شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / امتیاز علی شاکر / رمضان المبارک خاص احسان

رمضان المبارک خاص احسان

رمضان المبارک اپنی تمام تر رونقوں اور برکتوں کے ساتھ جلوہ افروز ہونے کو ہے ۔رمضان المبارک مسلمانوں کی روحانی اور جسمانی تربیت کا مہینہ ہے ‘جس کا ایک اک لمحہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرمے کے لیے صرف چاہئے ۔رمضان المبارک اعلیٰ اقسام کی غذائیں کھانے یا ڈھیر ساری شاپنگ کرنے کے لیے نازل نہیں ہوا بلکہ یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں سمیٹنے کے لیے ہے۔اگر یوں کہا جائے کہ رمضان المبارک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بخشنے کے لیے دین میں بہت سی آسانیاں فرمائی ہیں۔ ایسی ہی ایک نعمت ماہ رمضان کی صورت میں مسلمانوں کو عطا ہوئی جس میں خالق کائنات نے واضع کر دیا جو لوگ ماہ رمضان کے روزے احکام شریعت کے مطابق رکھیں اور تمام تر برائیوں بچے رہیں ان کے واستے دینا اورآخرت کی بھلائی اور بڑا اجر ہے اورجہیں اللہ کی ذات انام اجرسے نواز دے وہی نیک وکارلوگ ہیںاب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم لوگ ماہ رمضان میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں سے کس قدر فائدہ اٹھاتے ہیں ۔اللہ کے نیک بندوں کو مبارک ہو رمضان کا مہینہ ۔یوں تو ہم سب اس مہینے میں نیک ہوجاتے ہیں اور خصوصی طور پر اس ماہ کے روزوں کا اہتمام کرتے ہیں سب صبح سویرے اٹھتے ہیں سحری کھانے کے بعد نماز فجر کے لیے مسجدوں کا رخ کرتے ہیں ۔ پھر سارا دن بغیر کچھ کھائے پیئے ظہر،عصر کی نمازیں ادا کرتے ہیں اور شام کو اذان مغرب کے وقت جب افطاری کا وقت ہوتا تو بازاروں کے رنگ دیکھنے والے ہوتے ہیں سب کا دل یہی کر رہا ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام نعمتیں اپنے دسترخوان پر سجا لے۔کیا سارا دن بھوکے اور پیاسے رہنے کے بعد شام کو دو تین دن کے برابر کھانے کو روزہ کہتے ہیں ،کیا نماز اور باقی سارے اچھے کاموں کا حکم صرف رمضان کے مہینے کے لیے ہی ہے ۔ یا اس کے علاوہ باقی سال کے گیارہ مہینوں میں بھی کچھ ایسے ہی احکامات ہیں۔آئیے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام کے اندر روزے کے بارے کیا ارشادات ہیں اور ہماری دنیاوآخرت اورصحت پر اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں ۔روزے رکھنے سے بہت سے روحانی فوائد کے ساتھ ساتھ بہت سے جسمانی فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں طب جدید اور طب قدیم سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ روزہ جسمانی بیماریوں کو دور کرنے کا بہترین علاج ہے اور انسانی جسم کی اصلاح کے لیے بہترین نسخہ ہے ۔روزہ آہستہ آہستہ بھوک اور پیاس کی آنچ سے تمام اندرونی اور بیرونی فضلات کو جو بدن میں بے کار پڑے رہتے ہیں اور صحت کو برباد کر تے رہتے ہیں جلا کر نیست و نابود کر دیتا ہے تو بدنی صحت وتندرستی جیسی نعمت روزے کی بدولت حاصل ہوتی ہے جو کہ کسی اورذریعے سے میسر نہیں آتی اور روزہ شریعت میں اسے کہتے ہیں کہ انسان صبح صادق سے غروب آفتاب تک بہ نیت عبادت اپنے آپ کو قصداً کھانے پینے اور عمل زوجیت سے دور رکھے،اسلام کے جیسے اور احکام بتدریج ﴿وقفہ وقفہ سے﴾فرض کیے گئے ہیں اسی طرح روزہ کی فرضیت بھی بتدریج عائد کی گئی،نبی کریم(ص) نے ابتدا میں مسلمانوں کو صرف ہر مہینے تین دن کے روزے رکھنے کی ہدایت فرمائی تھی ،مگریہ روزے فرض نہ تھے ،پھر 2ہجری میں رمضان کے روزوں کا حکم قرآن کریم میں نازل ہواور سال میں ایک مہینے کے روزے رکھنا اسلام کا چوتھا رکن قرار پایا مگر اس میں اتنی رعایت رکھی گئی کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھنے کے باوجود روزہ نہ رکھنا چاہیں وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلادیا کریں۔بعد میں دوسرا حکم نازل ہوا اور عام لوگوں کے لیے یہ رعایت منسوخ کر دی گئی اور یہ رعایت صرف ان لوگوں کے حق میں باقی رکھی گئی جو روزہ رکھنے کو تو رکھ لیں لیکن بھوک پیاس کی برداشت ان پر دشوار ہو مشقت بہت اٹھانی پڑے مثلاً زیادہ بوڑھے مرد یا بوڑھی عورتیں یا حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوںکوخاص طورپر اس میںرعائت دی گئی ۔اسلامی روزے کی غرض وغایت قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ روزے خدا ترسی کی طاقت انسان کے اندر مستحکم کردیتے ہیں گرمی کا موسم ہے روزہ دار کو سخت پیاس لگی ہے مکان میں تنہا ہے کوئی ٹوکنے والا ہاتھ روکنے والا نہیں کوری صراحی میں صاف ستھرا نکھرا ہوا ٹھنڈا پانی اس کے سامنے موجود ہے مگر وہ پانی نہیں پیتاروزے دار کو سخت بھوک لگی ہوئی ہے بھوک کی وجہ سے جسم میں ضعف بھی محسوس کرتا ہے نفیس ذائقہ مرغن غذا میسر ہے کوئی اسے دیکھ بھی نہیں سکتا کسی کو کان و کان خبر نہ ہوگی مگر وہ کھانا نہیں کھاتا۔پیاری دل پسند بیوی گھر میں موجود ہے جہاں نہ خویش ہے نہ بیگانہ نہ اپنا نہ پرایا محبت کے جذبات اسے ابھارتے ہیں الفت نے دونوں کو ایک دوسرے کا شیدا بنا رکھا ہے لیکن روزے دار اس سے پہلو تہی اختیار کرتا ہے وجہ یہ ہے کہ خدا کے حکم کی عزت وعظمت اس کے دل میں اس قدر جاگزیں ہے کہ کوئی جذبہ بھی اس پر غالب نہیں آ سکتا اور روزہ ہی اس کے دل میں عظمت و جلال الٰہی قائم ہونے کا باعث ہوا ہے ،تو بات ثابت ہوئی کے جب ایک ایماندار آدمی خدا کے حکم کی وجہ سے جائز ،حلال پاکیزہ خواہشوں کو چھوڑ دینے کی عادت اپنا لیتا ہے تو بالضر ورخدا کے حکم کی وجہ سے حرام ،ناجائز اور گندی عادتوں اور خواہشوں کوچھوڑ دے گا اور ان کے ارتقاب کی کبھی جرات نہیں کرے گا ۔یہی وہ اخلاقی برتری ہے جس کا روزے دار کے اندر پیدا کرنا اسے مستحکم کر دینا شرع کا مقصود ہے ۔اسی لیے غیبت ،فحش زبانی اور بری باتوں اور تمام گناہوں سے روزے

یہ بھی پڑھیں  پرندے کی آزادی