت ، دوزخ ، فر شتے و غیر ہ ہما ری نظروں سے او جھل ہیں۔ جن پر صحیح طر ح ایما ن لا ئے بغیر یعنی ایمان با لغیب کے بغیر قر آن مجید اور پہلی کتا بو ں پر ایما ن لا نا ممکن نہیں ۔ اور نہ نما ز اور انفا ق فی سبیل اللہ ممکن دو سر ے لفظوں میں ایمان اور اعما ل مل کر تقویٰ کو پر وان چڑھا تے ہیں۔ اس بر ح ماہ صیا م میں ہر مومن مطلو بہ خو بیا ں پید ا کر کے تقو یٰ حا صل کر سکتا ہے۔ تقو یٰ کے متعلق ایک غلط فہمی دورکر نا بہت ضر وری ہے ۔ بعض لو گ تقو یٰ سے مر اد محض لمبی داڑھی ، لمبا چو غہ، خو بصو رت عما مہ ،سفید کپڑے اور او نچی شلو ار لیتے ہیں۔ حصو ل تقویٰ میں اگر چہ یہ ظا ہر ی اعما ل بھی سنگ میل رکھتے ہیں۔ تا ہم تقو یٰ کی تعر یف کر تے ہو ئے نبی کر یم نے اپنے دل کی طر ف اشا رہ کر کے فر ما یا تھا کہ تقو یٰ یہاں یعنی دل میں ہو تا ہے۔ رمضان المبا رک کی آمد معا شر تی، اخلا قی اور معا شی پہلوئوں کو دین کے مطا بق ڈھال کر ہما ری اصلا ح کر نا چا ہتی ہے ۔ نبی کر یم کا ارشا د ہے کہ جس نے روزہ رکھ کر جھوٹ بو لنا اور اس پر عمل کر نا نہ چھوڑا تو اللہ تعا لیخ کو کو ئی حا جت نہیں کہ وہ اپنا کھا نا پینا چھو ڑ دے اسی طر ح حسد، کینہ، بعض، عدا وت ، غیبت ، ذخیرہ اندوزی اور نا جا ئز منا فع خو ری جیسے عیو ب سے منع کیا ہے کیو نکہ ان تما اعما ل کا اثر معا شر تی تعلقات اور معا شی معا ملا ت پر پڑ تا ہے۔ اسلام مذکو رہ بر ا ئیوں کی اگر چہ با لعموم مذمت کر تا ہے۔ لیکن رمضان المبا رک میں انہیں تر ک کر نے کے لیے خصوصی تر غیب دیتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر جھو ٹ کا خا تمہ ہو جا ئے تو دیگر تما م برا ئیوں کا
خا تمہ آسان ہو جا تا ہے۔ معا شر تی تعلقات میں جتنا نقصان جھوٹ سے ہو تا ہے کسی اور برا ئی سے نہیں ہو تا ہے۔ مذکو رہ با لا اخلا قی بر ا ئیوں میں سے ذخیرہ اندوزی اور نا جا ئز منا فع خو ری معا شی خرا بیوں کی جڑیں ہیں۔ الغر ض اگر غو ر کر یں تو مذ کو رہ با لا تما م برا ئیا ں با ہم مر بو ط ہیں ۔ جو معا شر تی معا شی اور اخلا قی لحا ظ سے انسانی زندگی پر اثر انداز ہو تی ہے۔ رمضان المبا رک ان دنیا وی امو ر کو دین کے مطا بق ڈھال کر ہما ری آخر ت بچا نا چا ہتا ہے۔ کیو نکہ آخر ت کا دارو مدار دنیا وی امو ر پر ہے۔
رمضا ن المبا رک ہم سب کو اپنے محا سے کا درس دیتا ہے ۔ روزہ دار کے گنا ہو ں کی بخشش کے لیے اختسا ب کو لا ز می قر ار دیتا ہے سر ور کو نین حضر ت محمد کا ار شا د ہے کہ جس بے ایما ن اور احتساب کے سا تھ روزہ رکھا اس کے سا بقہ گنا ہ بخشش کے لیے احتسا ب کی اہمیت کو اجا گر کیا گیا ہے ۔ اجتما عی یا قو می احتسا ب کے لیے آغا ز خو د احتسا بی سے ہو تا ہے۔ آج و طن غر یز میں مو جو دہ بگا ڑ ، انفرا دی اور اجتما عی احتساب کا تقا ضہ کر تا ہے۔ و طن غر یز عد م احتساب کی وجہ سے کر پشن بد عنوانی اور ر شو ت کا خو فنا ک منظر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان امر ا ض کا حد سے بڑھنا قو مو ں کی اجتما عی مو ت پر منہج ہوا کر تاہے۔
رمضان المبا رک کی فیو ض بر کا ت سمیٹنے کے لیے اس چیز کی ضر و رت ہے کہ ہم وطن غز یز کی بقا اور سلا متی کی خا طر اللہ کے حضو ر سجدہ ریز ہو جا ئیں اور انفرا دی و اجتماعی طو ر پر احتساب کا عہدکر یں۔ اللہ سے دعا ئیں کر نے کی ضر ور ت ہے کہ وہ ہما رے اند ر احتسا بی روح پید ا کر دے۔ احتسا ب کے سا تھ اجتما عی تر قی کے لیے اٹھا ئے گئے قد م انقلا ب پر پا کر سکتے ہیں نفس عما رہ انسان کو بر ا ئی پر اکسا تا ہے ۔ اللہ تعا لیٰ رمضا ن کی بر کت سے با عی شیا طین کو قید کر ڈالتے ہیں۔ لیکن نفس عما رہ جو انسا ن کے اند مو جو د ہو تا ہے۔ اسی طر ح اند رہتاہے۔ اور برائی کی تر غیب دیتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ خطبہ جمعہ میں بھی دو مر تبہ نفس عما رہ سے اللہ کی پنا ہ ما نگا کر تے تھے نفس عما رہ اور خوا ہشا ت پر کنڑول کے لیے رمضان المبا رک بہتر ین مشق ہے ۔ انسان اللہ تعا لیٰ کی رضا اور خو شنودی کے لیے جا ئز اور حلا ل چیزیں تر ک کر دیتا ہے۔ اور یو ں حر ام چیز وں سے بدرجہ اتم بچنے کی عا دت پڑتی ہے ۔ روزہ تر بیت نفس اور ضبط نفس کا شا ندار مو قع فر ا ہم کر تا ہے۔ رمضا ن المبا رک کی بر کت سے اللہ تعالیٰ ہر سال انسان کی جسما نی وروحا نی مشینر کی ٹیو ننگ اور اوورہا لنگ کر تا رہتا ہے۔ انسانی نفس اگر بے قا بو ہو جا ئے اور انسان اس کے تا بع ہو کر چل پڑے تو حیوانوں سے بھی بد تر ہو جا تا ہے۔ اور شر ک جیسا نا قا بل معا فی جر م کر بیٹھتا ہے ۔ ار شا رد باری تعا لیٰ ہے۔ کیا تو نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خوا ہش نفس کو اپنا الہ بنا لیا ۔
دنیا کے تما م عظیم لو گوں کی کا میا بی کا راز نفس پر کنٹر و ل میں ہے۔ جبکہ نفس کا بے قا بو ہو جا نا سرا سر نقصان اور خسا رہ کا با عث ہے۔ رمضا ن المبا رک اللہ تعالیٰ کے فضل و کر م سے ہر سال سا یہ فگن ہو تا ہے۔ یہ عمل صد یوں سے جا ری و سا ری ہے۔ اس کے با ر بار آنے میں جو حکمت پو شیدہ ہے وہ یہی ہے کہ یہ ما ہ مقد س ہمیں ہر سال تجدید عہد کا درس دیتا ہے۔ ہم مسلما ن ہیں اور بحیثیت قو م اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ کا قا نون نا فذ کر نے کے پا بند ہیں۔ آیئے اپنے سا بقہ گنا ہو ں کی اللہ تعالیٰ سے تو بہ کر تے ہو ئے اس رمضا ن سے مثبت پیش رفت کا آغاز کر دیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ سے وقو ی امید ہے کہ اگر ہم ایما ن اور احتساب کا لحا ظ رکھتے ہو ئے عملی جدو جہد کا آ غا ز کر دیں تو اللہ تعالیٰ بھی رمضا ن المبا رک میں وہ رحمتیں نا زل فر ما ئے گا جو ہما رے و ہم گمان میں بھی نہ ہو ں گی۔ بصو رت دیگر رمضان المبا رک میں دکھا وے کے روزے اور راتوں کا قیام ہر گز کفا یت نہ کر گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ما ہ مقد س کی تما م نعمتوں کو بھر پو ر اندا ز سے سمیٹنے کی تو فیق عنا یت کر نے اور تما م بر ا ئیوں سے محفوظ رکھے۔
جسمانی و طبی فوائد کے لحاظ سے بھی روزہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے ۔روزہ رکھنے سے انسانی جسم میں کولیسٹرول کم ہو جاتا ہے جس سے امراض قلب اور ہائی بلڈ پریشر جیسے عوارضات سے نجات مل جاتی ہے ۔دل کے بند والو کھل جاتے ہیں ۔بلغمی مزاج اشخاص کے جسم سے رطوبات کم ہو جاتی ہیں جس سے رطوبتی امراض دور ہو جاتے ہیں ۔جسم میں فالتو رطوبتیں کم ہونے سے جوڑوں کے درد وں سے نجات مل جاتی ہے ۔بڑھا ہوا پیٹ اور موٹاپا جو کہ ایک پریشان کن مرض بن چکا ہے اس دور میں اس سے بھی نجات مل جاتی ہے ۔روزہ دار کے معدہ کے امراض ختم ہو جاتے ہیں ۔یورک ایسڈ کم ہو جاتا ہے ۔شوگر میں مبتلا افراد کے لیے روزہ ایک بہترین علاج ہے ۔اللہ ہمیں تما م روزے رکھنے کی تو فیق عطا فر ما ئے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker